مشہد مقدس کا قدیمی چہرہ
ہفتہ , 12/28/2019 - 11:53
مشہد مقدس

شہر کی حدود اور دروازے  :
مورخین کی کثیر تعداد نے لکھا ہے اور شواہد بھی اسی مطلب کی حکایت کرتے ہیں کہ:
۵۴۸ ہجری قمری میں طائفہ غز کی جانب سے پہنچنے والے نقصانات اور مغلوں کی تاخت و تاز کی وجہ سے طوس اور خراسان کے اطرافی علاقوں پر شدید مصیبتیں آن پڑیں اور ایران کاکچھ حصہ اِس ظالم قوم کے ہاتھوں غارت ہوگیا،اس یورش اور فتنے کے بعد تیمور لنگ کی جانب سے اس سرزمین کو نقصانات پہنچے،تیمور کا بیٹا شاہرخ جو اپنے باپ کے برعکس رحم دل شخص تھا اس نے طوس کے قلعہ’’باروی تابران‘‘ جو تاخت و تاز کی وجہ سے مکمل ویران ہو چکا تھا ،کی مرمت کا حکم دیا۔وہاں سے فرارہو کر حضرت امام رضا علیہ السلام کے جوار میں پناہ لینے والوں کو واپسی کا حکم دیا لیکن طوس کے رہنے والے حضرت امام رضا علیہ السلام کے جوار سے مأنوس ہوگئے تھے اس لیے طوس سے جانے پر راضی نہ ہوئے لہٰذا تقریباً ۸۰۸ ہجری قمری میں جب خواجہ سید میرزا(جو شاہرخ کی جانب سے طوس کی تعمیر پر مأمور تھے)نے لوگوں کے واپس لوٹنے سے کراہت کو دیکھا تو شاہرخ کے حکم سے ایک نئی حدود بنائیں اور ان میں آبادانی کے انتظامات کرنے لگے  اس وقت مشہدمقدس ایک شہر کی صورت اختیار کر چکا تھا روز بروز اس کی آبادی،رونق اور عظمت میں اضافہ ہونے لگا۔ تابران طوس اس وقت ویران ہو گیا اور پھر دوبارہ  آباد نہیں ہو سکا تھا۔
مشہد مقدس کی آخری حدود جس کے بعض آثار ابھی تک دیکھے جاسکتے ہیں،شاہ طہماسب بن شاہ اسماعیل صفوی کے دورِ حکومت میں  کھینچی گئیں جس میں ہر لحاظ سے شہر کی توسیع،رونق اور عظمت میں  اضافہ ہوا،شہر کی حفاظت کے لیے اس زمانے کی مناسب فوجی حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے برج اور مناسب خندقیں وغیرہ  بنائی گئیں۔ تینوں حدود اس طرح بنائی گئیں کہ ایک برج سے دوسرے برج کی حفاظت بھی ممکن ہو اور اس کی طرف تیر پھینکا جاسکے۔
حدود کی حصار کی محیط ایک فرسخ تھی جس میں ۱۴۱ برج اور چھ دروازے تھے جو وقت کے ساتھ تدریجا ًختم ہوگئے خندقیں بھی بھر گئیں اور شہر تمام جہات سے وسیع ہو گیا ہے۔

مشہد مقدس کا ارگ
ارگ حاکم کی اقامتگاہ کو کہتے ہیں جو شہر کے غربی جانب واقع تھی۔ اس اقامتگاہ کو خندق اور حصار سے محصور کیا گیا تھا۔اس کی دیوار کی حفاظت کے لیے اس کے سامنے مٹی کا تودہ جمع کیا گیاتھا۔ خندق کے بیرونی جانب دروازہ تھا جوایک پل پر ختم ہوتا تھا،حصار میں بھی کچھ دروازے اور گمراہ کنندہ مارپیچ راستے تھے دروازوں کو ارگ کی داخلی عمارت سے متصل کیا جاتا تھا۔یہ مارپیچ گمراہ کنندہ راستے دفاعی ٹکنیک کا حصہ تھے۔ارگ کے وسط میں باغ تھا اور اس باغ کے اطراف میں حاکم کا کورٹ اور اس کی رہائیو عمارت تھی۔ان عمارتوں میں سے کوئی بھی جلال،رونق اور لطافت نہیں رکھتی تھیں۔

