مشہد مقدس کی تاریخ
جمعہ , 12/27/2019 - 15:29
مشہد مقدس
گندم کے دانے سے انسان کی خلقت تک،دیوار سے لے کر عظیم شہروں تک ہر چیزکی خلقت میں حکمت اور رمزوراز ہوتے ہیں۔بعض شہروں کی مٹی اور خاک ان میں ترقی کا باعث بنتی ہے،بعض کی آب و ہوا،،بعض کی تجارت جبکہ مشہد مقدس عشق کی وجہ سے آباد ہے،جب آپ اس مقدس شہر میں قدم رکھیں تو اپنا خیال رکھیں کیںا اس شہر کی معنوی فضا کی تأثیر سے محروم نہ رہ جائیں۔

جب اس مقدس شہر کی یادوں میں داخل ہوں تو اس کی گردوغبار میں ایک سبز باغ ہے،جی ہاں حمید بن قحطبہ طائی کا باغ۔اس سے پہلے یہ سرزمنس بہت تنہا تھی پھر ایک الہٰی شخصیت نے آکر اس شہر کی تنہائی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر ڈالا۔یہاں جب بھی آپ اُداس ہوں تو بس کافی ہے کہ کہہ دیں:
السلام علیک یا علی بن موسی الرضا
مشہد تیسری صدی کے آغاز میں تشکیل پایا، ایک ایسے تلخ دن جب ایک ستارہ زمین پر گرا،رونے کی صدائیں بلند ہوئیں،جگر خون آلود ہوا،خورشید شہید ہو گیا۔
کچھ اس طرف طوس ہے۔ویران برجوں پر مشتمل ایسا شہر جس کی خاک پر ہمیشہ جلنے والی آتش اور ہمیشہ بہنے والا خون ہے۔ اب اس کے درمیان ایک قومی عظیم شاعر ’’فردوسی‘‘کی آرمگاہ ہے،فردوسی جو اپنی بلند آواز میں شاہنامہ کے ایک ایک کلمہ سے اس سرزمین کی دلیری، قومیت اورمحبت الوطنی کے نغمے گنگنا رہا ہے۔ تاریخی افسانوں میں ملتا ہے کہ طوس کے بنانے کا فرمان کیانی بادشاہ جمیشید نے دیا تھا اور تورانیوں کی خون ریزی سے یہ شہر ویران ہو گیا۔پھر خسرو شہریار کے سپہ سالار طوس نوذر نے اس شہر کی ترقی پر کمر ہمت ہاندھی اور اپنا نام اس شہر پر رکھا۔طوس نے ۹۰۰سال زندگی کی اور پھراختتام پذیر ہوا،اب اس کے جسم کا ذرہ ذرہ ویران ہورہا ہے اور اس کی دیواروں کی ویرانیوں میں سانپ اپنی کھال تبدیل کرتے ہیں۔

طوس کہاں ہے؟
طوس ایک شہر کا نام ہی نہیں بلکہ ایک وسیع و عریض سرزمین کا نام ہے جس میں کتنے ہی شہر آباد تھے جن میں نوغان اور طابران آباد ترین شہر تھے تاریخی اوراق میں ملتا ہے کہ یہ دونوں شہر آبادی کے ہزاروں قریوں پر مشتمل تھے۔تاریخ میں یہ بھی ملتا ہے کہ کبھی نوغان دیگر شہروں پر برتری رکھتا تھا تو کبھی طابران۔حال حاضر میں نوغان موجودہ شہر کے وسط میں واقع ہے اس کی گذشتہ سرنوشت کی فریادیں آج بھی اس کے میدانوں میں سنائی دیتی ہیں۔ طابران مشہد مقدس کے غربی جانب دوسوکلومیٹر کے فاصلہ پر واقع تھاجہاں آج بھی تاریخی قلعہ کی نیم ویران دیواریں موجود ہیں جنہیں لوگ قصر مأمون کے نام سے پکارتے ہیں اور بقعۂ ہارونیہ کے نام سے معروف عمارت بھی موجود ہے۔

