معاشرتی خصوصیات
ہفتہ , 12/28/2019 - 10:48
مشہد

الف ـ آبادی:
۱۳۵۵ھ۔ش کی عمومی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی۱۴۲/۰۹۷/۱ افراد پر مشتمل تھی اور پھر ۱۳۶۵ ھ۔ش کی مردم شماری کے مطابق۳۸۸/۰۳۸/۲ نفوس تک جا پہنچی اس طرح سے  ہر مربع کلومیٹر پر ۷۴ افراد کا محاسبہ کیا گیاہے۔
نادر شاہ بادشاہ کے زمانِ حکومت سے پہلے مشہد مقدس کے ساکنین کی درست تعداد نہیں ملتی،نادر شاہ کے دورِ حکومت میں مشہد مقدس دارالحکومت شمار ہوتا تھا اور خود نادرشاہ کو اس شہر کی ترقی میں دلچسپی تھی اس زمانے میں اس شہر کے ساکنین کی تعداد تقریباً ۶۰۰۰۰ افراد لکھی گئی ہے۔کتاب ’’بستان السیام‘‘کے مصنف اپنی کتاب جو ۱۲۴۸ھ۔ق میں لکھی گئی ہے؛ مشہد مقدس کے ذیل میں اس شہر میں  تقریباً چھ ہزار گھر شمار کرتے  ہیں۔ناصر الدین شاہ قاجار کے دورِ حکومت میں مشہد مقدس کی باقاعدہ  مردم شماری کی گئی؛ایک مخصوص کتابچہ میں اس شہر کے ساکنین کی تعداد ۵۸۲۸۷ افراد اور گھروں کی تعداد میں ۷۶۶۷ گھرموجود ہیں ۔
ادارۂ احصائیہ نے ۱۳۰۷ھ۔ش میں مشہد مقدس کی آبادی تقریباً ۱۳۰۰۰۰ نفوس لکھی ہے۔ مردم شماری کے مرکزی ادارہ’’ادارہ کل آمار و ثبت احوال‘‘نے ۱۰آبان۱۳۱۹ھ ۔ ش کو مشہد مقدس کی مردم شماری کے مطابق نفوس کی تعداد ۱۷۶۴۷۱ افراد بیان کی ہے۔
’’فرہنگ جغرافیای ایران‘‘نامی کتاب جو’’دایرهٔ جغرافیای ارتش‘‘نے چھپوائی ہے اس میں لکھا ہے:مردم شماری کے’’ادارۂ آمار‘‘کی رپورٹ کے مطابق ۱۳۲۸ شمسی میں مشہد مقدس کی آبادی۲۰۶۹۰۰ افراد پر مشتمل تھی۔’’مرکزآمار ایران‘‘کے نشریہ نمبر۱ کے مطابق۱۰ آبان ۱۳۴۵ شمسی کی مردم شماری کے مطابق مشہد مقدس کی کل آبادی ۴۰۹۲۸۱ افراد پر مشتمل تھی جن میں سے ۲۱۱۳۸۶ مرد،۱۹۷۸۹۵ خواتین اور ۸۷۳۲۱ خاندان تھے۔

