مشہد مقدس کا قدیمی شہر اور اس کے قبرستان
جمعرات , 12/26/2019 - 18:32
مشهد

حسین رسول زادہ پیشے کے اعتبار سے ایک معمولی دکاندار ’’ بقالی‘‘ یعنی روز مرہ گھریلو استعمال کی اجناس فروخت کرنے والا شخص ہے ۔اور اس کی دکان پر ’’خوار بار فروشی‘‘ کا ایک بورڈ لگا ہوا ہے۔اس کی دکان چند بڑی سپر مارکٹوں کے ساتھ ہے اور یہی چیز  اس کی دکان کو احساس کمتری  اور اداسی بخشتی ہے۔
چند لمحات اس سے گفتگو کے لیے کھڑے ہوئے تو وہ  اپنی دکان سے باہر آتا ہے جیسا کہ وہ سالوں سے اسی انتظار میں تھا کہ کوئی آکر اس سے  مشہد مقدس  کے قدیمی کے شہر کے متعلق سوالات کرے۔
وہ میدان طبرسی کےہجوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے مشہدی لب و   لہجہ میں کہتا ہے اب یہاں سب جگہ بازار بن چکا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے (یہ کہتے ہوئے وہ حرم مطہر کی جانب رخ کرتا ہے اور ایسی جگہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ہوٹلوں کی کثرت میں گم ہو چکی  تھی )یہاں پر قبرستان تھایہیں ’’سیاوون‘‘والی گلی سے خود حرم مطہر تک قبرستان تھا میں نے خود تو نہیں دیکھا لیکن میرے والد کہتے تھے کہ اس ساری جگہ پر قبرستان تھا وہ جب چھوٹے تھے تو اس قبرستان میں کھیلا کرتے تھے اسے قبرستان’’قتلگاہ‘‘کہتے تھے۔مجھے نہیں معلوم کہ اسے قتلگاہ کیوں کہتے تھے لیکن قدیم سے اس کا یہی نام تھا۔
پھر وہ اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :ایک قبرستان پائین خیابان کے شروع میں تھا اور ایک کوچہ عیدگاہ میں بھی تھا ان دونوں کو میں نے خود دیکھا ہے۔پہلے تو کچھ فاصلے پر ایک کونے میں ایک قبرستان ہوا کرتا تھا لیکن  ابھی فقط بہشت حضرت امام رضا علیہ السلام اور خواجہ ربیع کے علاقوں میں  قبرستان ہیں(پھر وہ مسکراتے ہوئے کہتا ہے ) حرم مطہر تو ہم سے بہتر لوگوں کے لیے ہے۔
اس بوڑھے شخص کی گفتگو جاری تھی مجھے اچھا نہیں لگا کہ اس کی گفتگو کو قطع کروں لہٰذا وہ اپنی گفتگو کے تسلسل میں کہتا ہے:کیا فرق پڑتا ہے جب انسان مرجاتا ہے تو وہ مرجاتا ہے اس کا سروکار اس کے اعمال سے ہوتا ہے اگر اچھے اعمال رکھتا تھا تو پھر جہاں بھی دفن ہو وہی جگہ اس کے لیے جنت ہے اور اگر بدکار تھا وہ پھر اگر اسے خودِ جنت میں بھی کیوں نہ دفن کردیا جائے وہیں اس کے لیے جہنم ہے۔

* ابوعلی فضل بن حسن طبرسی والا چوک(فلکۂ طبرسی)
کوچۂ نوغان کا تعلق مشہد مقدس کی قدیمی گلیوں سے ہے ابھی بھی اس میں کچھ حد تک اس کے تاریخی آثار موجود ہیں۔یہ کوچہ طبرسی چوک کے غربی جانب واقع ہے اور طبرسی چوک حرم مطہر کی شمالی جانب سے  حرم مطہر کے نزدیک ترین والامشرف ہونے کے لیےآخری چوک ہے۔لیکن طبرسی چوک  کیوں کہلایا؟