تھکا،ہارا یزدگرد
ساسانی دور میں طوس حکومتی سطح پر تجارتی راستے میں تھا جو گرگان،نیشاپورسے مرو اور بلخ کی طرف جاتا تھا۔اس شہر کی حکومتی سطح پر شاہراہِ ابرایشم کے تجارتی راستے میں واقع ہونے کی وجہ سے رونق میں اضافہ ہوا۔
ساسانی دورِ حکومت کے آخری سالوں میں طوس ایران کے سرحدی شہروں میں اہم ترین شہر شمار ہوتا تھا۔
جب یزدگرد عرب سپاہیوں سے بھاگتا ہوا خراسان کے شہر طوس پہنچا تو اس نے طوس کے حاکم اور اپنے سرحدی محافظوں سے پناہ مانگی۔طوس کے حاکم کو علم تھا کہ طوس میں بادشاہ کی موجودگی مسلمانوں کی لشکر کشی کا باعث بنے گی لہٰذا اس نے بادشاہ کو یہ کہہ کر کہ شہر طوس بادشاہ کے شایان شان نہیں؛ اسے مغموم کردیا اور اس طرح وہ مرو کی جانب چلا گیا۔مرو کے حکمران نے بادشاہ یزدگرد کانہایت گرمجوشی سے استقبال کیا،یزدگرد نے آتے ہی مرو کے حکمران سے خراج کے بقایا جات کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام مالی ریکارڈ طلب کیا تومرو کے حکمران نے یزدگرد کو قتل کرنے کا منصوبہ بنالیا۔
یزدگرد فوجی تجہیزات اور محافظین کے بغیر فرار ہوگیا وہ بھوکا ،تھکا ہارا ایک پن چکی پر پناہ لیتا ہے۔چکی کا مالک جواہرات کے لالچ میں ۳۱ ہجری کو اسے قتل کردیتا ہے اور اس طرح ساسانیوں کی چار سو سالہ حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

اسلام کی صبح
طوس عثمان کے دور خلافت میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوتا ہے اور اس طرح اس سرزمین کے لوگوں کو آزادی کی ندا سنائی دیتی ہے۔۳۵ہجری کو خواجہ ربیع بن خثیم ۔۔جن کا شمار صدراسلام کے آٹھ زہاد اور تابعین(وہ لوگ جنہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی محفل کو درک کیا ہو انہیں تابعین کہا جاتا ہے)میں سے ہوتا تھا ۔۔نے طوس کی طرف ہجرت کی۔
خواجہ کا شمار حضرت علی علیہ السلام کے سالاروں اوراصحاب میں ہوتا تھا۔وہ اپنے رشتہ دار معاویہ کے انحرافات اور سلطنت کو نہیں دیکھ سکتا تھا لہٰذامأیوس اورپریشان ہو کر اس علاقہ میں آیا اور یہاں کے لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام کی ولایت، محبت اور ان سے عشق کا درس دینے لگا ۔حضرت علی علیہ السلام کے اس صحابی کا انتقال ۶۱ قمری کو ہوا۔
بنی امیہ کی تاریک اور تلخ حکومت ایرانی کمانڈرابومسلم خراسانی کے ہاتھوں ختم ہوئی،عباسیوں نے جوکہ فریبکار، مکار، دھوکہ باز اور فتنہ گر تھے ، اس جوان سردار کو مہمان بلا کر قتل کر ڈالا اور اس طرح ابو مسلم کا سرخ خون ہمیشہ کے لیے تاریخ کے سینے میں جذب ہوگیا۔

