کربلا کاجوان،دین خدا کی جوانی
جمعرات , 03/25/2021 - 9:49
کربلا کاجوان،دین خدا کی جوانی

کربلا دین خدا جوانی اور آئینۂ الفاظ و معانی
دور دور تک پھیلی ہوئی کائنات اور بشری افکار و تخیلات کی وسعتوں میں نہ سماپانے والی شش جہات کے تمام ذرات میں ایک ہی معطی کے گوناگون عطیات،اُس وحدہ لا شریک ذات کے فیاض وجود کی ناقابل انکار آیات ہیں۔۔۔۔ہاں وہ ایک ہی بے نظیر و بے مثال وحدت ہے جو سرچشمۂ کثرات ہے اور یہ تمام تر کثرات اس وحید و فرید معطی کی عطا کردہ خیرات ہیں، جو فرد واحد و صمد ہے،واجب بالذات ہے جبکہ مخلوقات اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ممکنات ہیں۔وہ اقدس ذات،ذاتِ اسماء حسنيٰ بھی ہے اور صفاتِ علیا بھی۔
وللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا
ایسا نہیں ہے کہ اس نے انسان کو ایسی وسعتوں بھری کائنات میں نعمتِ حیات دے کر بھیج دیا ہو کہ وہ حیران و پریشان رہے،حقائق و دقائق کی معرفت حاصل نہ کرسکے اور سرگردانی کے حالات میں موت و ممات کے حملات کا شکار ہوکر حیات سے ہاتھ دھوبیٹھے اس لیے کہ وہ ذات بابرکات جو خود علیم و قدیر وحی و حکیم ہے،مخصوص اہداف رکھتی ہے وہ بذاتہ نور ہے اپنی مخلوقات کو ظلمات و توھمات میں نہیں دیکھنا چاہتی،سلسلۂ ہدایت کے منہ بولتے بیانات اسی بات کا اثبات کررہے ہیں۔ہدایات انبیاء واوصیاء علیہم السلام اور دلالات عقل و ذکاء،دنیوی و اخروی سعادات و کمالات جیسے ثمرات و عائدات لیے ہوئے ہیں۔
اگر عزازیل نے انہدامئ ہدایات کی قسم اٹھائی تھی تو وہیں پر ایک اعتراف عجز کی بات بھی اس کے دامنگیر ہوئی تھی اور وہ یہ کہ خدا ونداتیرے مخلص بندوں پر میرا بس نہ چل پائے گا اور ان کو تیری عبادات کے زمرے سے نکال باہر لانا میرے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ایسی خدا شناس ہستیوں کی معرفت باہوش اور عقلمند انسان پر ہر جہت سے واجب ہے۔۔۔۔وہ کون ہیں؟‘‘معطی کوثر’’کی خاص عنایات و عطیات پانے والی باعثِ تخلیق کائنات ہستیاں؛جن کے چودہ انوار پانچ میں خلاصہ ہوئے اور پانچتن کی وحدت ذاتِ رسالت قرار پائی صلی اللہ علیہ وعلیہم اجمعین۔
ان انوار الہٰی کی مقدس ذوات کی معرفت و تعریفات کی کما حقہ شائستگی خالق کائنات کے علاوہ کون رکھتا ہے۔یہی ہیں جنہوں نے خود خداوند حیات و ممات کے عشق میں اس کے قسم خوردہ دشمن کو ایسا نامراد و ناکام کردیا کہ سب ملائکہ و انبیاء فراتِ حیرت میں غرقاب ہونے لگے۔
کیونکہ سب بہ اذن الہٰی دیکھ رہے تھے کہ دشمنانِ دین خدا یکجا ہوکر دولت و ثروت اور حکومت وامارات کے سبزباغات دکھا کر بندگان خدا کو اغوا کرتے جارہے تھے،سب انبیاء کی نگاہیں اپنے سید و سردار،حبیب کردگار حضرت احمد مختار صلی اللہ علیہ وآلہ پر جمی ہوئی تھیں اور آنحضرت کی اشکبار لیکن مطمئن نظر یں میں اپنے جگر پارے علی مرتضيٰ و فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہما کے دلارے حسین سلام اللہ علیہ پر مرکوز تھیں۔
حسین ،کون حسین؟ جو آج عاشور کے دن شجر دین مبین کو ظلم وستم کی ناقابل وصف تیز آندھیوں میں استحکام بخش رہا تھا،روئے زمین پر حبیب خدا کا یکتا و تنہا نواسہ،لیکن شجر دین کو تباہ و ویران کرنے کے ناپاک ارادے کی حامل تمام آفات و بلیات کا مقابلہ کرنے والے حسین ،اپنے اس مقدس ہدف میں اس راہِ عشق کی پرخطر راہوں کے بے باک راہی حسین کی تنہائی کا احساس کرکے خون رسالت رکھنے والا ایک مختصر مگر پختہ عزم کا مالک قافلہ اسی حسین مظلوم کی ہمراہی کررہا تھا۔کچھ اعوان و انصار بھی اپنے زمانے کے امام علیہ السلام کا ساتھ دینے کیلیے آمادہ ہوگئے تھے،کچھ کو بلوا لیا گیا تھا۔
دس محرم الحرام۶۱ ہجری قمری ایک تاریخی ہی نہیں بلکہ تاریخ سازدن تھا۔طرفین کی تعداد قابلِ مقایسہ نہیں تھی کیونکہ ادھر لحظہ بلحظہ سینکڑوں اور ہزاروں کےمسلح لشکر جمع ہورہے تھے، باطل حق سے بیعت لینے کے شرمندۂ تعبیر ہونے کی قابلیت نہ رکھنے والے خواب دیکھ رہا تھا لیکن مظہر حق وحقیقت ،محافظ دین و شریعت حسین ابن علی علیہما السلام نے دو ٹوک الفاظ میں فصاحت وبلاغت کی دامنہ دار وسعتوں کو ایک مختصر جملے میں سمیٹ کررکھ دیا تھا