ابوعلی فضل بن حسن طبرسی کا شمار مشہور شیعہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے دو بڑی تفاسیر بنام تفسیر مجمع البیان اور تفسیر جوامع الجامع لکھی ہیں ۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ ۴۷۰ ھ۔ ق کو یہ شخصیت کاشان کے اطراف میں متولد ہوئیں ، اپنی زندگی کا زیادہ حصہ شیعیان حیدر کردار کے آٹھویں امام کے ملکوتی جوار میں گذار دیا اور ۵۴۸ ھ۔ق کو سبزوار میں انتقال کرگئے۔لیکن انھیں ان کی وصیت کے مطابق مشہد مقدس منتقل کیا گیااور اس شہر کے قدیمی قبرستان قتلگاہ میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

 * قبرستان قتلگاه
تمام تاریخی کتابوں کی گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ سالوں میں مشہد مقدس شہر میں ایک بہت بڑا قبرستان تھا جو قبرستان قتلگاہ کے نام سے معروف تھا۔چند صدیوں سے یہ قبرستان اس شہر کی اموات کی تدفنہ کا مرکز تھا اسی وجہ سے مشہد مقدس کی تاریخ میں اپنا خاص مقام رکھتا ہے۔
یہ قبرستان قدیمی قبرستانوں کی طرح شہر سے باہر ہونے کی بجائے حضرت امام رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء کی حرمت اور تقدس کی وجہ سے حرم مطہر سے کچھ فاصلہ پر شمال کی جانب شہر کے وسط اور زیادہ آبادی نشین محلہ میں واقع تھا۔
تاریخ گواہ ہےکہ ایک نقل کی بنا ءپر اس قبرستان میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے بدن مطہر کو غسل دیا گیا اسی بنا پر اس علاقے کو غسل گاہ بھی کہا جاتا تھا۔
اسی طرح ایک اور تاریخی سند میں ملتا ہے کہ جب ازبکوں نے خراسان پر حملہ کیا تو اس قتل و غارت میں اس شہر کے مرنے والوں کی کثیر تعداد اسی قبرستان میں دفن ہوئی اور  شاید یہی اس قبرستان کا نام قتلگاہ پڑنے کی روشن دلیل بھی ہو۔
قبرستان قتلگاہ میں بےشمار بے نام و نشان اور ناشناس قبریں  تھیں اور ۱۳۱۸ سے ۱۳۲۱ھ۔ش میں مشہد مقدس شہر کی تعمیر نو کے دوران یہ قبرستان ہموار کردیا گیا اور اس طرح عملی طور پر ختم ہوگیا۔

 *صرف ایک قبر
قبرستان قتلگاہ کی قبروں سے صرف ایک قبر باقی بچی اور بےشمار مشتاق اس قبر کے احترام کے لیے یہاں آتے ہیں اور یہ شیخ طبرسی ؒ کی قبر ہے۔پہلوی اول کی حکومت کے آخری سالوں اور پہلوی دوم کی حکومت کے ابتدائی سالوں کے دوران جب حرم مطہر کے اطراف کی تعمیر نو انجام پائی تو شمالی جانب سے حرم مطہر کی طرف منتہی ہونےوالے خیابان کا نام مرحوم طبرسی کے احترام میں انںیے کے نام نامی یعنی طبرسی سے منسوب کردیا گیا چونکہ اس خیابان میں ان کی قبر تھی۔اور یہ خیابان آج بھی اسی نام سے منسوب ہے اسی مناسبت سے خیابان طبرسی جو کم از کم ۷۰ سالوں سے اسی نام سے منسوب ہے ، تاریخی اور یادگار خیابانوں میں شمار ہوتا ہے۔
قبرستان قتلگاہ کے ہموار  ہونے کے بعد اس کا کچھ حصہ بازار کے لیے مخصوص کردیا گیا اور بعض دوسرا حصہ جس میں شیخ طبرسی کی  قبربھی  تھی حرم مطہر کی حدود میں داخل کردیا گیا جو بعد میں سبز فضاء ایجاد کرنے سے باغ رضوان کے نام سے مشہور ہو گیا۔