آسمان کا زمین پر آنا
عباسی حکمرانوں کا ظلم و جور اور بے لیاقتی خراسان کے مظلوم لوگوں کی حریت طلبی کی تحریکوں کا باعث بنی اور انھوں نے آزادی کا نعرہ لگاتے ہوئے بغاوتوں کا پرچم بلند کیا ،آشوب اس قدر وسعت اختیار کر گیا کہ ۱۸۹ ھ۔ق کو ہارون الرشید خود اس فریاد کو کچلنے کے لیے مملکت کے مشرقی حصے کی طرف نکلا۔
خراسان کے فرصت طلب حکمران علی بن عیسیٰ نے گرفتار ہونے والے خراسان کے لوگوں کی عصمت دری کرنے کے بعد ان کے گوشت کے لوتھڑوں اور ہڈیوں کو کو ہارون کے لیے تحفہ کے طور پر اپنے ساتھ لیااور رے پہنچا۔ہارون نے خوش ہو کر اسے خراسان کے لوگوں پر ظلم کرنے کےلیے وہاں کا مستقل حاکم مقرر کردیا لیکن ایک سال گذرنے کے بعد جب شورش اور فتنوں نے تمام حدود کو پار کردیا تو ہارون نے اسے اس منصب سے ہٹا دیا اور خود ۱۹۲ ھ۔ق میں مکمل طور پر امنیت برقرار کرنے کے لیے خراسان کی طرف نکلا ۔با ر کے موقع پر جب پھولوں کی خوشبو اور بارشںں طوس کے صحرا کو روند رہی تھیں اور شمالی ہوائیں جسموں کوچھیدتی ہوئی گذر رہی تھیں ،ہارون شدید بیماری کی خستہ حالت میں طوس پہنچا۔ اس کی بیماری شدت اختیار کر گئی، اس طرح ہارون زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا اور سناباد میں واقع حمید بن قحطبہ کے محل کےباغ میں مدفون ہوا۔
یہ محل اس زمانے میں طوس کے انقلابات کا مرکز تھا۔مامون نے شیعوں کی حمایت حاصل کرنے اور طویل المدت حکومت کرنے کی غرض سے حضرت امام رضا علیہ السلام کو ولایتعہدی قبول کرنے کے لیے مجبور کیا اور۱۰ شوال ۲۰۱ ہجری کو مدینہ سے مرو منتقل کیا۔ حضرت امام رضا علیہ السلام مرو کی جانب اپنے سفر کے دوران حمید بن قحطبہ کے اسی باغ میں قیام پذیر ہوئے۔مأمون نے سیاستمدانہ انداز میں حکم دیا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کا نام گرامی خطبات میں لیا جائے اور حضرت کے نام مبارک کا سکہ بھی جاری کیا۔ڈیڑھ سال حوادث سے بھرے پر طلاطم ایام گذرنے کے بعد مأمون نے حضرت امام رضا علیہ السلام کو اپنے ہمراہ لیا اور مروسے بغداد کو کوچ کیا۔
مأمون نے سب سے پہلے سرخس میں اپنے چالاک وزیر فضل بن سہل کو قتل کرڈالا پھر جب طوس پہنچا تو نوغان میں قیام کیا اور مختصر مدت ہی میں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء کو شہید کر دیا۔
حضرت کو ان کے والد بزرگوار کے قاتل کے قریب دفنادیا گیا جہاں حضرت کے زائرین نے آکر ان کے جوار میں رہائش اختیار کرنا شروع کردی اور اس طرح مشہد مقدس کے ابتدائی مرکز کی بنیاد پڑی۔

