مشہد مقدس
ہفتہ , 12/28/2019 - 11:59
مشهد

کیسے مشہد مقدس کے بارے میں کچھ کہا جائے؟ نہیں معلوم کہ کہاں سے شروع کیا جائے۔کیسے حضرت امام رضا علیہ السلام کے شہر،زائرین، مجاورین اور اس شہر کی گلیوں کا تصور کرتے ہوئے انھیں کلمات میں تبدیل کیا جائے پھر ان کلمات سے جملات بنا کر آپ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ آپ اِس شہر کو پہچان سکیں۔
کیا جوش و خروش،حاجتوں،آنسوؤں اور یادوں کو کلمات کی صورت میں تصور کیا جاسکتا ہے؟ آپ کے لیے اُس معصوم بچے کی کیفیت کو کس طرح بیان کریں جس کی  دوستی حضرت امام رضا علیہ السلام سے ہے اور  وہ ہمیشہ انہیں سے گفتگو کرتا ہے،یا پھر اس تاریخ سے متعلق کچھ بیان کریں جس میں حضرت امام رضا علیہ السلام شہید ہوکر  ہارون الرشد  کے پاس سپردِ خاک ہوئے۔ جس قدر بھی  اچھا لکھاری ہوپھر بھی بہت کچھ باقی رہ جائے گا۔ انسان تاریخ میں رونما ہونے والے تمام طوفانی حوادث کے برابر بولنا چاہتے ہیں لیکن افسوس ان کی ظرفیت بہت کم اور محدود ہونے کی وجہ سے ان کا ساتھ نہیں دے پاتی۔
ہم مکان کے پابند ہیں، تصاویر جس قدر بھی اعلیٰ کوالٹی رکھتی ہوں لیکن اس کے باوجود وہ تصویر ہیں۔طوس کی آب و ہوا،مرقد مطہر کی عظمت اور خاص معنوی فضا کی  کیسے تصویر کشی کی جاسکتی ہے، آپ کے لیے کیسے بیان کیا جاسکتا ہے کہ ازبکوں  وغیرہ نے کس طرح اپنی ننگی تلواروں سے مشہد مقدس پر حملہ کیا،ٹھنڈی تلواروں کا گرم خون سےرابطہ برقرار کیا ہے،کتنے وسیع پیمانے پر کشتوں کے پشتے لگ جانے کے بھیانک مناظر ان مقدس فضاؤں نے دیکھے،خطا کار انسانوں نے ایک معصوم ہستی کے شہر کو کیسے کیسے رنگوں اور روپوں میں بدلنے کی کوششیں کیں ہیں لیکن اس کے باوجودحجت خدا کے وجودِ نازنین کی بے انتہابرکات کو ختم کرنا نہ تو ممکن تھا اور نہ ہی ایسا ہوسکا،بقول شاعر    ؎
                                                 وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
ایک معصوم امام علیہ السلام کا وہی مظلوم شہر ہے کہ جس کی فضائیں آج بھی ہدایت اور معرفت کے تشنگان کو سیراب کرتے ہوئے انہیں ان مطلق ذات سے منسلک کر رہی ہیں۔جس نے ایسی ہادی ہستیوں کو اسی ہدف کے تحت بھیجا تھا کہ وہ انسانوں کو اپنے خالق و مالک سے آشنا کرائیں۔