مثلی لا یبایع مثلہ
طواغیت عصر کے روپ میں خداوندمتعال کا قسم خوردہ دشمن اس کے پسندیدہ دین اسلام پر اپنے زعم باطل میں ضرب کاری لگانے کی ٹھان چکا تھا۔وہ عزم بالجزم کرچکا تھا کہ اذان سے خاتم الانبیاء حبیب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ کا نام نامی نقش برآب کردے گا اور اس طرح اس کے عزازیلی اوہام کے مطابق ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ِخدا حلال اور حلال ِخدا حرام ہوکر رہ جائے گا،دینی حدوں کو آسانی سے مسمار کردے گا اور نام تو دین کا رہے گا لیکن کام دین کا نہیں رہے گا۔۔۔۔وہ بخوبی جانتا تھا کہ اس زمانے میں دین کا نام دین کے حقیقی وارث اور پیغمبر خاتم کے دل کے چین امام حسین علیہ السلام کے نام سے طراوت و تازگی لے رہا ہے لہٰذا اس نے ورثے میں ملنے والی باطل پرست سوچ بچار کی بنیاد پر دین کے خدوخال میں تبدیلی لانے کا یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اس روح دین کو پیکر دین سے جدا کرنےکیلئے ہر حیلہ و حربہ بروئے کار لائے گا۔۔۔۔اور وہ فیصلہ کن وقت نزدیک آگیا۔ طوفانِ طغیان اپنے پورے زور و شور سے شجر اسلام کو آناً فاناً جڑوں سے اُکھاڑ پھینکنا چاہتا تھا۔باطل اپنی فریب خوردہ تعداد کی کثرت پر بہت مغرور تھا اور اس کے مقابلے میں دین خدا کی جان امام زمان علیہ السلام کی انگشت شمار ناچیز تعداد کو خاطر میں ہی نہیں لا رہا تھا۔۔۔۔الحاصل پے درپے حملے شروع ہوئے،بے مثل جان نثار اعوان و انصار نے خاندانِ وحی سے دفاع میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنا شروع کیے۔شبِ عاشور کے روزِ عاشور میں تبدیل ہوتے ہوتے حر کی قسمت بھی تبدیل ہوچکی تھی،لطفِ امام علیہ السلام کی برکت سے ناری نوری ہوگیا تھا،مسلخ عشق پر جانوں کی بازیاں لگائی جارہی تھیں۔۔۔۔اب اعوان وانصار سے جان نثار تو جانوں سے گذرچکے تھے لیکن دشمن کے خناسانہ پے در پے حملات میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔
اب وقت آن پہنچا تھا کہ شجر اسلام اپنے پیکر میں شدید ضعف کا احساس کرتے ہوئے صاحب شریعت کے محافظِ شریعت نو اسے سے جوانی کا سوال کرنے لگا کیونکہ مد مقابل ظلم و ستم کی آندھیاں بہت تیز تھیں۔ ماضی قریب میں کچھ ایسی ہی آندھیاں چلی تھیں جب مظلومیت کی صدائیں بلند ہوکر فضا میں گونجنے لگی تھیں۔
۔۔۔۔۔‘‘صبّت عليّ مصائب لو انّھا
صبت علی الایام صرن لیالیا’’
اور اٹھارہ سالہ عصمت کا شباب بڑھاپے میں تبدیل ہوکررہ گیا تھا اور پھر پچیس برس تک دین مبین کا شجر سنبھلنے نہ پایا تھا،حُسنِ دین خدا امام حسن مجتبيٰ علیہ السلام کو مسموم کیا گیا اور وہ اپنی مصیبت کو بھول کر عاشور کے دن کے مصائب سامنے لاکر غمزدہ واشکبار ہوکر فرمارہے تھے میرے پیارے حسین آپ کے عاشور والے مصائب کی مثال نظر نہیں آتی۔۔۔۔‘‘لا یوم کیومک یا ابا عبداللہ ’’محافظ شریعت ہر ممکنہ قربانی پیش کرنے پر مصمم تھا اور ہر قیمت پر،ہرقربانی پر شجر اسلام کی جوانی کا خواہاں تھا۔اب اسلام سائل تھا اور خاندانِ کرم کی سخاوت مند ترین فرد اپنی دولت و ثروت کے گنجینے لٹا دینے پر مائل بہ کرم دکھائی دے رہی تھی،حفظ دین کے وعدے اچھی طرح یاد تھے اور وفا کے انداز انتہائی نرالے تھے،سوچا اگر بر وقت دین کی جوانی کی ضمانت پیش نہ کی جائے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ورسل علیہم السلام کی محنتیں بے ثمرہ ہوکررہ جائیں گی۔