باغ رضوان ۱۳۷۰ھ۔ش تک قائم و دائم تھا اور حرم مطہر اور اس کے اطراف کے محلوں کی جہت  و سمت مشخص کرنے کے لیے شاخص (نمایاں علامت ) کی حیثیت رکھتا تھا۔اس سال کے آغاز میں حرم مطہر کی توسیع اور تعمیر نو کے پروجیکٹ میں جب شیخ  طبرسی کی قبر اس پروجیکٹ کی حدود میں واقع ہوئی تو مجبوراً اسے جابجا یعنی تبدیل کرنا پڑا یعنی اس کے اطراف سے جگہ کو خالی کیا گیااور اس میں کنکریٹ ڈالا گیا اور پھر اس قبر کو اٹھا کر حرم مطہر سے چند میٹر کے فاصلے پر اس کے موجودہ  مقام پر منتقل  کردیا گیا۔
شیخ طبرسی کی قبر اس وقت بھی حرم مطہر کے شمالی جانب ٹائلوں والے ایک چھوٹے گنبد کے ساتھ حرم کے اطرافی خیابانوں  میں ایک نمایاں  حیثیت سے موجود ہے۔

* حضرت امام رضا علیہ السلام کے عاشقوں کا مدفن
حضرت امام رضا علیہ السلام کا حرم مطہر قدیم الایام سے  یعنی حضرت کی شہادت اور اس سرزمین میں دفن ہوتے ہی  جنت کا  ٹکڑا اور  اہلبیت علیہم السلام کے عاشقوں اور چاہنے والوں کا مدفن رہا ہے۔
حضرت کے حرم مطہر میں اس قدر بزرگان دفن ہیں جن کے بارے میں ابھی تک متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن اگر ہم حرم مطہر میں مدفون بزرگ علماء کے نام لینا چاہیں توشیخ حر عاملی اور شیخ بہائی جیسی شخصیات کے نام سر فہرست لینا پڑیں گے۔
شیخ بامءالدین محمد عاملی جو شیخ باائی کے عنوان سے شہرت رکھتے ہیں بزرگ شیعہ علماء اور شاہ عباس صفوی کے معاصر تھے،اسی نام(شیخ بہائی)سے منسوب رواق جو رواق امام خمینی کے ضلع شمالی اور دار الزہد کے ساتھ واقع ہے، میں مدفون ہیں۔
شیخ با ئی۹۵۳ھ.ق کو لبنان کے شہر بعلبک  میں پیدا ہوئے اور ۱۰۳۰ھ.ق کو اصفاصن میں وفات پا گئے حضرت امام رضا علیہ السلام سے خاص عقیدت کی وجہ سے آپ کے جسد خاکی کوحرم مطہر منتقل کیا گیا اور اس جگہ پر سپردِ خاک کردیا گیا۔
رواق شیخ باوئی۱۰۲مربع میٹررقبہ  پر واقع ہے،اس کا فرش اور دیواریں سنگ مرمر سے پوشیدہ ہیں۔شیخ بہائی کی قبر اس رواق کے مرکز میں واقع ہےاور اس پر سنگ مرمر کا ایک کتیبہ ہے جس پر شیخ بہائی کے مختصر حالات زندگی لکھے ہوئے  ہیں۔
شیخ حر عاملی کی قبر صحن انقلاب  جسے صحن کہنہ یا صحن عتیق بھی کہتے ہیں، کے شمال شرقی حصہ میں  واقع ہے اور شہرت رکھتی ہے۔
شیخ المحدثین محمد بن حسن، جو شیخ حرّ عاملی کے عنوان سے معروف ہیں،آپ کا شمار بزرگ اسلامی دانشمندوں میں ہوتا ہے آپ نے’’وسائل الشیعہ‘‘نامی کتاب لکھی ہے۔شیخ۱۰۳۳ھ.ق کو جبل عامل کے ایک دیہات میں پیدا ہوئے اور اپنی تعلیم  مکمل کرنے کے بعد  ہجرت کرکےمشہد مقدس تشریف لے آئے۔آپ مشہد مقدس میں تدریس کے علاوہ کچھ مدت تک شیخ الاسلامی کے منصب پر بھی فائز رہے۔شیخ حرّ عاملی ۱۱۰۴ھ.ق کو انتقال کرگئے اور اسی جگہ مدفون ہوئے۔آپ کے بڑے بیٹے جوخود بھی ایک دانشمند تھے آپ کے قریب آپ ہی کے مقبرہ میں مدفون ہیں۔

 * پیر پالان دوز کا مقبرہ
