سال نو کے آغاز کی مناسبت سے آستان قدس رضوی کے متولی کا خصوصی پیغام
جمعہ , 03/20/2020 - 01:02
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے نئے ہجری شمسی سال 1399 کے آغاز اور نوروز کی مناسبت سے ایرانی قوم کو مبارک باد پیش کی

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے نوروز کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ حرم مطہر  رضوی کی زیارت پر عارضی پابندی عائد کرنے کا مشکل فیصلہ بغیر کسی مبالغہ کے میرے لئے زہر کا پیالہ پینے سے کم نہیں تھا ، لیکن  ہم  مجبور تھے؛ ہم نے یہ مشکل فیصلہ اپنی شرعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے    حضرت   امام رضا علیہ السلام کے مہمانوں اور زائرین کی  جان کی سلامتی کے لئے  علمائے کرام اور مراجع تقلید  کی   ہدایات کی بنیاد  پرکیا   
آستان قدس رضوی کے متولی کے پیغام نوروز کا مکمل متن کچھ اس  طرح ہے :
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ    
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الَّذِي ارْتَضَيْتَهُ وَ رَضَّيْتَ بِهِ مَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِكَ، اَلّسلام عَلیک یا مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ وَ رَحْمَهُ اللهِ وَ بَرَکاتُهُ.
عظیم ایرانی قوم کی خدمت میں نہایت خلوص اورمحبت کے ساتھ سلام پیش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے  باب الحوائج حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے   ثامن الحجج حضرت امام علی رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء کی بارگاہ اقدس میں    اور اس کے بعد تمام مسلم امہ او ر شیعیان اور محبان اھلبیت عصمت و طہارت کی خدمت میں   تعزیت پیش کرتا ہوں ۔
یَا مُحَوِّلَ الْحَوْلِ وَ الْأَحْوَالِ حَوِّلْ حَالَنَا إِلَی أَحْسَنِ الْحَالِ. نئے سال کی مناسبت سے آپ تمام بزرگوں اور عزیزوں  کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔انشاء اللہ یہ نیا سال آپ کے لئے برکتوں،خوشیوں اور کامیابیوں کا سال  ہو ۔اس سال ہماری عید عالم بشریت کی سب سے بڑی عید یعنی پیغمبر عظیم الشان حضرت محمد مصطفیٰ (صلوات اللہ علیہ وآلہ) کی بعثت کے ساتھ ساتھ ہے  ، اس دور میں انسانوں کو پہلے کے مقابلے میں کئي گنا  زیادہ  پیغمبر اسلام کی نورانی تعلیمات اور آئمہ اطہار علیہم السلام کی راہنمائی کی ضرورت ہے ،امید کرتا ہوں کہ ہم سب کا شمار پیغمبر اسلام (صلوات اللہ علیہ وآلہ) کی امت اور آپ کی   معصوم  اولادوں  کے پیروؤں  میں ہو۔انشاء اللہ
جو سال گزرا ہے وہ  تلخیوں اور شیرنیوں سے  آمیختہ سال تھا    پچھلے سال کے آغاز میں تباہ کن سیلاب    ،اور اسی سال  عالم اسلام کے عظیم کمانڈرحاج قاسم سلیمانی کی شہادت اور مسافر طیارے کا حادثہ  گذرے ہوئے سال کے انتہائی تلخ واقعات و حادثات تھے ؛ لیکن ان تلخیوں میں بہت ساری اچھائیاں اورکامیابیاں بھی  سامنے آئيں   ۔ تمام طبقوں  سے تعلق رکھنے والے    ذمہ دار افراد اور عوام کی ہر مشکل میدان اور مراحل   میں موجودگی، سیلاب کے حادثہ میں   امدادی کارروائیوں میں عوام کی شرکت اور سیلاب سے متاثرہ  افراد کی امداد  اور ان سے ہرپیمانے پر ہمدردی کا اظہار  یہ ساری چیزیں  بہت ہی اہم اور گرانقدر ہيں۔
اسلام کے عظیم کمانڈر حاج قاسم سلیمانی کے جلوس جنازہ  میں عوام کی   غیر معمولی اور تاریخی   شرکت جیسے واقعات جن کی تاریخ میں بہت کم مثال ملتی ہے۔یہ وہ شیریں  واقعات  تھے   جو گذشتہ سال   رونما ہوئے ، پچھلے سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پرہمیں جس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا وہ ایسا وائرس ہے جس نے پوری دنیا کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے اور پوری دنیا کی توجہ اسی طرف ہے اور ہم بھی اس وائرس سے محفوظ نہیں ہیں۔ 
ہمارے بعض   عزیر ہم وطن ، مدافعان سلامت جن میں  فداکار  ڈاکٹرز ، نرسیں ، اور طبی شعبے  سے وابست دیگر  افراد شامل ہیں    اس  وائرس میں مبتلا مریضوں کا علاج اور ان کی دیکھ بھال کرنے میں   اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں لیکن اسی واقعہ میں طبی عملے کی  بے مثال قربانیاں اور ایثار و فداکاریاں  ایسے کارنامے ہيں  جو اس واقعےکی شیرینی کے طور پر یاد رکھے جائيں گے ۔