محافظ شریعت نے محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی آغوش مبارک میں پرورش پائی تھی اس لیے دین کی بربادی ہرگز نہیں دیکھ سکتے تھے،اچھی طرح یاد تھا کہ نانا پاک نے جب آغوش میں ایک طرف اپنے اسی نواسے اور دوسرے طرف اپنے فرزند‘‘ابراہیم’’کو بٹھایا ہوا تھا؛خداوندمتعال نے امتحان لیا تھا کہ ان دو بچوں میں سے جو زیادہ عزیز ہے، دوسرے کو اس پر قربان کرنا ہوگا تو اس قدسی وجود نے اپنے فرزند کو نواسے پر قربان کرلینا منظور کیا تھا۔۔۔۔اورفرمایاتھا۔‘‘حسین منی وانا من الحسین’’اب اس حدیث شریف کے ذیل کے اثبات کا موقع تھا۔دین خدا سوالی تھا،سوال جوانی کا سوال تھا،ہجرت ختمی مرتبت کے ساٹھ سال گزرچکے تھے،ساٹھویں سال کا نصف حصہ گزرنے کے بعد ماہ رجب کے اواخر میں نواسۂ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی ہجرت کا آغاز ہوچکا تھا۔۔۔۔دوم محرم الحرام ۶۱ ہجری کربلا پہنچ چکے تھے۔نئے سال کے پہلے مہینے کے نو دن گزرچکے تھے ایک رات کی مہلت لی تھی وہ بھی گزرچکی تھی۔۔۔۔اعوان وانصار اپنی نصرت کے وعدے نبھا چکے تھے،دین کو کچھ قوت ملی تھی،اب جبکہ ہاشمی خون دین کے کام آیا چاہتا تھا، عاشقِ توحید مولا امام حسین علیہ السلام نے سب پر ایک نگاہ دوڑائی شاید ذہن مبارک میں موقع و محل کی مناسبت سے اُس آیۂ کریمہ کے مضمون کی فضا حاکم تھی
لن تنالواالبرحتی تنفقوا مما تحبون
لہٰذا اپنے کڑیل جوان شبیہ پیغمبر حضرت علی اکبر علیہ السلام کا انتخاب سامنے آیا ۔اپنے باباکے ارادوں کو سمجھنے والے اس عشق توحید کے پروردہ ممسوس فی اللہ۔غرق عشق خدا۔نے شکر خدا بجالاتے ہوئے اذن جہاد کا سوال کیا۔۔۔۔نواسۂ رسول نے دیکھا تو اپنے روبرو شکل و صورت اور گفتار و سیرت کے آئینے میں گویا ہوبہو اپنے نانا کا جمال وکمال دکھائی دیا۔اس طرف نانا کے دین کو دیکھا،اس طرف اپنے جوان حسین کو دیکھا اور ان دونوں کے ساتھ عشق حقیقی کے مقدس آئین کو دیکھا۔پس بغیر کسی وقفے کے اجازت مرحمت فرمادی۔۔۔۔اگرچہ علی اکبر جیسے جوان بیٹے کو امام حسین علیہ السلام جیسے باپ کےلیے اذن میدان دینا کچھ آسان کام نہیں تھا لیکن اپنے ہدف اور عشق کے راستے میں یہ قربانی قبول کی۔دین خدا نے اپنی تازہ جوانی پائی،انبیاء ورسل کی خزاں رسیدہ محنتوں کے چمن میں بہار آئی،عزازیل کی شکست و ہزیمت پر مہر ثبت ہوئی،ملائکہ کو ‘‘انی اعلم مالا تعلمون ’’کی بازگشت سنائی دینے لگی۔اب اس جوانی دین کی حفاظت کا مسئلہ درپیش تھا تو کبھی بستر بیماری سے غش کے افاقے میں مولا علی زین العابدین علیہ السلام کی دعاؤں، کمسن شہزادے محمد باقر علیہ السلام اور کمسن معصوم سکینہ علیہماالسلام کی آمین کی دلی التجاؤں نے مدد کی،کبھی کربلا کی شیردل خاتون ناموس خدا حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی سربراہی میں مخدرات عصمت و طہارت کی مناجات نے نصرت کی،کبھی عون و محمد علیہما السلام کے معصوم جذبے کام آئے تو کبھی قاسم ابن الحسن علیہماالسلام کی پاکیزہ نوجوانی نے ڈھارس دی اور۔۔۔۔۔کچھ زیادہ ضرورت محسوس ہوئی تو سیرابی عطش کے بہانے شہنشاہِ وفا علیہ السلام کے قوت و قدرت والے دو مضبوط بازوؤں نے سہارا دیا۔
اہلبیت علیہم السلام کے افراد نے اپنے امام زمان علیہ السلام کی خوشنودی کے لیے اپنی اپنی قربانیاں پیش کرکے حفظ شباب دین میں بہترین کردار ادا کیے اور پھر۔۔۔۔
نفس مطمئنہ نے لفظ عشق کے مقدس پیکر کو جاودانی معانی کی ابدی زندگانی عطا فرماکر وہ جلوہ خلق فرمایا کہ دین محفوظ، انبیاء راضی،سیدالانبیاء خوشنود اور۔۔۔۔خالق اکبر أحسن الخالقین کی رضایت بھری آواز میدان کربلا میں یوں گونجنے لگی
‘‘یا ایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی’’
‘‘اے میرے حسین! اب وصل کی گھڑیاں آن پہنچیں،اس سے زیادہ فصل گوارا نہیں فوراً میرے پاس لوٹ آ،تو مجھ سے راضی ہے اور میں تجھ سے راضی ،آجا میرے خالص بندوں کے زمرے اور میری مخصوص جنت میں داخل ہوجا’’
اذن دخول
سر نہم بر درب خسرو،گردہند اذنِ دخول
باادب باید شوم وارد حریمِ اولیاء
اے خزینۂ خدائی! اے گنجینۂ الہٰی!
یا بقیۃ اللہ فی خلق اللہ عزوجل
اے شہنشاہِ دوران! اےامام زمان!