باغ رضوان یا صحن رضوان:
سالوں قبل مشہد مقدس میں ایک  وسیع قبرستان تها جو قبرستانِ قتلگاه کے نام سے معروف تها، چند صدیوں سے اس شہر کے مرحومین اسی قبرستان میں دفن کیے جاتے تھے۔یہ قبرستان شہری آبادی کے مرکز یعنی روضہ ٔ مقدسہ ٔ رضویہ اور متبرکہ عمارات کے شمال میں واقع تھا اس قبرستان کا نام قتلگاہ ہونے کی درست علت معلوم نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جب ازبکوں نے خراسان پر تاخت و تاز کی اور مشہد مقدس کے لوگوں کا قتل عام کیا تو اس وقت مقتولین کی زیادہ تعداد اسی قبرستان میں دفن کی گئی اسی لیے یہ قبرستان قتلگاہ کے نام سے معروف ہوگیا۔ کتاب روضات کے مصنف نے اس مطلب کو اسی طرح لکھا ہے،لیکن بیہقی نے قتلگاہ نام کی علت کا واقعہ ازبکوں کے حملے سے کچھ صدیاں پہلے کے واقعہ کو  ذکر کیا ہے۔کتاب مشہد طوس میں ملتا ہے کہ اس قبرستان کے وسط میں ایک گھر تھا جو آج کل ’’تکیہ بکتاشاں‘‘ کے نام سے معروف ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ گھر وہی حمید بن قحطبہ کا گھر ہے جس میں حضرت امام رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء نے قیام فرمایا تھا،اس گھر کے ایک کمرے میں سبز رنگ کا پتھر ہے معروف ہے کہ حضرت نے اپنا شکم مبارک اس پتھر سے مس کیا تھا اور کمرے کی دیوار پر ایک سفید پتھر ہے جس پر حضرت کے پاؤں مبارک کے نشان ہیں یہ دونوں پتھر زیارت کے لیے ہیں،قبرستان قتلگاہ نہایت وسیع و عریض تھا اور اس میں علماء فضلا،عرفاء، اور اس شہر کے دوسرے  لوگوں کی بیشمار قبریں ہیں۔اس قبرستان کے مزارات میں سے ایک کتاب احتجاج اور مجمع البیان کے مصنف شیخ طوسیؒ کی قبر ہے۔

مشہد مقدس کی قدیمی قناتیں:
قدیمی سناباد جو موجودہ  مشہد مقدس کے شمال غربی علاقہ میں شہر نوقان کی چھوٹی آبادی پر مشتمل تھا اس میں ایک قنات تھی(قنات سے مرادزمین کے نیچے بنائے جانے والے پانی کے راستے ہیں) جو زرعی زمینوں اور باغوں کو سیراب کرتی تھی۔بیہقی اس قنات کے مظہرمیں کاریز مشہد کا نام لیتا ہے،جو سناباد کے ابتدا میں تھا جسے سراب کہا جاتا تھا ۔معروف ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے بدن مطہر کو سناباد کے اسی پانی سے غسل دیا گیا تھا اس وجہ سے یہ قنات لوگوں کے لیے نہایت قابل احترام تھی لوگ متبرک ہونے کے لیے اس کا پانی لے جایا کرتے تھے،یہ قناب حال حاضر میں خشک ہو چکی ہے۔
سید محمد کاظم امام  مشہد مقدس کی قناتوں سے متعلق اس طرح لکھتےہیں:قنات سناباد جو مشہد مقدس میں جاری ہے اس کا مظہر اور مجری ٰمحلہ سراب کے باغ عنبر میں ہے اورآستانہ کی موقوفات سے ہے اور واقف کی شرط کے مطابق اس قنات کے پانی کا کچھ حصہ ہمیشہ آستانے کےزائرین کی مہمان نوازی کے لیے معین شدہ مہمانخانے میں آنا چاہیے،اس قنات کی مکمل ملکیت آستانہ ٔمقدسہ کے لیے وقف ہے۔اس شہر میں جاری باقی قناتیں اسی محلہ سراب سے جاری ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں:
ـ قنات قلج خانی
ـ قنات ممیش خانی
ـ قنات محمد ولی خان سردار
ـ قنات رکن آباد
ـ قنات سلسبیل
لیکن چشمہ گیلاس(گلسب)کا پانی اور گلستان کے ڈیم کا پانی خیابان علیا سے داخل ہوتا ہے اور خیابان سفلی کی طرف جاری ہو جاتا ہے۔مشہد مقدس میں پانی جمع کرنے کے لیے اچھے  اور زیادہ مقدار میں پانی کے ذخائر بنائے گئے۔