سامانی ۔ حرم مطہر کو آباد کرنے والا پہلا حکمران گروہ
بنی امیہ اور بنی عباس کی پلید حکومتوں کے بعد سامانیوں کے دورِ حکومت میں طوس دوبارہ ویرانی سے باہر نکلا اور تاریخ کے سنہرے اوراق میں ایک آباد شہر کے عنوان سے چمکا۔
سب سے پہلے ابو منصور محمد بن عبد الرزاق طوسی جو طوس شہر کا حکمران تھا اور کنارنگ کے عنوان سے شہرت رکھتا تھا؛ نے مشہد مقدس کی ترقی کے لیے قدم اٹھایا۔
سرزمین ایران کے نامور شاعر فردوسی کی جوانی کے ایام میں پہلا شاہنامہ منثورطور پر اسی حکمران کے فرمان پر طابران شہر میں لکھا گیا۔فردوسی نے اپنے شاہنامے کے دیباچہ میں ایرانی نسل سے تعلق رکھنے والے اس شخص کا نہایت محترمانہ الفاظ میں ذکر کیا ہے:
یکی پهلوان بود دهقان نژاد
دلیر و بزرگ و خردمند و راد
شیخ صدوق نے امیر ابو منصور کی زبانی لکھا ہے:
’’میں اپنی جوانی کے ایام میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر اور مشہد مقدس پر عقیدہ نہیں رکھتا تھا اور کبھی تو اس نورانی حرم کے محترم زائرین کے لیے مزاحمت بھی ایجاد کیا کرتا تھا کہ ایک دن میں ہرن کے شکار کی غرض سے نکلا تھا میں نے جس ہرن کا پیچھا کیا اس نے حرم مطہر کی دیوار کے قریب آکر پناہ لے لی۔میں نے اس ہرن کی تعقیب کے لیےجس شکاری حیوان کو چھوڑا تھا وہ حیوان حرم مطہر کی دیوار کے قریب جا کر رک گیا ۔ ہرن روضہ اقدس میں داخل ہو ا لیکن جب میں اس کے پیچھے حرم میں داخل ہوا تو مجھے وہ ہرن کہیں نہیں ملا۔میں نے اس دن سے خداوندمتعال سے یہ عہد کیا کہ میں حضرت کے زائرین کو تکلیف نہیں پہنچاؤں گا اور حضرت کے حرم مطہر کا تعمیراتی کام کرواؤں گا۔اس دن کے بعد جب بھی میرے لیے کوئی مشکل پیش آتی تو میں حضرت کے حرم مطہر زیارت کے لیے مشرف ہوتا اور اپنی حاجت کا تقاضا کرتا،جیسا کہ میں نے حضرت سے بیٹے کا تقاضا کیا تو حضرت نے میری حاجت روائی فرمائی‘‘۔
امیر منصور کے بعد بھی دوسرے سامانی حکمرانوں نے حضرت کے حرم مطہر کا احترام برقرار رکھا۔

غزنوی
تاریخی تصاویر میں ایک بادشاہ جاتا ہے تو دوسرا بادشاہ اس کی جگہ تخت نشین ہوتا ہے،سلطان محمد کے دورِ حکومت میں طوس شہر فوجی اور تجارتی اہمیت کی وجہ سے خاص توجہ کا مرکز رہا تھا۔ سلطان محمود کے دور حکومت میں طوس شہر کے حکمران الفسوری بن معتز نے حرم مطہر کے لیے سب سے پہلا مناہر تعمیر کروایا،سناباد کی قنات جو خشک ہوچکی تھی اس کا تعمیراتی کام کروایا، آفتاب خراسان کے زائرین کی اقامت کے لیے کاروانسرا بنوایا جہاں دور دراز سے آنے والے حضرت کےزائرین آرام کرتے تھے ۔

