شیخ بہائی؛ معمار حرم
ہفتہ , 01/11/2020 - 14:05
شیخ بہائی؛ معمار حرم

جناب بہاء الدین محمد بن حسین عاملی، معروف بہ شیخ بہائی دسویں و گیارہویں صدی ہجری کے شیعہ مذہب کے ایک عظیم عالم دین ہیں کہ جو شہر بعلبک میں کہ جو آج لبنان کے نام سے مشہور ہے، پیدا ہوئے۔ ان کا شہر ہمیشہ سے شیعہ مذہب کا ایک اہم مرکز رہا ہے اوروہاں  بہت زیادہ جلیل القدر علماء پیدا ہوئے ہیں ۔ شیخ بہائی کا خاندان جبل عامل کا اس زمانے میں ایک مشہور و معروف خاندان تھا کہ جن کا نسب اور شجرہ حارث ہمدانی سے ملتا ہے کہ جو حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کے وفادار صحابی تھے۔شیخ بہائی کے والدگرامی عزالدین حسین بن عبدالصمد بن محمد بن علی بن حسین دسویں ہجری کے ایک عظیم عالم دین تھے   کہ جو علم فقہ، اصول، حدیث، رجال، حکمت، کلام، ریاضیات، تفسیر، شعر، تاریخ، لغت اوربہت سے  دوسرے رائج علوم میں مہارت رکھتے تھے اور شہید ثانی کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔
صفوی زمانے میں شیخ الاسلام
نامور و مشہور عالم و عارف شیخ بہائی کا   سیاست کے میدان میں صفوی زمانے کے  ایک عظیم فقیہ  کی حیثیت سے شمار ہوتا تھا، اور وہ کئی سال تک مسلسل شاہ عباس صفوی اول کی حکومت میں سیاسی و دینی منصب (شیخ الاسلامی) کے عہدے پر فائز رہے ۔ شیخ بہائی اپنے زمانے میں شہر اصفہان کو رونق بخشنے میں بہترین ہنرمند انجینیر رہے ہیں اور ان کے عظیم ترین آثار آج تک تاریخ میں یادگار کے طور پر باقی ہیں۔
شیخ بہائی نے بہت زیادہ شاگردوں کی تربیت کی ہے ۔ گیارہویں صدی ہجری کے نامور علماء نے شیخ بہائی سے تعلیم حاصل کی  ہے کہ جن میں ملاصدرا شیرازی، ملا محسن فیض کاشانی، علامہ محمد باقر مجلسی کے والد محمد تقی مجلسی، محقق سبزواری، شہید ثانی کے پوتے شیخ زین الدین عاملی وغیرہ کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔
شیخ بہائی نے اپنی عمر کا تیس سال سے زیادہ عرصہ مختلف ممالک کی سیر وسیاحت میں گذاراجیسے مصر، شام، حجاز، عراق، فلسطین، افغانستان وغیرہ  اور ان ممالک کے علماء و عوام سے گفتگو و خطاب کیا ۔ وہ مذہب شیعہ ایک عظیم مبلغ تھے اور سفر کی رنج و پریشانیوں کو آسانی سے قبول کرلیا کرتے تھے اور شیعہ ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے بہت زیادہ زحمتیں اٹھاتے تھے۔
ان زمانے میں سفر کرنا بہت مشکل تھا  اور خصوصا سفر میں راہ زن ، چوروں کا حملہ، بھیڑیے اور چنگلی حیوانات، راستے کا کھویا جانا، بیابان میں تشنگی اور اسی طرح کے دسیوں دوسرے  خطرات انسان کے سامنے رہتے تھے لیکن پھر بھی شیخ بہائی مقام و منصب کے باوجود جیسے شیخ الاسلامی ، شیعہ علماء کی رہبری ، اور شیعہ قوم کی مرجعیت رکھتے ہوئے بھی سفر کرتے اور لوگوں کے درد دل اور مشکلات کو نزدیک سے درک کرتے تھے اور اسلامی معاشرے کے علاج میں ہمہ تن گوش رہتے تھے۔

ایک عظیم معمار
ایران کی عوام میں شیخ بہائي ایک عظیم و ماہر ریاضی دان و معمار و انجینیر کے طور پر معروف رہے ہیں اور آج بھی انہی صفات سے یاد کیے جاتے ہیں، شہر نجف آباد میں کاریز کہ جو چشمہ زرین کمر کے نام سے معروف ہے ، شہر اصفہان کی جامع مسجد کے قبلہ نما کی دقیق تعیین، نجف اشرف کے محاصرہ کا نقشہ، اصفہان کی جامع مسجد کے مغربی حصے میں شاخص ظہر شرعی  کی تعمیر، مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ میں مسجد گوہر شاد کا نقشہ، نجف اشرف میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے روضہ منورہ میں سرہانے کی جانب دیوار کا نقشہ کہ جو پورے سال زوال شمس کو معین کرتا ہے ، حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ منورہ میں صحن انقلاب کا چھ ضلعی صورت میں نقشہ، اصفہان میں سفید آب کی ایجاد کہ جو سفید آب شیخ کے نام سے معروف ہے ، مینار جنبان کی تعمیر، اصفہان کی جامع مسجد کے گنبد کی تعمیر کہ جس میں ایک آواز 7 مرتبہ گونجتی ہے  اور ایک گھڑی کی ایجاد کہ جس میں نہ بیٹری کی ضرورت تھی نہ چابی بھرنے کی، اصفہان کے عمومی غسل خانے کے لیے پانی گرم کرنے کا وسیلہ کہ جو آج تک اصفہان میں موجود ہے  اور حمام شیخ بھائی کے نام سےمعروف ہے  یہ تمام چیزیں اس عظیم فلفسی و انجینیر کی یاد گار آثار میں سے ہیں۔