مشہد مقدس کے خیابان کا پانی
اس پانی کا منبع چشمۂ گلسب ہے جو چشمۂ گیلاس کے نام سے مشہور ہے ، اس پانی کی نہر کو خیابان(روڈ) کی نہر کہتے ہیں۔
یہ چشمہ ہزار مسجد نامی پہاڑی سلسلہ کے دامن میں واقع ہے جو مشہدمقدس کے شمال کی ہموار زمین کا سلسلہ ہے،یہ چشمہ دریا کے ساحل کے بائیں جانب ڈیڑھ فرسخ اور مشہد مقدس کے شمال مغربی جانب سات فرسخ پر موجود ہے ، اس چشمہ کا پانی کسی وقت شہر طوس میں آتا تھا۔
اگرچہ اسکندر بیگ نے اپنی کتاب‘‘تاریخ آرائے عباسی’’ میں چشمۂٔ گلسب کے پانی کو مشہد مقدس تک منتقلی ۱۰۲۱ ھ۔ق شاہ عباس اول کے زمانے میں لکھی ہے لیکن بعض آگاہ مصنفین اور مورخین سے نقل ہوا ہے کہ شاہ عباس نے مشہد مقدس کے غرب اور شرق کی جانب روڈ نکالا تھا ،اور چشمۂ کی نہر اس کے وسط میں قرار دی تھی اور حال حاضر میں مذکورہ پانی مشہد مقدس کے شرقی جانب دو فرسخ کے فاصلے تک زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔بہرحال اس میں تردید اور شک کی گنجائش نہیں کہ امیر علی شیر نے چشمۂ گلسب کی نہر کو اس کے منبع سے مشہد مقدس کے شہر تک کھچا ہے لیکن مسلماً شاہ عباس نے بھی مذکورہ چشمے کی نہر کو روڈ کے وسط میں تمام مشہد مقدس کے مشرق سے مغرب تک جاری کرواتے ہوئے حرم مطہر کے صحن میں داخل کیا تھا۔اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں کہ در حقیقت اس نیک کام کے بانی امیر علی شیر تھے اور بعد میں شاہ عباس صفوی نے اس کی اصلاحات اور مزید بعد والے کام کروائے تھے شاہ عباس نے اس نہر کی حفاظت اور تعمیرات کے لیے کچھ املاک بھی وقف کی تھیں۔حال حاضر میں مذکورہ چشمہ اور اس سے متعلقہ زرعی اراضی آستان قدس رضوی کی موقوفات میں سے ہیں اور یہ چشمہ زرعی امور میں ممد و معاون ثابت ہو رہا ہے۔

ارگ اور بڑی نہر
ارگ شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہے بڑی سٹرکیں اور گلیاں شمال کے مغربی حصے سے شروع ہوتی ہیں اور جنوب کے مشرقی حصہ پر ختم ہوتی ہیں شہر کو ایک سیدھے خط سے دوحصوں میں تقسیم کرتی ہیں اس روڈ کے وسط سے ایک بڑی نہر عبور کرتی ہے جس کا پانی صاف نہیں در حقیقت اسے گندے پانی کی نہر کہا جاسکتا ہے۔یہ نہر ۵/۳میٹر عرض رکھتی ہے اور اس پر جگہ جگہ لوگوں کے عبور کرنے کے لیے پل بنائے گئے ہیں۔ اس نہر کے اطراف میں بہت زیادہ درخت کاشت کیے گئے ہیں جن میں نارون اور بید کے درخت زیادہ ہیں۔