اس عرصے میں ہم نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مقدس شہر مشہد میں بھی بہت ساری تلخیاں دیکھیں۔آج کے دن ہمیں  حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مقدس بارگاہ کے لاکھوں زائرین کا استقبال کرنا تھا۔پچھلے سال اسی دن حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی نورانی بارگاہ میں لاکھوں  عاشق اور زائر  موجودتھے اور ہم ان زائرین کے خدمت گزار تھے لیکن اس سال ہم  ان عزیززائرین کی خدمت سے محروم ہیں ۔ گذشتہ تیس برسوں سے ہر سال رہبر معظم انقلاب اسی دن مشہد مقدس مشرف ہوتے تھے اور  زائرین و مجاورین  کے بہت بڑے اجتماع  سے  انتہائي  اہم   اور موثر خطاب فرماتے تھے لیکن اس سال  ہم      رہبر معظم انقلاب کے دیدار کے فیض اور آپ کے عمدہ خطاب سے محروم ہیں ۔ ان سب واقعات  میں  زیادہ تلخ واقعہ ایسی صورتحال میں حضرت ثامن الحجج علیه آلافُ التَّحِیَّهِ وَ الثَّناءِ کے حرم مطہر پر زیارت کی عارضی پابندی لگانا ہے جو کہ بہت ہی  مشکل اور سخت فیصلہ تھا۔ 
ہم بعض اوقات امام (ع) کی زیارت اور سلام کے دوران ایک جملہ پڑھتے تھے :’’السلام علیک یا غریب الغربا‘‘؛ لیکن کبھی بھی آپ(ع) کی غربت کو محسوس نہ کیا اور اس غربت کو ہرگز سمجھ نہ پائے ، لیکن آج جب آ پ کے  حرم کے صحنوں کو زائرین سے خالی دیکھتے ہیں تو’’ غریب الغرباء‘‘ کا مطلب  سمجھ میں آرہا ہے  اگرچہ لاکھوں کروڑوں عاشقان اھلبیت علیہم السلام کے دل دور  سے ہی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کا طواف کر رہے ہیں اور   حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی طرف متوجہ ہیں لیکن اس سال   خود  زائرین کی   (جسمانی) موجودگی سے محروم ہیں ۔ ہمارے لئے زیارت پر عارضی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ بہت سخت اور مشکل تھا جو کہ زہر کا پیالہ پینے کے مترادف تھا۔ لیکن مجبور تھے ۔ہم نے اپنی شرعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے  علمائے کرام اور مراجع تقلید کی   ہدایات کی بنیاد پر  حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے زائروں اور مہمانوں کی جان  کی  حفاظت کے لئے ایسا سخت اور مشکل فیصلہ کیا۔تمام مجاورین و زائرین اور ہموطنوں سے اور اسی طرح تمام عاشقان اہلبیت اطہار(ع) اور عاشقان حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے جو چاہتے تھے کہ اس سال بھی گذشتہ برسوں  کی طرح نئے ہجری شمسی  سال کا آغاز حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر سے کریں؛ معذرت خواہ ہیں ۔ 
ہم نے آپ عزیزوں کی جان کی حفاظت کے لئے ایسا سخت اور مشکل فیصلہ کیا۔ ضروری سمجھتا ہوں کہ صوبہ خراسان میں ولی فقیہ کےمحترم نمائندہ، علماء و اکابرین  اور مشہد مقدس اور پورے ملک کی با بصیرت عوام کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا اور وہ تلخی جس کا پیالہ ہم پی چکے تھے اسے مزید تلخ نہ ہونے دیا۔ 
عوام اور علمائے کرام کی جانب سے اس بصیرت اور حالیہ صورتحال کو سمجھنے پر میں ان سب کے  سامنے پورے وجود کے ساتھ سرتعظیم   خم    اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ لایحملُ هذا العلم الّا اهلُ البصر و الصّبر‘‘ ہم آپ کے صبر اور آپ کی بصیرت کی   تکریم   اور قدر کرتے ہوئے آپ کے سامنےعاجزانہ  طریقے سے سرتعظیم  خم کرتے ہيں   اور دعا کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ ثامن الحجج حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی عنایات اور برکتوں سے جلد سے جلد یہ بلا اور وبا ہمارے ملک سے اور پودی دنیا سے ختم ہو جائے اور زیارت پر عائد عارضی پابندی زیادہ طولانی نہ ہو اور کم سے کم مدت میں تمام محبان و عاشقان اہلبیت(ع) کے لئے زیارت کا موقع فراہم ہو سکےاور ہم ان کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھ سکیں ۔ ان شاء اللہ۔
 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 

ماخذ :