سلام اللہ علیک وعليٰ آبائک الطیبین الطاھرین المعصومین
اے حجت خدا! آپ کا در، درِ عطا ہے ألذی منہ یؤتٰی
آپ ہر آن مائل بہ کرم ہیں،مجھ ایسے عاصیوں کا بھی آپ ہی بھرم ہیں۔
آپ کی چوکھٹ پر ایک سوالی ہے۔جو ہے،جیسا ہے آپ کا ہی نام لیوا اور موالی ہے۔
اے سرزمین کرب و بلا میں ناحق بہائے جانے والے مقدس خون کے وارث،اے روئے زمین پر خاندان کرم وجود کی وحید و فرید کریم ترین فرد!
آپ سے آپ کے جد بزرگوار فاتح کربلا حضرت سید الشہداء امام عالیمقام مولام حسین علیہ السلام کی آنکھوں کے نور،علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کے دل کے سرور،شبیہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی اکبر علیہ السلام کے اوصاف و فضائل اور اخلاق و خصائل کے بارے میں
‘‘جوان کربلا جوانيِ دین خدا’’
کے موضوع پر الطاف عالیہ کی گدائی کررہا ہوں۔
اب آپ ہیں،آپ کا باب عطا اور یہ مفلس گدا
اور پھر آپ کی عطاؤں کے سائے میں اس بحر معارف کے لیے اذن دخول چاہیے تاکہ شہزادۂ کربلا کی ساحت مقدس میں عرض ادب کی توفیق رفیق رہے
مولاجان!آپ کی اجازت سے شہزادے کی خدمت میں عرض پرداز ہیں کہ:
حسن و جمال پیغمبر کے پیکر شہزادے اکبر!
اک دیدار کے طالب ہیں اے کرم کے والی!ہم در پر
ولادت باسعادت‘‘طلوع شعاع نور حسینی’’
حضرت امام حسین علیہ السلام کی جد بزرگوار حضرت احمد مختار صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ محبت زبان زد عام و خاص ہے۔مشہور و معروف حدیث نبوی ہے:
حسین منی وانا من الحسین
یعنی حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔
حضرت امام حسین علیہ السلام بچپن سے آغوش رسالت سے اس قدر مانوس تھے کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ‘‘حسین رسول خدا کی زندگی میں انھیں بابا کہہ کرپکارتے تھے اور مجھے اباالحسن کہتے تھے،جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اس دنیا سے گزرگئے تو پھر مجھے بابا کہنے لگے’’(۱)
فراق جد میں نواسۂ رسول بہت محزون رہاکرتےتھے۔کہ خداوند حکیم نے نواسۂ رسول کے گھر شبیہ رسول کو بھیج کر پھر سے وہ یادیں تازہ فرمادیں۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
خدا نے بھیج دی بعد نبی حسین کے گھر
رکھی تھی اپنے لیے جو شبیہ پیغمبر
گئے رسول ادھر،اکبر اس طرف آئے
غم فراق کا شکوہ رہا ادھر نہ ادھر
تاریخ ولادت با سعادت
حضرت علی اکبر علیہ السلام کی تاریخ ولادت ۱۱ شعبان المعظم ہے۔
نام نامی واسم گرامی علی تھا،علی اکبر کہلاتے تھے جبکہ رسم عرب کے موافق شہزادے بھی کنیت رکھتے تھے اور ان کی کنیت ابوالحسن تھی۔
سال ولادت با سعادت
سال ولادت تاریخ میں اختلافی ہے اسی لیے حضرت کا سن مبارک بھی اختلافی امر ہے اگرچہ ہماری تحقیق کی روشنی میں سال ولادت باسعادت تقریباً۵۳ ہجری قمری ہے قانع کنندہ بحث انشاء اللہ عنقریب آئے گی۔(۲)
والد بزرگوار
شہزادے کے والد بزرگوار محسن اسلام حضرت امام حسین ابن علی ابن ابیطالب علیہم السلام ہیں؛جن کے بھائی امام حسن مجتبيٰ و ابوالفضل العباس علیہماالسلام، بہن عقیلۂ بنی ہاشم حضرت زینب کبريٰ سلام اللہ علیہا،ماں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور نانا بزرگوار حضرت محمد مصطفيٰ صلی اللہ علیہ وآلہ ہیں۔یہ گھرانہ تمام فضیلتوں اور شرافتوں کامایہ ناز مسکن و مأويٰ اور نزول وحی کا کاشانہ ہے۔
والدہ ماجدہ
شہزادے کی والدہ ماجدہ حضرت لیليٰ بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔آپ کے نانا عروہ بن مسعود ثقفی قریش میں عظیم المرتبت شخصیت تھے وہ قریش مکہ کی طرف سے حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں صلح نامۂ حدیبیہ کی موافقت کے لیے بھیجے گئے۔عروہ اہل طائف تھے اور انہوں نے ۹ ھ میں اسلام قبول کیا پھر اپنی قوم کی ہدایت اور دین اسلام کی تبلیغ کے لیے ان کی طرف گئے لیکن اسی قوم کے ہاتھوں نماز سے پہلے اذان کہتے ہوتے تیر ستم سے مرتبۂ شہادت پرفائز ہوئے۔پیغمبر خدا ان کی شہادت پر بہت غمگین ہوئے اور اس شہید کے بارے میں فرمایا:
لیس مثلہ فی قومہ الا کمثل صاحب یاسین فی قومہ(۳)