مشہد مقدس کے قدیمی مدارس :
۱۔ مدرسہ نواب میرزا صالح  جو ایک بڑی عمارت ہے اور اس کے  لیےموقوفات بھی ہیں اس میں ۱۰ سے ۶۰ طالب علموں کے رہنے کا انتظام ہے۔
۲۔ مدرسہ حاجی حسین جس کے لیے کچھ دکانیں وقف ہیں اور اس کے طالب علم معدود اور انگشت شمار ہیں۔
۳۔ مدرسہ ملا محمد باقر جس کے لیے ایک کاروانسرا اور کچھ دکانیں وقف ہیں اس کے امورات نہایت منظم اور اس میں ۸۰ سے ۹۰ طالب علموں کی گنجائش ہے۔
۴۔ مدرسہ فاضل خان جس کے لیے بہت زیادہ املاک اور دکانیں وقف ہیں۔اس میں ایک عظیم لائبریری ہے جس کی قیمت اس زمانے میں سترہزار تومان تخمین لگائی گئی تھی۔
۵۔ مدرسہ ملا تاجی اس مدرسہ میں اس وقت کوئی طالب علم نہیں اور اس کی وقف شدہ جگہ ہی موجود ہے۔
۶۔ مدرسہ میرزا جعفر اس مدرسہ کو میرزا جعفر نامی شخص نے بنایا تھا جس نے ہندوستان میں مال و ثروت  کسب کی تھی۔مدرسہ میرزا جعفر کی عمارت نہایت ہی شاندار اور باشکوہ ہے اس کے لیے بھی بہت زیادہ املاک وقف ہیں اس میں ۵۰ سے ۶۰ طالب علموں کی گنجائش ہے۔(موجودہ زمانے میں یہ مدرسہ اسلامی رضوی یونیورسٹی کا ایک حصہ ہے۔مترجم)
۷۔مدرسہ سعد الدین یا مدرسہ پایین پا جو حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضہ منورہ کے پائینتی یعنی پاؤں کی جانب واقع ہے یہ مدرسہ بھی نہایت منظم ہے اس کے لیے  ایک حمام،چند دکانیں اور مزید کچھ املاک وقف ہیں اس میں ۵۰ طالب علموں کی گنجائش ہے۔
۸۔مدرسۂ بالاسر جو روضہ مبارکہ کےسرہانے کی جانب واقع ہے،یہ مدرسہ نہایت صاف   ہے اس کے لیے بھی کچھ املاک اور دکانیں وقف ہیں اس میں ۲۰ طالب علموں کی گنجائش ہے اس مدرسہ کو امیر تیمور کے بعض شاہزادوں نے تعمیر کروایاتھا۔
۹۔مدرسۂ پریزاد خانم چھوٹی عمارت پر مشتمل ہے۔یہ مدرسہ گوہر شاد آقا سے متعلقہ خانم نے اس وقت تعمیر کروایا جب گوہر شاد کی زوجہ مسجد گوہر شاد تعمیر کروا رہی تھی اس نے اس مدرسہ کے لیے موقوفات وقف کیں اس مدرسہ میں ۲۰ سے ۳۰ طالب علم  رہائش پذیر ہوسکتے ہیں۔
۱۰۔ مدرسۂ دو در  یہ مدرسہ بھی تیموری شاہزادوں کا تعمیر کیا ہوا مدرسہ ہے اور اس کے لیے بھی موقوفات ہیں۔
۱۱۔مدرسہ سلیمان خان اعتضاد الدولہ، موصوف کا شمار قاجاری امراء سے تھا اس مدرسہ کے لیے بھی موقوفات ہیں اور ۱۰ سے ۱۵ طالبعلم اس میں رہائش پذیر ہوسکتے ہیں۔
۱۲۔ مدرسۂ خیرات خان جس کی بڑی عمارت تھی جو اب خراب ہوچکی ہے ۱۵ سے ۲۰ طالبعلموں سے زیادہ کی اس میں گنجائش نہیں اس کی عمدہ موقوفات میں چند دکانیں ہیں۔(موجودہ زمانے میں یہ مدرسہ اسلامی رضوی یونیورسٹی کا ایک حصہ ہے۔مترجم)
۱۳۔ مدرسۂ عبدل خان جو اس وقت طالبعلموں سے خالی ہے کہا جاتا ہے کہ اس مدرسہ کے بانی نے کہا تھا کہ مدرسہ کے کمروں میں الماری نہیں بنائی جائے تاکہ طالب علم سستی اور کاہلی کا شکار نہ ہوں۔
۱۴۔مدرسۂ عباس قلی خان اس مدرسہ کا بانی طائفۂ شاملو سے تعلق رکھتا تھااس کی عمارت جامع اور مکمل  ہے اس کی بہت زیادہ موقوفات املاک،حمام اور دکانوں کی صورت میں ہیں۔
۱۵۔مدرسۂ حاجی رضوان جو زیادہ وسیع نہیں اس میں ۱۰ طالب علموں کی گنجائش ہے اس کی موقوفات میں چند دکانوں کے علاوہ ایک حمام ہے۔
دینی مدارس میں اسلام کے اصول دین(مذہب شیعہ کے اصول)،فلسفۂ ما بعد الطبیعہ(میٹافیزک)منطق،ریاضی اورنجوم وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں۔

مشہد مقدس کے قدیمی کاروانسرا:
۱۔ کاشانی
۲۔دررود
۳۔قزوین
۴۔سالار
۵۔ رضاقلی میرزا
۶۔ کومبرگ
۷۔ زنبور کچی
۸۔ بہادر خان
۹۔امام جمعہ
۱۰۔ گندم آباد
۱۱۔ زغال
۱۲۔ سلطان
۱۳۔ میر معین
۱۴۔ دار الزوار
۱۵۔ شاہ وردیخان
یہ آخری دونوں سنہ ایک ہزار اکانوے(۱۰۹۱) میں بنائے گئے۔

اہم الفاظ :