حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی سوانح حیات اور سیرت طیبہ
جمعرات , 03/18/2021 - 18:26
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی  سوانح حیات اور سیرت طیبہ
حضرت علی بن حسین بن علی بن ابی‌ طالب (38-95 ھ) امام سجاد اور زین العابدین کے نام سے مشہور، شیعوں کے چوتھے امام اور امام حسینؑ کے فرزند ہیں۔

خداوندِ متعال نے کوئی ایسا کمال خلق نہیں فرمایا جو امام زین العابدین علیہ السلام کی ذاتِ گرامی میں نہ پایا جاتا ہو۔ امامؑ انسانِ کامل، برگزیدۂ حق اور اخلاقی، عبادی اور علمی لحاظ سے اَوجِ کمال پر فائز تھے اور قرآنِ کریم اور سیرتِ رسولِ خد(ص) کی تعلیمات کا عملی نمونہ تھے۔
آپ 35 سال امامت کے عہدے پر فائز رہے۔ امام سجادؑ واقعہ کربلا میں حاضر تھے لیکن بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لے سکے۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد عمر بن سعد کے سپاہی آپ کو اسیران کربلا کے ساتھ کوفہ و شام لے گئے۔ کوفہ اور شام میں آپ کے دیئے گئے خطبات کے باعث لوگ اہل بیتؑ کے مقام و منزلت سے آگاہ ہوئے۔
امام علی بن الحسینؑ کی کنیات “ابو الحسن”، “ابو الحسین”، “ابو محمّد” اور “ابو عبداللہ” ہیں۔
آپ کے القاب میں زین العابدین، سید الساجدین، سجاد، ہاشمی، علوی، مدنی، قرشی اور علی اکبر شامل ہیں۔
واقعہ حرہ، تحریک توابین اور قیام مختار آپ کے دور امامت میں رونما ہوئے۔ امام سجادؑ کی دعاؤں اور مناجات کو صحیفہ سجادیہ میں جمع کیا گیا ہے۔ خدا اور خلق خدا کی نسبت انسان کی ذمہ داریوں سے متعلق کتاب، رسالۃ الحقوق بھی آپ سے منسوب ہے۔
تاریخی منابع میں منقول ہے کہ امام سجادؑ کی پندرہ اولادیں ہیں جن میں سے گیارہ( 11) بیٹے اور چار (4) بیٹیاں ہیں۔
عبادت
مالک بن انس سے مروی ہے کہ علی بن الحسین دن رات میں ایک ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے چنانچہ آپ کو زین العابدین کہا جاتا ہے۔
ابن عبد ربّہ لکھتا ہے: علی بن الحسین جب نماز کے لئے تیاری کرتے تو ایک لرزہ آپ کے وجود پر طاری ہوجاتا تھا۔ آپ سے سبب پوچھا گیا تو فرمایا: “وائے ہو تم پر! کیا تم جانتے ہو کہ میں اب کس ذات کے سامنے جاکر کھڑا ہونے والا ہوں! کس کے ساتھ راز و نیاز کرنے جارہا ہوں!؟”
مالک بن انس سے مروی ہے: علی بن الحسین نے احرام باندھا اور لبیّكَ اللهمّ لبَيكَ پڑھ لیا تو آپ پر غشی طاری ہوئی اور گھوڑے کی زین سے فرش زمین پر آ گرے۔
اسارت
عاشورا سنہ 61 کے بعد، جب لشکر یزید نے اہل بیت(ع) کو اسیر کرکے کوفہ منتقل کیا، تو ان میں سے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے علاوہ امام سجادؑ نے بھی اپنے خطبوں کے ذریعے حقائق واضح کئے اور حالات کی تشریح کی اور اپنا تعارف  کراتے ہوئے یزید کے کارندوں کے جرائم کو آشکار کردیا اور اہل کوفہ پر ملامت کی۔
امام سجادؑ نے کوفیوں سے خطاب کرنے کے بعد ابن زیاد کی مجلس میں بھی موقع پا کر چند مختصر جملوں کے ذریعے اس مجلس کے حاضرین کو متاثر کیا۔ اس مجلس میں ابن زیاد نے امام سجادؑ کے قتل کا حکم جاری کیا لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے درمیان میں آ کر ابن زياد کے خواب سچا نہيں ہونے دیا۔
اس کے بعد جب یزیدی لشکر اہل بیتؑ کو “خارجی اسیروں” کے عنوان سے شام لے گیا تو بھی امام سجاد علیہ السلام نے اپنے خطبوں کے ذریعے امویوں کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی۔
جب اسیران آل رسولؐ کو پہلی بار مجلس یزید میں لے جایا گیا تو امام سجادؑ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ امامؑ نے یزید سے مخاطب ہوکر فرمایا: تجھے خدا کی قسم دلاتا ہوں، تو کیا سمجھتا ہے اگر رسول اللہؐ ہمیں اس حال میں دیکھیں!؟ یزید نے حکم دیا کہ اسیروں کے ہاتھ پاؤں سے رسیاں کھول دی جائیں۔
اسارت کے بعد
امام سجادؑ واقعۂ کربلا کے بعد 34 سال بقید حیات رہے اور اس دوران آپ نے شہدائے کربلا کی یاد تازہ رکھنے کی ہر کوشش کی۔
پانی پیتے وقت والد کو یاد کرتے تھے، امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر گریہ کرتے اور آنسوں بہاتے تھے۔ ایک روایت کے ضمن میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول کہ امام سجادؑ نے (تقریبا) چالیس سال تک اپنے والد کے لئے گریہ کیا جبکہ دنوں کو روزہ رکھتے اور راتوں کو نماز و عبادت میں مصروف رہتے تھے، افطار کے وقت جب آپ کا خادم کھانا اور پانی لا کر عرض کرتا کہ آئیں اور کھانا کھائیں تو آپؑ فرمایا کرتے: “فرزند رسول اللہ بھوکے مارے گئے! فرزند رسول اللہؐ پیاسے مارے گئے!”، اور یہی بات مسلسل دہراتے رہتے اور گریہ کرتے ،آپ مسلسل اسی حالت میں تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے۔
اصحاب
ایک روایت کے ضمن میں منقول ہے کہ امام سجادؑ کو صرف چند افراد کی معیت حاصل تھی: سعید بن جبیر، سعید بن مسیب، محمد بن جبیر بن مطعم، یحیی بن ام طویل، ابو خالد کابلی
شیخ طوسی، نے امام سجادؑ کے اصحاب کی مجموعی تعداد 173 بیان کی ہے۔
امام سجادؑ شیعیان اہل بیتؑ کی قلت کا شکوہ کرتے تھے اور فرماتے تھے مکہ اور مدینہ میں ہمارے حقیقی پیروکاروں کی تعداد 20 افراد سے بھی کم ہے۔
شہادت
شیعہ احادیث کے مطابق امام سجادؑ کو ولید بن عبد الملک کے حکم سے مسموم کرکے شہید کیا گیا۔ آپ امام حسن مجتبیؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے ساتھ قبرستان بقیع میں مدفون ہیں۔ شہادت کے وقت عمر مبارک مشہور57 سال ہے اور 59 سال چار مہینے اور کچھ دن بھی مذکور ہے۔

ماخذ :
http://www.shahroudi.com/