یعنی عروہ صاحب یاسین کی مثل ہیں جو اپنی قوم کے لیے ہدایت کا فریضہ انجام دیتے تھے(اور اسی راہ میں شہید ہوئے)
سن مبارک
شہزادے کے سال ولادت میں اختلاف کی وجہ سے سن مبارک میں بھی اختلاف ہے اور یہ اختلاف تاریخ و مؤرخین کے اس باب میں شدت ضعف پر دلیل ہے کیونکہ اس بارے میں متعلقہ کتب میں اقوال عجیب و غریب ہیں؛ملاحظۃ فرمائیں:
۷ سال ، ۱۸ سال ، ۱۹ سال،۲۰ سال،۲۳ سال،۲۷ سال،۲۹ سال ،۳۳ سال،۳۸ سال
مشہور قول
ان مختلف اور متعدد اقوال میں انسان حیران و پریشان ہوکررہ جاتا ہے البتہ کچھ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مہم اختلاف دو تین اقوال میں ہے بہرحال بحمد اللہ قول مشہور ہمیں اس تعدد و کثرت سے وحدت پر لاتا ہے۔یہ قول دلالت کرتا ہے کہ شہزادۂ کربلا حضرت علی اکبر علیہ السلام کا سن مبارک ۶۱ ہجری کربلا میں ۱۸ برس کا تھا۔
منتخب و مختار قول
ہمارے نزدیک حضرت علی اکبر علیہ السلام کے سن مبارک میں مشہور قول درست ہے،یہی قول ہمارا بھی منتخب اور مختار قول ہے۔ظاہراً تمام اسلامی ممالک میں یہی قول شہرت کا حامل ہے خصوصاً ہمارے برصغیر میں اس باب میں مشہور و معروف قول یہی ہے نثر و نظم میں غالباً حضرت کا سن مبارک۱۸ سال ہی نظر آتا ہے۔
مقتل کی تمام کتب میں موجود ہے کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے فرزند دلبند کو میدان کی طرف روانہ کرنے لگے تو بارگاہ احدیت میں یوں عارض ہوئے:
اللھم اشھد علی ھؤلاء القوم فقد برز الیھم غلام اشبہ الناس خلقا و خلقا و منطقا برسولک صلی اللہ علیہ وآلہ۔۔۔۔۔
‘‘بارالہٰا! گواہ رہنا اس قوم ستمگر سے جنگ کرنے کے لیے ایسا جوان جارہا ہے جو خلقت و اطوار،رفتار اور گفتار میں تمام لوگوں سے زیادہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شباہت رکھتا ہے۔۔۔۔۔’’(۴)
لسان عصمت سے ادا کیا ہوا لفظِ مبارک ‘‘غلام’’یعنی جوان،نوخیز،اسی مطلب پر دلالت کررہا ہےکہ شہزادہ سن کے اعتبار سے ابھی سنِ جوانی سے متجاوز نہیں ہوا تھا،جہاں تک تأویلات و توجیہات کا تعلق ہے تو اصل کلام اور اول کلام کو حقیقت پر ہی حمل کیا جاتا ہے اور یہاں پر کوئی قرینہ صارفہ بھی نہیں کہ حقیقت کی بجائے مجاز کی نوبت آئے لہٰذا غلام سے مراد یہی تازہ جوان ہی ہے جو کہ اقوال میں سے ۱۸ سال سن کے ساتھ زیادہ موافقت و مطابقت رکھتا ہے۔
بزرگ محقق علماء جیسے شیخ مفید،شیخ طوسی وسید ابن طاؤوس رحمہم اللہ تعاليٰ نے اپنے اپنے آثار میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کا سن مبارک کربلا میں اٹھارہ سال قلمبند فرمایا ہے۔(۵)
اسی کتاب ‘‘خورشید جوانان’’کے مؤلف نے اس قول کے قبول کرنے کو‘‘ تاریخی احتیاط’’ سے تعبیر کیا ہے۔اگرچہ ان کےاپنے دلائل کا ماحصل اس قول کے خلاف ہے لیکن ایسی بزرگ محقق شخصیات کے منتخب قول کے بارے میں قائل ہیں کہ یقیناً ایسے بزرگان علم کے دلائل پختہ اور قوی تر ہوں گے کہ انہوں نے ۱۸ سال والا قول اختیار کیا ہے لہٰذا احتیاط تاریخی اس امر کی مقتضی ہے کہ ان کے قول کی مخالفت نہ کی جائے اور اسی مشہور قول کو قبول کرلیا جائے کیونکہ ہوسکتا ہےکہ ان بزرگان کے پاس موجود دلائل ہمارے قیل و قال سے مافوق ہوں۔اس محقق مؤلف نے اس بحث کے آخر میں اضافہ کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ لقب‘‘اکبر’’چھوٹے شہزادے علی اصغر علیہ السلام کے لقب ‘‘اصغر’’سے قیاس کرتے ہوئے ملا ہو۔(۶)
محقق تفریشی نے بھی اپنے استدلال میں سابق الذکر بزرگان کے قول کی تائید کی ہے لہٰذا ان کے نزدیک بھی شہزادے کا سن مبارک ۱۸ سال ہے۔(۷)
اس قول کی تائید میں کتاب مستطاب‘‘ثمرات الاعواد’’کے مؤلف بزرگوار یوں رقمطراز ہیں:‘‘حضرت علی اکبر علیہ السلام اپنی جدہ مظلومہ حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کے ساتھ اس لحاظ سے شباہت رکھتے ہیں کہ ان دونوں کی عمریں کم تھیں اور دونوں ہی اٹھارہ سالگی میں شہادت کی سعادت پر فائز ہوئے۔(۸)