اگراس سے پہلے آپ کو حضرت امام رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء کی زیارت کا شرف نصیب ہے تو یقیناً پیر پالان دوز کا نام ضرور سنا ہوگا۔ جالب یہ ہے کہ اس رپورٹ کے مصنف نے جن آٹھ افراد سے سوالات کیے ان میں سے فقط ایک کوکچھ حد تک یہ علم تھا کہ پیر پالان دوز کا مقبرہ کس شخصیت سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمیں اجازت دیں تو ہم ایک اور اعتراف بھی کرلیں اور وہ یہ کہ اس رپورٹ کو آمادہ کرنے سے پہلے آپ اس رپورٹ کے مصف کو بھی اُن سات افراد کی فہرست میں شامل کر سکتے تھے۔ البتہ پیر پالان دوز سے متعلق تاریخی اسناد بھی زیادہ محکم نہیں ہیں۔
شیخ محمد عارف جو پیر پالان دوز کے عنوان سے معروف ہیں ،ان کی آرامگاہ پہلے فلکہ ٔحضرت کے حاشیہ میں واقع تھی۔ اور فلکہ ٔحضرت شہر کے مرکز میں ایک بڑی کمربندی(رنگ روڑ) تھی جو بلند دیواروں کے ساتھ حرم مطہر کو اس کے اطرافی محلوں سے جدا کرتی تھی یہ فلکہ ٔحضرت حرم مطہر کی توسیع کا نتیجہ تھا جو حرم مطہر کی جامع توسیع سے پہلے بھی موجود تھا۔
پیر پالان دوز کی قبر خیابان بست پائین یعنی موجودہ خیابان نواب صفوی کے ابتداء میں واقع تھی لیکن حال حاضر میں خیابان نواب صفوی کی جانب سے حرم مطہر منتہی ہونے والے دائرہ نما  یوٹرن کے شمالی کونے میں واقع ہے۔
پیر پالان دوز کا مقبرہ احتمالاً شیخ محمد عارف نامی شخصیت سے منسوب ہے جو مشہد مقدس کے اطراف میں واقع ایک سرسبز دیہات’’کاردہ‘‘ میں متولد ہوئے۔ان کا شمارصفویہ دور کے معروف زہاد اوربزرگ عرفا میں سے  ہوتاتھا وہ اپنا امرار معاش یعنی گذر بسر کرنے کے لیے پالان دوزی کیا کرتے تھے لہٰذا اسی نام سے مشہور ہو گئے۔

* شاه طہماسب کی ہڈیوں کا انجام
اگر ہم مشہد مقدس میں موجود خواجہ ربیع،گنبد سبز،گنبد خشتی وغیرہ جیسے دوسرے نامور مقبروں کی تاریخ کا کچھ حصہ لکھنا چاہیں تو اس مختصر رپورٹ کا عنوان ’’مشہد مقدس کے مزاروں کی تاریخ‘‘نامی کتاب میں تبدیل ہو جائے گا! لہٰذا اگر ہمیں اجازت دیں تو ہم حرم مطہر کی قبور میں سے صرف ایک کے انجام کو کتاب’’عالم آرای عباسی‘‘سے نقل کرتے ہیں:
حضرت امام رضا علیہ السلام کے سر اقدس کے پیچھے والی جانب بقعۂ مبارکہ کے شمال کے صفوں میں سے ایک صفہ جو ’’صفہ شاہ طہماسبی‘‘کے عنوان سے مشہور ہے اور بادشاہ کا مدفن تصور کیا جاتا ہے۔شاہ طہماسب صفوی شاہ اسماعیل کا بیٹا اس خاندان کا دوسرا بادشاہ ۵۴ سال حکومت کرنے کے بعد ۹۸۴ھ۔ق کو قزوین میں فوت ہوگیا۔اس کے جانشینوں میں اختلاف کی وجہ سے اس کی میت کو پہلے اس کے محل کے ایک باغ میں دفن کردیا گیا۔پھر کچھ عرصہ بعد قزوین میں امامزادہ حسین کے حرم میں منتقل کردیا گیا۔ایک سال بعد جدید حاکم کو بادشاہ کا تابوت مشہد مقدس منتقل کرنے کے فرائض سونپے گئے۔یہ میت ۹۸۵ھ۔ق کو حرم مطہر کے رواقوں میں سے ایک میں دفن ہوئی اور پھر ۹۹۷ ھ۔ق کو جب مشہد مقدس پر ازبکوں نے قبضہ کرلیا تو انھوں نے  صفوی بادشاہوں کی اہانت کی خاطر اس سلسلہ کے ان بادشاہوں کے اجساد جو حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں مدفون تھے، نکال کر بخارا منتقل کرنا چاہا۔اس غرض سے انہوں نے شاہ طہماسب اور اس کے فرزند وجانشین شاہ اسماعیل دوم کو ان کی قبروں سے نکالا اور انہیں بخارا لے گئے۔ازبکوں نے ۱۰۰۶ھ۔