ب ـ قوم،مذہب اور زبان:
مشہد مقدس زیادہ تاریخی قدمت نہیں رکھتا،زیارتی شہر ہونے کی وجہ سے تقریباً ایران کے اطراف و اکناف اور ایران کے باہر سے مختلف اقوام اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں آ کر ساکن ہو گئے اور آپس میں میل ملاپ برقرار کرنے لگے ،انقلابات اور اہم واقعات کی وجہ سے بھی ان میں بہت بڑی تبدیلیاں آئیں اسی وجہ سے اس شہر کے ساکنین کسی مخصوص قوم اور قبیلہ سے متعلق نہیں،اس شہر کے ساکنین کی زبان لہجہ میں مختصر اختلاف کے باوجود فارسی ہے۔ اس شہر میں ایران کے مختلف مقامات  سےبلکہ برصغیر،افغانستان اور عربستان سے باشندوں کی رفت و آمد سے اس شہر کے بعض باشندے افغانی،عربی اور ترکی زبانوں سے بھی آشنا ہوگئے۔
مشہد مقدس کے لوگ،سفید آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں لیکن میل ملاپ کی وجہ سے ان میں عرب،مغل اور ترک نسلیں بھی پائی جاتی  ہیں جو تقریباً مسلمان اور شیعہ اثنا عشری ہیں،مذہبی اقلیتوں میں ارمنی اوریہودی  لوگ مسلمانوں  کے ساتھ  نہایت  ہی صلح و محبت سے  مل جل  کر رہتے ہیں۔
تہران،طبرسی،حضرت کے سر مبارک کی جانب’’بالا خیابان‘‘اور حضرت کے پاؤں مبارک کی جانب’’پائین خیابان‘‘ایسے چارخیابان(روڈ) ہیں جن کے درمیان  میں حضرت امام رضا علیہ السلام کا آستانہ مقدس ہے،ان چاروں خیابانوں نے قدیم اصلی مشہد شہر کے مرکز میں ایک جمع کی علامت کی  سی صورت اختیار کر رکھی ہے۔اس جگہ شہر کے اصلی اورقدیمی مشہدی  لوگ حضرت کی زیارت کی خاطر آنے والے زائرین کے ساتھ  ایسا مجموعہ  تشکیل دیتے ہیں جو اس مقدس شہر کو کامل کرتا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ مشہد مقدس اپنی خاص موقعیت کی بنا پر(شمال اور شمال کے مشرقی جانب سے ملک کی سرحدوں سے مجاورت)قدیم الایام سے اب تک ہمیشہ گوناگون اقوام  وطوائف کا مرکز رہا ہے  جو مختلف نسلوں اور زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ شہر اپنی خاص طبیعی موقعیت کی وجہ سے قدیم  ہی سے ایک اہم ارتباطی پل کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا مشہد مقدس کے لوگ کسی خاص نسل سے تعلق نہیں رکھتے۔

ج ـ آداب ورسومات:
مشہد مقدس کے لوگوں میں بہت سے آداب اور رسومات رائج تھیں جو رفتہ رفتہ ختم ہو گئیں یا پھر تبدیل ہو گئیں۔
الف)مشہد مقدس کے لوگوں کے بعض اعتقادات:
۱۔ جو بھی ہفتے کے دن پیاز کھائے گا وہ دولتمند ہو جائے گا۔
۲۔جو بھی جمعرات کو کھانے پینے کی اشیاءخرید کر گھر لے جائے گویا وہ برکت کو اپنے گھر لے گیا ہے۔
۳۔ سفید گھوڑے کو سوتے ہوئے خواب میں یا بیداری کی حالت میں دیکھار’’مراد‘‘ہے۔
ب) مشہد مقدس اور اس کے اطراف میں رائج ضرب المثل
۱۔’’اشتر بہ قطار مردم رنگینہ‘‘یعنی اونٹھ قطار کو رنگین کرتا ہے۔
۲۔’’اطلس کهنه مِرَه اما پِتَوَه نَمِرَه‘‘یعنی اطلس(اصلی ریشمی کپڑا) جس قدر بھی پرانا ہوجائے پھٹے گانہیں ۔
۳۔’’تا کدخدای ده مرغبی بشہ، ده چہ رسوائی بشہ‘‘یعنی جب تک گاؤں کی سربراہی مرغابی کو حاصل ہو اس گاؤں کی کیا رسوائی ہو گی۔
ج) مشہد مقدس کے دیہاتوں میں’’بارزان خواھی‘‘کے مراسم
اگر زیادہ عرصہ تک بارش نہ ہوتی یا قھط ہو جاتا،بچے بلند لکڑیاں ہاتھ میں لے کر اس پر کپڑا باندھ کر گلیوں میں گھماتے اور بارش کے لیے مخصوص اشعار پڑھتے۔یہی مراسم بارشوں کی فراوانی اور سیلاب کے وقت بھی انجام دئے جاتے تھے۔

اہم الفاظ :