سلاجقہ سے ایرانی سرخ خون تک
جب سلطان سنجرجوان بخت تخت پر بیٹھا تو مشہد مقدس کی پہلی دیواریں کھینچی گئیں۔ اس کی وجہ ۵۱۰ ہجری قمری میں مشہد مقدس کے علویوں کی طابران طوس شہر کے فقہا میں سے ایک کے ساتھ جنگ تھی۔طوس شہر کے باسیوں نے اپنی ننگی تلواروں سے مشہد مقدس پر دھاوا بول دیا اور مشہد مقدس میں کچھ لوگوں کو شہید کردیا۔عضد الدین فرامرز علی نے مشہد مقدس کے گرد دیوار تعمیر کروائی۔وہ شیعہ مذہب سے تعلق رکھنے والا ایرانی النسل تھا۔ اس کی سلجوقی سلاطین میں خاص موقعیت ابھی تک تاریخ کی نگاہوں کو مبو ت کیے ہوئے ہے۔
اس نے مشہد مقدس کی ترقی کے لیے نہایت کوششیں کیں،اسی کے زمانے میں حضرت کے بقعہ پر گنبد تعمیر کروایا گیا۔ سلطان سنجر کی بہن کے بیٹے ترکان زمرد ملک نے حرم مطہر کے اطراف کو نفیس سنجری ٹائیلوں سے ۵۱۲ھ۔ق میں آراستہ کروایا ۔ حضرت کے سر اقدس کی جانب مسجدبھی اسی کے زمانے میں تعمیر ہوئی۔
سادات میں سے علویوں کے بعد وہ سادات جو حضرت امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد اس شہر میں آباد ہوئے، ان میں موسوی (کاظمی)سادات سب سے مقدّم ہیں۔ وہ مغوضں کے حملے کے بعد سب سے زیادہ مشہد مقدس کی ترقی میں مؤثر ثابت ہوئے۔اس زمانے میں ہر شہر کے سادات اپنے امور انجام دینے کے لیے اپنے بزرگ کا انتخاب کرتے تھے،اس شخص کا مشہور لقب ’’نقیب‘‘ ہوتا تھا۔مشہد مقدس میں اسی نقیب کی موجودگی کی وجہ سے مغلوں نے اس قدر قتل وغارت کے بعد مشہد مقدس کو ویران کرنے سے اجتناب کیا،چند ادوار میں انہیں نقباء نے مشہد مقدس پر حکومت کی۔

مشہد مقدس شاہرخ اور گوہر شاد(تیموریوں)کے ہاتھوں میں
تیموریوں کے دور حکومت میں مشہد مقدس کا شمار خراسان کے کم اہمیت شہروں میں ہوتا تھا،لیکن جب طابران طوس تیمور کے بیٹے میرانشاہ کے ہاتھوں تباہ وبرباد ہوا اور وہاں کی اکثریت آباد ی قتل عام ہو گئی تو اس وقت مشہد مقدس کو آبادی کے اعتباد سے طوس کی مرکزیت مل گئی۔
طابران کے باسیوں نے مشہد مقدس کی طرف ہجرت کرنا شروع کر دی۔۸۰۹ ھ۔ق میں جب تیمور کے بیٹے شاہرخ کو حکومت ملی تو اس نے پہلے اپنے بیٹے الغ بیگ اور پھر بایسنقر کا بالترتیب مشہد مقدس کی مرکزیت میں غربی خراسان کے حکمران کے طور پر تقرر کیا اور اس نے اس شہر کی رونق اور ترقی کے لیے مناسب اقدامات کا آغاز کیا ۔خود شاہرخ کی حکومت کا دارالحکومت ہرات تھا،جبکہ سمرقند(ماوراء النہر کی حکومت کا دارالحکومت)اور مشہد مقدس اس کی حکومت میں اہم ترین شہر تھے۔
شاہرخ نے مشہد مقدس میں چار باغ تعمیر کروائے،چاروں باغ خراسان کی حکومت کے مرکز اور در حقیقت حکومتی محل سے متعلق تھے۔شاہرخ کے ان اقدامات کے دوران اس کی زوجہ گوہر شاد نے مشہد مقدس میں ایک عظیم اور شاندار جامع مسجد(گوہر شاد) تعمیر کروائی۔ ہنر اور آرٹ کاذوق رکھنے والے اس خاندان نے اس مقدس شہر میں اپنے اچھے اور خوبصورت آثار چھوڑے۔
شاہرخ اور اس کے بیٹوں کی مشہد مقدس پر خاص توجہ کی وجہ اس شہر کی آبادی میں اضافے اور نویں صدی کے اختتام پر پانی کی قلت کے خاتمے کا باعث بنی۔امیر علی شیر نوائی نے جن کے پاس ٹیکنیکل امور کی وزارت تھی سلطان حسین بایقرا کے ذاتی اخراجات پر گلسب (جواس دور میں گیلاس کے نام سے معروف ہے)کا پانی مشہد مقدس منتقل کرنے کے لیے طابران طوس کے غربی جانب سے چند فرسخ نہر کھدوائی۔
امیرعلی کے اس اقدام سے نہ صرف مشہد مقدس سے پانی کی قلت برطرف ہوئی بلکہ یہ اقدام اس مقدس شہر کی ترقی اور بعد والی دو صدیوں میں اس شہر کی وسعت کا بھی باعث بنا۔

