جشن نوروز کی ابتداء
جمعرات , 03/19/2020 - 09:49
قابل ذکر ہے کہ جمشید سے پہلے بھی نوروز کا جشن منایا جاتا تھا اور اس کے باوجود کہ ابوریحان نوروز کے جشن کو جمشید سے منسوب سے جانتے ہیں کہتے ہیں:وہ دن جو تازگی پر مشتمل تھا اس دن جمشید نے عید منائی اگرچہ اس سے پہلے بھی نوروزبزرگی اور عظمت سے جانا جاتا تھا۔

اسلام میں نوروز
اس سلسلہ میں احادیث اور روایات: قرآن مجید میں کلمۂ ’’عید‘‘ صرف ایک مرتبہ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۱۱۴ میں آیا ہے:’’عیسیٰ ابن مریم نے کہا بارالہٰا! اے پروردگار تو نے آسمان سے ہمارے لیے مائدہ بھیجا ہے تاکہ اس دن کو ہمارے لیے اور جو ہمارے بعد آئیں گے عید اور تیری جانب سے آیت اور حجت قرار دے حقا کہ تو بہترین روزی دینے والا ہے‘‘۔
ظہور اسلام اور دوسرے ادیان ومذاہب کے ساتھ اسلام کی ہماہنگی اورایرانیوں کے قومی اور مذہبی اعتقادات باعث ہوئے کہ ایران کے اسلامی معاشرے سے آداب و رسومات ایک دفعہ ہی حذف نہیں ہوئے،ایرانیوں کے تدریجی مسلمان ہونے سے آہستہ آہستہ اسلام کے دینی عقائد عوام میں رسوخ اور نفوذ کر تے ہوئے عوام میں رائج ہو گئے۔
شیخ صدوق اپنی کتاب’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:حضرت علی علیہ السلام کے لیے نوروز کا تحفہ لایا گیاحضرت ؑ نے پوچھا:یہ کیا ہے؟ کہا گیا:اے امیرالمؤمنینؑ! آج نوروز ہے۔فرمایاؑ:ہمارے ہر روز کو نوروز فرمائے یعنی خداوندمتعال کے لیے ایک دوسرے کو تحفہ دو اور ایک دوسرے سے ملنے جاؤ۔
شیخ طوسیؒ مصباح المتہجد میں لکھتے ہیں:حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے نوروز کے دن ارشاد فرمایا:جب نوروز ہو توغسل کرو،پاکیزہ کپڑے پہنو، خوشبو لگاؤ اور اس دن روزہ رکھو اور جب ظہر اور عصر کی نماز اور نوافل ادا کر لو تو چار رکعت نماز پڑھو جس کی پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد دس مرتبہ سورۂ قدر ،دوسری رکعت میں سورۂ حمد کے بعد۱۰ مرتبہ سورۂ کافرون ،تیسری رکعت میں سورۂ حمد کے بعد دس مرتبہ سورۂ اخلاص اور چوتھی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سورۂ فلق اور ناس پڑھو۔نماز کے بعد سجدۂ شکر انجام دو اور دعا کرو تمہارے پچاس سالہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔

ابن فہد حلی کتاب’’المہذب البارع‘‘میں اس طرح سے لکھتے ہیں:نوروز کی فضیلت میں جو نقل ہوا ہے وہ ہمارے بیانات کی تائید کرتا ہے،علامہ سید بہاء الدین علی بن عبدالحمید اپنی سند کے ساتھ معلی بن خُنیس نے حدیث نقل کرتے ہیں کہ ’’نوروز کا دن وہی دن ہے جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے مقام پر حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لیے بیعت لی اور مسلمانوں نے حضرتؑ کی ولایت کا اقرار کیا۔

نوروز کے آداب
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب روایت میں ملتا ہے کہ حضرتؑ ارشاد فرماتے ہیں:جب عید نوروز کا دن آئے تو غسل کرو،بہترین اور پاکیزہ کپڑے پہنو اور اپنی بہترین خشبوؤں میں سے خود کو معطر کرو اور اس دن روزہ رکھنا مستحب ہے۔
نوروز سے متعلق مختلف روایات میں مختلف اور گونا گون آداب ذکر ہوئے ہیں جن کی طرف مختصراً اشارہ کیا جاتا ہے:نمازنافلہ،نوروز کے دن ظہر اور عصر کی نماز کے بعد ایک چار رکعتی نماز،اس نماز کے سجدے میں دعاکرنا گناہوں کی بخشش کا باعث ہوتا ہے۔(اس نماز کو پڑھنے کا مکمل طریقہ مفاتیح الجنان ، نوروز کے اعمال میں درج ہے)۔
ذکر کرنا خصوصاً ْذکر’’یا ذی الجلال والاکرام‘‘
روزہ رکھنا
سال تبدیل ہوتے وقت دعا کرنا
 

ماخذ :
اہم الفاظ :