حضرت امام حسین علیہ السلام کے کلمات وارشادات پر مبنی مبسوط کتاب‘‘موسوعۃ کلمات الامام الحسین علیہ السلام’’میں شہادت اہل البیت علیہم السلام کے تحت بحث کی ابتدا میں اعیان الشیعہ سے منقول قول میں بھی شہزادے کے۱۸ سال سن والے قول کو نہیں ٹھکرایا گیا،ان کے مطابق حضرت علی اکبر علیہ السلام کا سن مبارک ۱۸ سال،۱۹ سال یا ۲۵ سال ہے اور وہ آل ابو طالب کے پہلے شہید ہیں(۹)
کتاب شریف مصابیح الہديٰ میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کا سن مبارک ۱۹ سال نقل ہوا ہے اسی کتاب اور نیز تمام کتب مقاتل میں شہزادے کے مبارزطلبی کے اشعار موجود و محفوظ ہیں۔شہزادے نے جب پہلی مرتبہ قوم اشقیاء پر حملہ کیا تو شہزادے کا رجز یہ تھا:
أنا علی بن الحسین بن علی
نحن و بیت اللہ اوليٰ بالنبی
تاللہ لا یحکم فینا ابن الدعی
اضرب بالسیف أحامی عن أبی
ضرب غلام ھاشمی قرشی (۱۰)
یہاں شاہد بحث حضرت کے رجز کا آخری مصرعہ ہے جس میں خود فرمارہے ہیں کہ ‘‘میری ضرب، ہاشمی قرشی جوان کی ضرب ہے’’اس کلمۂ غلام سے بھی شہزادے کا جوانسال ہوناظاہر ہے۔
شاعری چاہے کسی بھی زبان کی ہو جب کربلا،عاشورا اور قربانیوں کا ذکر ہوتا ہے تو ایک جوان کی جوانی بھی ذکر ہوتی ہے۔
اردو زبان میں شعرا کے بے شمار اشعار شہزادۂ کربلا کی جوانی پردلالت کرتے ہیں اس مختصر مقالے میں زیادہ اشعار تو نہیں لیکن نمونے کے طور پر چند اشعار ضرور پیش کرتے ہیں میر سخن میر ببر علی انیس کے مقبول عام مراثی،سلام اور رباعیات کے بہترین انتخاب جواہر انیس سے ملاحظہ فرمائیے:
شاہ کہتے تھے یہ دنیا بھی ہے عبرت کی جگہ
مرگیا بیٹا جواں اور باپ روسکتا نہیں
(اقتباس از سلام ص۲۶۴)
حسین کہتے تھے واحسرتا علی اکبر!
بہار باغ جوانی ہمیں دکھا کے گئے
(اقتباس از سلام ص۲۵۴)
شہزادہ علی اکبر علیہ السلام کے بارے میں مشہور مرثیہ اس مسدس سے شروع ہوتا ہے:
جب نوجواں پسر شہِ دیں سے جدا ہوا
روشن قمر سپہر بریں سے جدا ہوا
نور نظر امام مبیں سے جدا ہوا
لخت جگر حسین حزیں سے جدا ہوا
دل داغ ہوگیا دل و جان بتول کا
گھر بے چراغ ہوگیا سبط رسول کا
(از مرثیہ ۱۵ ص۱۷۰)
فرزند جوان ہم شکل پیغمبر علی اکبر علیہ السلام کے غلام کے عنوان سے ،موصوف کے مرثیہ سے پہلے دو بند ملاحظہ ہوں:
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا
کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا
کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا
کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا
کس داغ میں صدمہ ہے فرق دل و جاں کا
وہ داغ ضعیفی میں ہے فرزند جواں کا

جب باغ جہاں اکبر ذی جاہ سے چھوٹا
پیری میں برابر کا پسر شاہ سے چھوٹا
فرزند جواں ابن یداللہ سے چھوٹا
کیا اختر خورشید لقا ،ماہ سے چھوٹا
تصویر غم و درد سراپا ہوئے شبیر
ناموس میں ماتم ہے کہ تنہا ہوئے شبیر
(از مرثیہ ۱۶ص۱۹۰)(۱۱)
میرانیس کے ان اشعار میں کمال وضوح سے شہزادے کی جوانی کی عکاسی ملتی ہے۔
اردو زبان کے ایک شہرہ آفاق شاعر،جنہیں شاعر شباب ،مصور شباب اور شاعر انقلاب جیسے خطابات سے نوازا گیا یعنی جوش ملیح آبادی‘‘جوش ملیح آبادی کے مرثیے’’نامی مجموعہ شعری سے چند اشعار اسی بحث کے ضمن میں پیش کیے دیتے ہیں:
مولا! حبیب ابن مظاہر کے شیب کو
تونے شباب قاسم واکبر بنادیا
(اقتباس از سلام ص۲۱۳)
کچھ سنا کیا کہہ رہا ہے جوش اکبر کا شباب
مینہ میں تیروں کے جوانی کو نہانا چاہیئے
(مقطع از سلام ص۲۱۵)
مرقد شہزادۂ اکبر سے آتی ہے صدا
حق پہ جو مٹ جائے ایسی نوجوانی چاہیے
شاہ فرماتے ہیں جالے جا خدا کے نام پر
موت جب کہتی ہے اکبر کی جوانی چاہیے
(اقتباس از سلام ص۲۱۶)
اے برادر تجھ کواکبر کی جوانی کی قسم
جوہوا تھا بند اس مقتل کے پانی کی قسم
ناتواں عابد کی بیڑی کی گرانی کی قسم
زینب خود دار کی آتش بیانی کی قسم
غرق کردے ہچکیاں،مردانگی کے راگ میں
کود پڑ نمرود حاضر کی بھڑگتی آگ میں(۱۲)
(جوش کے معروف مرثیہ‘‘زندگی و موت محمد و آل محمد کی نظر میں’’کا ایک بند: ۸۱ص۱۸۹)
جوش کے اشعار سے بھی شہزادۂ علی اکبر علیہ السلام کا شباب و جوانی واضح طور پر معلوم ہے۔
فارسی مذہبی شاعری میں بھی شعراء نے اس محسنِ دین،جوانی بخش جوان کا تذکرہ اسی انداز میں کیا ہے چند منتخب نمونے قارئین و محققین کیلیے قلمبند کیے جاتے ہیں:
آیت اللہ غروی اصفہانی اپنے مخمس والے کلام میں فرماتے ہیں :(زبان حال حضرت سیدالشہداء علیہ السلام)
بود امید ای نازنینم
بزم دامادیت را بچینم
حجلۂ شادیت را ببینم
ای علی اکبر نوجوانم
ای بخون غرقہ روح و روانم

حیف از آن لالہ ارغوانی
شد خزان در بھارجوانی
خاک غم برسر زندگانی
ای علی اکبر نو جوانم
ای بخون غرقہ روح و روانم(۱۳)
ان اشعار میں جہاں زبانِ حال حضرت سید الشہدا علیہ السلام سے یہ اظہار ہورہا ہے کہ شہزادے کی شادی خانہ آبادی کی حسرت پوری نہیں ہوسکی وہاں نوجوانی کے سن میں داغ فرقت بھی برملا بیان ہورہا ہے۔
اسی شاعر بزرگوار کا ایک اور کلام جس میں شہزادے کی والدہ ماجدہ کے احوال قلب کی عکاسی ہورہی ہے ملاحظہ ہو:
ندانستم کہ مرگ ناگھانی
عنان گیرد تورا در نوجوانی
بھمت می توان از جان گذشتن
ولیکن از جوان نتوان گذشتن۔۔۔
جوانا سوی مادر یک نظر کن
بیارحمی براین چشمانِ تر کن (۱۴)
دیوان عاشورا میں اس بحث سے مربوط کلام میں سے ‘‘لا فتی الا علی،،،’’کے تحت عنوان یہ اشعار قابل ملاحظہ ہیں:
اکبر آن شبہ پیمبر آن شجاع نامدار
آن جوان ماہ پیکر آن یل با اقتدار
یادگار جد پاکش حیدر دلدل سوار
نبود در شأن او شایستہ غیر این شعار
لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار(۱۵)
اس بند میں شاعر کی‘‘جوان ماہ پیکر’’ تعبیر شہزادے کے جوانساں ہونے پر دلالت کررہی ہے۔
حکیم الہٰی قمشہ ای کے کلام‘‘اختر عشق،اکبر شہ زادگان’’ میں ہماری بحث سے متعلقہ بیت اس طرح سے ہے:
تازہ جوانی ز نژاد رسول
نو گلی از باغ رشاد رسول (۱۶)
دیوان ناصر الدین شاہ قاجار سے جوانی علی اکبر علیہ السلام کا شعر یوں نقل ہوا ہے:
پائین پای قبر علی اکبر جوان
ھفتاد و یک شھید چو خورشید انوراست(۱۷)
خلاصۂ بحث یہ کہ شہزادۂ کرب وبلا کے سن مبارک کے بارے میں عربی،اردو اور فارسی آثار (نثری و شعری)مشہور اور ہمارے منتخب و مختار قول پر مہر تائید ثبت کررہے ہیں۔
لفظ ‘‘غلام’’ کا مصداق ،بزرگ علماء کے نزدیک اٹھارہ سالہ شہزادہ،شعرا ءکے ہاں جوانسال ہمارے مولا علی اکبر علیہ السلام ہیں۔
علی اکبر علیہ السلام شبیہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ
ای کہ در حُسن و خرد شھرۂ عالم بودی
اشبہ الناس بہ پیغمبر خاتم بودی
پیش حسن تو دم از یوسف کنعان نزنم
کہ تو زیباتر از او در ھمہ عالم بودی(۱۸)
۔۔۔۔۔ثم قال:اللھم اشھد،فقد برز الیھم غلام اشبہ الناس خلقا و خلقا و منطقا برسولک صلی اللہ علیہ وآلہ،وکنا اذا اشتقنا الی نبیک نظر نا الیہ’’(۱۹)
میدان کربلا میں بروز عاشور حجت خدا حضرت سید الشہداء علیہ السلام سے ان کے کڑیل جوان بیٹے نے جہاد کی اجازت مانگی،مولانے اجازت دے دی،آنکھیں اشکبار ہو گئیں،چشم نیاز بارگاہ بے نیاز میں اٹھی،لب جنبش میں آئے:
‘‘خداوندا!گواہ رہنا،ان کی طرف ایسا جوان جارہا ہے جو خلق ،خلق اور منطق میں تمام لوگوں میں سے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ سے زیادہ شباہت رکھتا ہے۔۔۔ہمیں جب بھی تیرے نبی کی زیارت کا اشتیاق ہوتا تو ہم اس جوان کو دیکھ لیتے تھے’’۔
شباہت ایسی چیز ہے کہ جس کی موجودگی میں ناظر کو مشبّہ پر مشبہ بہ کا گمان ہونے لگتا ہے،وجہ شباہت جس قدر زیادہ ہوگی،یہ منظر اس قدر شدید وواقعی لگے گا اور پھر شباہت کا یہ عالم ہو کہ معصوم امام علیہ السلام کو جب حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی یادستائے اور رسول خدا کی زیادت کی تشنگی کو زیارت علی اکبر علیہ السلام سے سیراب فرمائیں تو اندازہ کیجیئے وجہ شباہت بلکہ وجوہِ شباہت کس قدر کثیر و شدید ہوں گی۔
فرمانِ امام میں تین شباہںیئ
حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے فرمان ذیشان میں شہزادے کے وجود میں پیغمبر خدا کی تین شباہتیں موجود نظر آتی ہیں:
۱۔شباہت خَلقی ۲۔شباہت خُلقی ۳۔شباہت منطقی
ہم ہر ایک شباہت کو انتہائی اختصار سے بیان کریں گے۔