صفویہ
ازبکوں کی غارتگری کا کیا بیان ہو خراسان میں ان کی تلواروں کے خوف سے سونا بھی دشوار ہو گیا تھا۔۹۴۰ سے ۹۴۲ ھ۔ق تک شاہ طہماسب نے مشہد مقدس کی جدیددیواریں تعمیر کروائیں۔یہ دیوار ۹ کلومیرگ طویل تھی اور اس طرح اس نے چند سال کے لیے مشہد مقدس کے لوگوں کو امنیت فراہم کردی۔شاہ طماکسب شاہ اسماعیل کا بیٹا بادشاہ صفویہ کی ترتیب میں دوسرا بادشاہ تھا۔
شاہ طمارسب کے دوسرے اقدامات میں سے ایک اہم اقدام حضرت امام رضا علیہ السلام کے گنبد کی طلا کاری تھی جو تاریخ اسلام میں ایک جدید اور پرکشش اقدام تھا۔

سلطان خراسان کی قدم بوسی کے لیے شاہ عباس کا پیدل سفر
شاہ عباس مشہد مقدس میں متولد ہوا اور اسی شہر میں پلا بڑھا۔۹۹۵ ہجری قمری میں مشہد مقدس کے کوہسنگی علاقے میں بادشاہت کا تاج سر پر رکھا۔اس نے مشہد مقدس کو ازبکوں کے ۱۰ سالہ قبضے سے آزاد کروایا اور اس شہر پر خاص توجہ دی۔۱۰۱۰ہجری قمری کو اصفہان سے پیدل مشہد مقدس زیارت کے لیے مشرّف ہوا۔اس کے اہم ترین اقدامات میں سے مشہد مقدس کے غرب سے شرق تک تقریباً تین کلومیر پر مشتمل خیابان تعمیر کروانا تھا ۔غرب اور شرق کی جانب دو دروازے تعمیر کروائے جن پر بالائے خیابان اور پائین خیابان کا نام رکھا ان خیابانوں کے اندر ایک نہر کھدوائی جس میں چشمۂ گلسب کا پانی جاری کروایا جسے اس سے پہلے امیر علی شیر نے مشہد مقدس منتقل کروایا تھا اس کے علاوہ اس نے پانی کی ایک نئی قنات بھی کھدوائی جس میں اسی نہر کا پانی اس شرط پر جاری کیا کہ جب تک یہ پانی پائین خیابان کے دروازے سے باہر نہیں چلا جاتا کوئی بھی ا سے اپنی زراعت وغیرہ کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔
اس روڈ کی تعمیر سے مشہد مقدس کی صورت مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ پانی نے اس شہر کی آبادی کی سہولیات میں اضافہ کردیا اور آئندہ ایک سو پچاس سال نادر شاہ بادشاہ کے دور حکومت تک اس شہر کی توسیع کو ممکن بنا دیا۔شاہ عباس نے ۱۰۲۳ ہجری قمری کو اس پانی کی حفاظت کے لیے موقوفات مخصوص کردیں۔
شاہ عباس کے فرمان پر خواجہ ربیع کے مقبرہ کی دوبارہ تعمیر ہوئی اس کی حکومت کے کچھ دوسرے افراد نے بھی مشہد مقدس میں عام لوگوں کی سہولیات کے لیے کچھ عام المنفعت تعمیرات کروائیں جن میں مہدی قلی بیگ میر آخوند کے غسل خانے کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے جو‘‘ شاہ کا غسل خانہ’’ کے نام سے مشہور ہوا۔مہدی قلی بیگ فوجی کمانڈرتھا اس نے مشہور و معروف گنبد اللہ وردی خان تعمیر کروایا اور اب اللہ وردی خان خود بھی اسی گنبد کے نیچے ہی مدفون ہے۔مشہد مقدس شاہ عباس اور اس کے حکومتی کارندوں کی بدولت ممتاز شہروں میں تبدیل ہو گیا۔گنبد سبز اور پیر پلاندوز جیسےمذہب شیعہ کےعرفا کے مقبروں پر اسی زمانے میں گنبد تعمیر کروائے گے۔
صرف گیارہویں صدی کے وسط میں تقریباً دس بڑے مدارس جن میں سے ہر ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتا تھامشہد مقدس میں تعمیر کروائے گئے۔شہری سہولیات میں اضافے اور مدارس کی تعمیر سے مشہد مقدس کی تعلیمی سطح بڑھ گئی اور یہ شہر ملک کے تعلیمی قطب میں تبدیل ہو گیا۔