ق کے اواخر تک خراسان اور مشہد مقدس پر اپنا قبضہ جمائے رکھا،۱۰۰۵ھ۔ق کو معلوم ہوا کہ شاہ طہماسب سے منسوب جسد (جسے وہ بخارا لے گئے تھے وہ اصل میں) اسکا نہیں تھا اوربادشاہ کا مقبرہ حرم مطہر میں کسی دوسری جگہ پر واقع ہے۔ لہٰذا عبدالمؤمن خان نے اپنے    با اعتماد شخص کو مأمور کیا کہ وہ شاہ طہماسب کی قبرکھود کر اس کی ہڈیوں کو بخارا منتقل کرے۔’’دوستم باودر‘‘نامی وہ مأموربادشاہ کی ہڈیوں کو حرم مطہر سے نکال کربخارا کی جانب چلا گیا لیکن راستے میں صفوی حکومت کے عقیدت مندوں میں سے کسی نے اسے لالچ دیا  کہ وہ ان ہڈیوں کو اصفہان لے جائے۔ مأمور نے قبول کرلیا جب شاہ کا جسد اصفہان پہنچا تو شہر کے لوگوں اور قزلباش امراء نے مل کر نہایت ادب و احترام سے شاہ طہماسب سے منسوب جنازے کو تشییع کیا اور اسے اس شہر میں موجود امامزادہ علی کے حرم میں سپردخاک کردیا گیا۔لیکن جب شاہ عباس نے خراسان سے ازبکوں کو نکالا تو اس وقت ایک گروہ نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ دوسرا جنازہ بھی جسے ازبکوں نے حرم مطہر سے نکالا تھا وہ بھی شاہ طہماسب سے متعلق نہیں تھا لہٰذا شاہ طہماسب کی قبر حرم مطہر میں محفوظ باقی ہے۔وہ قبریں جنہیں ازبکوں نے شاہ طہماسب کی قبر سمجھ کر کھدوایا وہ سب حضرت امام رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء کے پائینتی جانب والے صفۂ میں واقع تھیں جبکہ حال حاضر میں حضرت کے بالائے سر مبارک والے صفہ میں شاہ طہماسب کی قبر کا  ایک مقام مشخص ہے۔

* ایک طویل فہرست
حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں مدفون مشاہیرو بزگ علماء  کی اگر مختلف تاریخی ادوار کے حوالے سے مستقل فہرست تیار کی جائے تو اس میں بہت زیادہ علماء،عرفاء،دانشمند اور اہلبیت علیہم السلام کے عاشق حضرات کے اسماء درج کیے جاسکتے ہیں۔
ہمارے معاصر دور میں ادیب نیشاپوری،آیت اللہ محمد جواد خامنہ ای،حبیب اللہ مجتہد خراسانی،آیت اللہ قدوسی،شہید ہاشمی نژاد،علامہ محمد تقی جعفری، استاد محمد علی رجائی،استاد کاظم مدیر شانہ چی اور۔۔۔۔۔بہت سے بزرگان اس فہرست میں شامل ہوں گے۔
حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں صحن جمہوری اسلامی کے انڈر گراونڈتدفین کے لیے ایک قبرستان ہے جو بہشت ثامن الآئمہ کے نام سے منسوب و مشہور ہے۔ آخری نصف صدی سے یہ مکان حضرت امام رضا علیہ السلام کے عاشقوں اور عقیدتمندوں کی تدفین کے لیے   مخصوص ہے۔اس کے علاوہ صحن آزادی کے انڈر گرونڈ بھی ایک قبرستان ہے جو عام طور پر حضرت امام رضا علیہ السلام کے خادموں کی تدفین کے لیے خاص ہے۔اس کے علاوہ صحن انقلاب  اسلامی کے انڈر گروانڈ جدیدبننے والے رواق  دار الحجہ میں بھی اموات کی تدفین کے لیے بھی کچھ مقامات مدنظر رکھے گئے ہیں۔ مزید اس کے علاوہ حرم مطہر کے باقی صحنوں اور رواقوں  میں بھی آستان قدس رضوی کے متولی محترم کی اجازت سے خاص موارد میں  تدفین کے لیے استفادہ کیاجاتا ہے۔

 * مشہد مقدس کے قدیمی قبرستان
