حضرت علی (ع) کی خلافت
جمعرات , 03/12/2020 - 03:38

رسول اکرمؐ کے بعد علی علیہ السّلام نے پچیس برس تک خانہ نشینی میں زندگی بسر کی۳۵ ھ میں مسلمانوں نے خلافت اسلامی کامنصب علی علیہ السّلام کے سامنے پیش کیا . آپ نے پلےہ انکار کیا ،لیکن جب مسلمانوں کااصرار بتت بڑہ گیاتو آپ نے اس شرط سے منظو رکیا کہ میں بالکل قران اور سنت پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا . مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا ، آپ کے خلاف بنی امیہ اور بتن سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنیںل آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا ، آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل و صفین، اور نرھوان کی خوں ریز لڑائیاں ہوئیں جن میں علی بن ابی طالب علیمات السّلام نے اسی شجاعت اور باپدری سے جنگ کی جو بدر و احد ،خندق وخیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ جیسی چاہتے تھے ویسی اصلاح فرمائیں . پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی ،مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے۔ آپ شنشا ہ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور اپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا برا نیں سمجھتے تھے ،پیوند لگے ہوئے کپڑے پنتےھ تھے ،غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے تھے . جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے ،یااں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ انیںٹ دوسرے مسلمانوں سے کچھ زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کردیا اور کاب کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو یہ ہو بھی سکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے . مجھے حق نیںا ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں ،انتا یہ ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے آکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بھجادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلداز جلد حق داروں تک پنچک جائے . آپ اسلامی خزانے میں مال کاجمع رکھنا پسند نیںم فرماتے تھے .
شاھدت
افسوس یہ ہے کہ یہ امن ،مساوات اور اسلامی تمدّن کا علمبردار دنیا طلب لوگوں کی عداوت سے نہ بچااور۱۹ماہ رمضان۴۰ہجری کو صبح کے وقت خدا کے گھر یعنی مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا . آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کی انتاب یہ تھی کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کاچروہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آگیا اور اپنے دونوں فرزندوں حسن و حسین کو ہدایت فرمائی کہ یہ تما را قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے بھی کھلانا . اگر میں صحتیاب ہوگیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگانا ، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کرنا ،اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے ،دو روز تک علی علیہ السّلام بستر بیماری پر انتایئی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور۲۱رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی .امام حسن وامام حسین علیما السّلام نے تجیزیو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں انسانیت کاتاجدار ہمیشہ کے لیے آرام کی نیند سونے کے لئے دفن ہوگیا۔
 

ماخذ :
http://urdu.tebyan.net/index.aspx?pid=58806
اہم الفاظ :