محمود سیستانی کی حکومت سے نادر تک
بارہویں صدی کے اواسط تک مشہد مقدس دوسرے قدیمی شہروں کے برخلاف ارگ(شہر کا اندرونی قلعہ)سے محروم تھا۔یہ قلعے عام طور پر شہر کے وسط میں یا کنارے پر بنائے جاتے تھے اور ان میں حکمران اور اس کے تحت فرمان فوجی قیام کیا کرتے تھے۔ ہر شہر کا قلعہ دفاعی اعتبار سےشہر کا قلب شمار ہوتا تھا اور سب سے آخر میں اسی جگہ پر دشمن سے مقابلہ کیا جاتا تھا۔مشہد مقدس میں حرجت امام رضا علیہ السلام کا نورانی حرم اس شہر کے قلب اور دفاعی قلعہ کی حیثیت رکھای تھانویں صدی کے آغاز میں مشہد مقدس حکومتی شہر بن گیا۔ شاہرخ نے اس میں حکام کی استراحت کے لیے چار باغ تعمیر کروائے تھے۔صفویہ دور کے اختتام پر افغانیوں نے حملہ کردیا۔ملک محمود سیستانی نے مشہد مقدس کو اپنے قبضے میں لے لیا۔وہ مشہد مقدس میں ناامنی کا احساس کرتا تھا اسی وجہ سے اس نے دو سالوں یعنی ۱۱۳۵ اور ۱۱۳۶ میں دروازہ سراب کی جانب قلعہ تعمیر کروایا جونہی صفوی فوجی کمانڈرز مشہد مقدس پہنچے وہ اپنا تمام مال و اسباب لے کر اس قلعہ میں پناہ گزین ہوا۔
نادر قلی بیگ نے جو ابیورد کا حکمران تھا شاہ طہماسب کی مدد سے مشہد مقدس کو ملک محمود کے جنگل سے آزاد کروایا اور خود خراسان پر حکومت کرنے لگا۔افغانیوں کو باہر نکالنے کے بعد جب وہ حکومت کی مسند پر بیٹھا تو اس نے مشہد مقدس کو اپنی حکومت کا مرکز بنایا۔
نادر کا خاندان مشہد مقدس میں رہتا تھا اسی وجہ سے تمام حکومتی دستورات اسی شہر سے جاری ہوتے تھے،یہ شہر ملک کا مرکز تھا۔ نادرشاہ کے اپنے شایان شان دارالحکومت کی ضرورت تھی لہٰذا اس نے اصفہان کی طرح چار باغوں میں ایک جدید عمارت’’ھشت بہشت‘‘کے نام سے تعمیر کروائی۔اس عمارت کی تعمیر اور مشہد مقدس کی آبادی میں اضافے کے بعد اس مقدس شہر میں پانی کی شدید مشکل پیدا ہوگئی۔نادر نے بندِ گلستان کے پانی کو مشہد مقدس،چار باغات اور حرم مطہر میں منتقل کیا اور اس کے بعد مشہد مقدس کی دیواروں کو مضبوط کروایا۔