حرم مطہر رضوی کے لیے ایک لائبریری کا وقف کرنا  
قرآن کریم کے متعدد نسخے کہ جو حضرت امیر المومنین امام علی ، امام حسن و امام حسین علیہم السلام کے دست مبار ک سے منسوب خط کوفی میں  ہرن کی کھال پر تحریر ہیں،996 ہجری میں شاہ عباس صفوی کے ذریعہ اور شیخ بہائی کے ہاتھوں تحریروقف ناموں کے ساتھ آستان قدس رضوی کے نام وقف ہیں، شیخ بہائی نے ان وقف ناموں کے علاوہ خودحرم مطہرر ضوی کےخطی نسخوں کے  خزانے میں قرآن کریم کے نسخوں پر خودوقف نامے تحریرکیے ہیں کہ جن میں 36 نسخے   آستان قدس رضوی رضوی کی لائبریری کے نام وقف ہیں۔
اسی طرح شیخ بہائی نے وصیت کی کہ ان کی اپنی ذاتی لائبریری کو بھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی لائبریری کو ہدیہ کردیا جائے کہ جس میں 4 ہزار خطی  و مطبوع نسخے موجود تھے کہ جو زیادہ تر شیخ بہائی کے زمانے میں ہی تحریر ہوئے تھے اور ان سب پر شیخ بہائی کے ہاتھوں وقف نامے تحریر اور دستخط و مہر بھی لگی ہوئی ہے ۔

وفات
شیخ بہائی نے  12/ شوال 1030 ہجری میں 77 سال کی عمر میں اس دارفناء سے دار بقاء کی جانب  سفر کیا آپ کے تشیع جنازہ میں شہر اصفہان سے  50 ہزار افراد نے شرکت کی اصفہان  صفویہ زمانے کا دارالحکومت ماتم کدہ بن گیا ۔ آپ کے کی نماز جنازہ علامہ محمد باقر مجلسی کے والد ملا محمد تقی مجلسی نے پڑھائی اور پھر آپ کے جنازے کو مشہد مقدس منتقل کردیا گیا اور آپ کی وصیت کے مطابق اس گھر میں کہ جو شیخ بہائی نےخود اپنے لیے بنوایا تھا دفن کردیا گیا۔ آج شیخ بہائی کا مقبرہ حرم مطہر رضوی کے اس  ہال میں ہے کہ جو خود شیخ بہائی کے نام سے مشہور ہے۔
حرم مطہر رضوی میں شیخ بہائی ہال جنوب مشرقی حصہ میں واقع ہے ، شیخ بہاء الدین عاملی معروف بہ شیخ بہائی کے مقبرے کے شمالی حصے میں صحن آزادی اور جنوبی حصے میں صحن امام خمینی اور مشرقی حصے میں دارالعبادہ نامی ہال اور مغربی حصے میں دارالزہد نامی ہال موجود ہیں۔شیخ بہائی ہال میں وارد ہونے کا اصلی راستہ صحن آزادی کے جنوب مغربی گوشہ سے ایک راستہ گیا ہے کہ جو زینہ کی صورت میں چند سیڑھی چڑھنے کے بعد ہال میں پہنچتا ہے ۔
شیخ بہائی ہال کے راستے کے مغربی حصے میں ایک فریم کی شکل میں کتیبہ موجود ہے کہ جو ٹائل پر سنہرے حرفوں میں تحریر ہے یہی عبارت آپ کی قبر مطہر پر بھی تحریر ہے کہ جو پتھر پر کندہ ہے  اور پھر شیخ بہائی ہال میں چھت سے ملی ہوئی دیوار پر چاروں طرف 30/8 میٹر لمبائی اور 40 سینٹی میٹر چوڑائی میں خط ثلث کے ساتھ تحریر ہے  کہ جس میں شیخ بہائی کے 70 علمی آثار اور کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے ، اسی طرح شیخ بہائی ہال کی چھت اور دیواروں پر آئینہ کاری ہوئی ہے کہ جو شطرنجی شکل میں بہت ہی خوبصورت نظر آتی ہیں۔

اہم الفاظ :