مشہد مقدس کی شہرداری(بلدیہ) کی انفرمیشن ویب سائیٹ پر مشہد مقدس کے قدیمی قبرستانوں سے متعلق ایک تفصیلی مطلب موجود ہے ہم اس مطلب کو مزید ضروری توضیحات کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جو ہماری اس رپورٹ کے اختتامی حصہ پر مشتمل ہے۔
مشہد مقدس کے تاریخی شہر کی قدیمی ساخت اور تعمیر نو کے مراحل کے شروع ہونے سے پہلے ہر محلے کا اپنا مستقل جدا گانہ قبرستان ہوا کرتا تھا جو اسی محلہ سے متصل ہوتا تھا۔
قدیمی قبرستانوں کی حدود قدیم مسکونی شہر کی حدود کو مشخص کرنے کے لیے قابل توجہ ہے۔قاجاریہ دورِ حکومت کے اواخر تک انہیں محلوں کے قبرستانوں میں میتوں کو دفنانے کا دستور برقرار تھا۔لیکن مشروطیت کے بعد جب بلدیہ اور اس کے ادارہ جات کی تشکیل ہوئی تو شہر میں موجود ان قبرستانوں مین دفن کا سلسلہ منسوخ کردیا گیا اور میتوں کو دفنانے کے لیے شہر میں جدید بنائے جانے والے قبرستان قلعۂ گلشور،قبرستان گل ختمی اور مذہبی مقامات پر موجود قبرستان پر منحصر کردیا گیا۔
’’قبرستان میر ہوا‘‘  جو گنبد سبز چوک پر ۱۳۲۰ھ۔ش تک سرشور محلے کا قبرستان تھا۔
’’قبرستان سراب ‘‘ جو بازارچہ سراب میں مسجد فاضل کی جگہ پر ۱۳۲۵ھ۔ش تک محلۂ سراب کا قبرستان تھا۔
’’قبرستان پائین خیابان‘‘  جو پائین خیابان کی طرف واقع پنج راہ کی موجودہ  انڈر گراؤنڈ سے آتش نشانی تک کے مقام  پر واقع تھا،۱۳۲۵ھ۔ش تک موجود تھا اور پھر متروک ہوگیا۔
’’قبرستان عیدگاہ‘‘  جو کوچہ عیدگاہ کے جنوب مشرقی محلوں  میں حرم مطہر کے اطراف میں واقع تھا۔اس قبرستان کی جگہ حال حاضر میں خیابان ھفدہ شہریور کے احاطےمیں واقع ہے۔
’’قبرستان سناباد‘‘  جو خیابان سناباد میں واقع تھا ایک تاریخی نقل کے مطابق محمد تقی پسیان کے جنازے کا تابوت وہاں پر مخفی کردیا گیا تھا اور جب اس جگہ ایک حمام بنانے کے لیے کھدائی کروائی گئی تو ایک لوہے کا تابوت وہاں سےبرآمدہوا جس میں موجود جنازے کی شناخت سے متعلق تحقیقات اور تائید کے بعدحرم مطہر کے قریب چہاراہ شہداء میں موجود باغ نادری منتقل اور دفن کردیاگیا ۔قبرستان سناباد میں ۱۳۳۰ھ۔ش تک تدفین کا سلسلہ جاری تھا۔
’’قبرستان گلشور‘‘ جوخیابان سی متری طلاب کے اختتام پرواقع تھا ،مشہد مقدس کے قدیمی قبرستانوں میں سے ایک تھاجو قاجاریہ دورِ حکومت میں ’’قبرستان محلات‘‘  کے متروک ہونے کے بعد وجود میں آیا لیکن آرامستان بہشت رضا(ع) بننے اور شرعی مدت گذرنے کے بعدپارک  گلشور میں تبدیل ہوگیا۔
’’قبرستان گل ختمی‘‘  جو خیابان نخریسی اور خیابان ۲۲بہمن کے تقاطع پرائرفورس کی چھاؤنی کے سامنے واقع تھا۔
’’قبرستان حوض لقمان‘‘  جو خیابان خواجہ ربیع کے ابتداء واقع تھا اور میدان شہرداری اور آتش نشانی کے مقام کا حصہ تھا۔
’’قبرستان مسیحی ھا‘‘ (عیسائیوں کا قبرستان)جو دبیرستان فردوسی کے ساتھ بازار سرشور کے بالمقابل واقع تھا حال حاضر میں ایک سبز فضاء میں تبدیل ہوچکا ہے۔
’’قبرستان یہودی ھا‘‘  جو ھفدہ شہریور چوک میں پاساژ کویتی ھا کے شرقی ضلع میں واقع تھا۔۔۔