مشہد مقدس بے دفاع شہر
تیرہویں صدی کے ابتدائی پچاس سالوں میں خراسان کے علاقائی حکام نے سرکشی شروع کردی۔دوسری جانب ایران سے ہرات کی جدائی اور افغانستان کے نام سے ایک متقل ملک کی تأسیس،ازبکوں کے منظم اور ترکمانوں کے غیر منظم حملات اور غارت گری جو کہ خراسان میں ایک موروثی شغل بن گئی تھی؛ یہ دونوں عوامل خراسان کی پسماندگی کا باعث بن گئے،انہی دلائل کی بنا پرمشہد مقدس کو زیادہ ترقی کی فرصت نہ ملی۔
ایران کے ولیعہد عباس میرزا جو اس وقت حرم مطہر میں مدفون ہیں،خراسان کے حکمران مقرر ہوئے،انہوں نے قاجاری قلعہ کی مرمت کروائی اور اس کو توسیع دی۔
ایران میں بجلی کا پہلا کارخانہ۱۲۷۹ شمسی ہجری میں مظفرالدین شاہ کے دستور پر روس سے آٹھ ہزار تومان کی قیمت پر خریداری کر کےآستان قدس رضوی کو تقدیم کیا گیا۔ بالائے خیابان کی ایک گلی (جو چراغ برق کے نام سے معروف ہوئی)میں وہ کارخانہ نصب ہوا۔
ایوان طلا پر مظفر الدین شاہ کی ارادت اور عقیدت کو ایک شعر کی صورت میں اس طرح سے منقش کیا گیا:
شهی که شمع حریمش فروغ مشعل و ماه
چراغچی سزد او را مظفر الدین شاه
۱۲۹۴ شمسی ہجری میں خراسان کاحکمران نیّر الدولہ جو’’پانی کا ذخیرہ‘‘کےعنوان سے مشہور ہوا ،نےایران میں پانی کے پائپوں کا سسٹم پہلی مرتبہ مسجد گوہر شاد کے لیے وقف کیا۔
۱۲۹۹ ہجری قمری میں ایران اور روس کے درمیان ہونے والی قراردار’’آخال‘‘کے تحت مشہد مقدس پر ترکمانوں کے حملہ کے خطرات میں کمی آئی لہٰذا مشہد مقدس کے لوگوں کو قلعے کی دیوار سے باہر گھر تعمیر کروانے کی سہولیت میسر ہوئی۔
چودھویں صدی ہجری قمری کے اوئل میں یہ واقعات سنجیدگی سے رونما ہوئے اور شہر کے جنوبی سمت سے کوہسنگی تک تمام جگہ رہائشی علاقے میں تبدیل ہو گئی۔

آج کا مشہد مقدس
خراسان میں امنیت فراہم ہوتے ہی مشہد مقدس ترقی کرنے لگا اور ایک بار پھر پانی کی قلت سے روبرو ہوا۔مصباح السلطنہ نےطوس کے دشتوں میں سے ایک زیادہ پانی والے علاقے یعنی گناباد کے دیہات میں جو مشہد مقدس کے شمال غربی جانب مشہور چشمۂ گلسب کی ہمسائگیس میں واقع ہے، پانی کی چند قناتیں (انڈر گرانڈ پانی کی چھوٹی نہریں) کھدوائیں اور ان قناتوں کے پانی کو ایک نہر کے ذریعہ کوہسنگی تک منقتل کیا۔اس نہر میں جو ’’جوئے اسدی‘‘یا’’آب گناباد‘‘کے نام سے معروف تھی تقریبا۸۰ سال تک پانی رہا۔
مشہد مقدس کے لوگوں نے بھی تمام ایرانی عوام کے ساتھ ظالم حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کی اور اپنے خون کے قطرات سے اس انقلاب کو کامیابی تک پہنچایا۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مشہد مقدس کی زیارتی اور ثقافتی فضاؤں میں اضافہ ہوا۔اب آپ کو تنہا چھوڑتا ہوں، گذشتہ سے آج تک کی تاریخ کا یہ ایک اچھا سفر تھا۔
اور آج مشہد مقدس ایک ترقی یافتہ شہر ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور شہری سہولیات کے ساتھ حضرت امام رضا علیہ السلام کے زائرین کی مہمان نوازی کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
 

اہم الفاظ :