۱۔شباہت خَلقی :شہزادۂ حسین علیہما السلام کی اہلبیت رسالت میں محبوبیت کی ایک اہم وجہ قد وقامت اور شکل و صورت میں ان کا حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ شباہت رکھنا ہے،ہمشکل پیغمبر علی اکبر بہت دلربا اور انتہائی حسین تھے معروف ہے کہ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام اور شہزادہ علی اکبر علیہ السلام جب مدینے کی گلیوں میں نکلتے تھے تو لوگ فقط ان کے دیدار و نظارے کے لیے جمع ہو جاتے تھے،اس قدر خوب رو تھے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوب روئی اور خوش خَلقی کے نظارےان کے وجود میں ملتے تھے۔
یوسف از جان شد خریدار از تو در بازار فطرت
فطرتت نازم کہ ھم جانی و ھم آرام جانی(۲۰)
ایک مشتاق زیارت کا بیہوش ہونا:حضرت علی اکبر کے زمانے میں ایک عرب شخص دیدار احمد مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بہت مشتاق تھا، اسی اشتیاق میں گریہ کناں رہتا تھا، اسے بتلایا گیاکہ پریشان وگریان رہنے کی ضرورت نہیں ہے اگرچہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں لیکن شہزادۂ حسینی علی اکبر ہوبہو شکل و صورت میں پیغمبر لگتے ہیں اور آئینۂ تمام نما ہیں۔ان کے والد ماجد امام حسین علیہ السلام سے جاکرخواہش کرو شہزادے کی زیارت کرلو،رسولِ خدا کی زیارت ہوجائے گی۔
وہ عرب شخص امام عالیمقام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا،ماجرا عرض کیا(اس واقعے سے لگتا ایسا ہے کہ اس عرب شخص نے وجود پیغمبر کو درک کیا تھا اور خود حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے شرف سے پہلے مشرف ہوتا رہتا تھا)مولا امام حسین علیہ السلام نے اپنے شہزادے کو آوازدی ۔علی اکبر تشریف لائے،جب بابا کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرب شخص کی نظر شکل علی پر پڑی تو شہزادے کے تابناک چہرے اور آئینہ تمام نمائے پیغمبر کی زیارت کی اورتاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہوگیا(۲۱)
آئینہ روی احمد است این
سرتابہ قدم محمّد است این
مشہور معاصر شاعر مؤيّد کہتے ہیں:
این محمد صورت و سیرت،علی اکبر است
آنکہ حق را در جمال ناز نینش یافتم
در و جاھت، در بلاغت،در ملاحت،درکمال
یادگارِ رحمۃ للعالمینش یافتم (۲۲)
۲۔شباہت خُلقی:خاتم الانبیاء والمرسلین،سید الأولین والآخرین حضرت حبیب خدا،محمد مصطفيٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کے اعلی اخلاق کے علوّ واوج و کمال کی تصدیق و تائید کے لیے کلام الہٰی کے یہ مقدس کلمات کفایت کرتے ہیں:
انک لعليٰ خُلق عظیم(۲۳)
کہ آپ بے شک عظیم اخلاق کی بلند ترین منزل پر فائز ہیں
بعد از خدا بزرگ توی قصہ مختصر
اسی خلق وخو کی ہوبہو عکاسی اگر دیکھنا ہو تو شہزادۂ کربلا کو دیکھ لیں۔اس عظیم اخلاق کی زندہ اور تازہ جھلک اس شہزادے میں اس قدر نمایاں تھی کہ شہزادے کے سلام کرنے سے لوگوں کو پیغمبر کا سلام کرنا یاد آجاتا تھا،شہزادے کے غرباء و فقراء و مساکین کے ساتھ انتہائی حسن سلوک سے رفتار نبوی کی یادیں تازہ ہوجاتی تھیں۔کتب تاریخ میں موجود ہے کہ ہمشکل پیغمبر شہزادہ علی اکبر علیہ السلام نے مدینہ میں غریبوں اور مسکینوں کے لیے ایک بہت بڑا مہمان خانہ بنا رکھا تھا جس میں ہر روزوشب کھانے کھلانےکا انتظام کیا کرتے تھے اور تمام لوگ شہزادۂ کرم کے دستر خوان سے استفادہ کرتے تھے۔(۲۴)
شہزادۂ حسین ابن علی حضرت علی اکبر علیہ السلام لوگوں کی مشکلات سنتے اور ان کو حل فرماتے تھے۔ کریم خاندان کایہ کریم شہزادہ جس قدر اپنی حیات ِ طیبہ میں کارساز تھا اسی قدر بلکہ اس سے بھی شاید کہیں زیادہ شہادت کے بعد کار ساز ہے اس ضمن میں حدوحصار اور اعداد و شمار سے باہر واقعات موجود ہیں۔جن لوگوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں اس شہزادے کا واسطہ اور توسل اختیار کیا ،اُن کے خالی دامن بھر گئے اور آج تک ایسا ہے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا کیونکہ سائل کی دادرسی کرنا شہزادے کے اخلاق کا ایک جزء ہے۔
حجت خدا حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس وجود نازنین کواسی لیے وداع کے وقت بارگاہ احدیت میں راز و نیاز اور اور مناجات میں اس انداز سے پیش کیا کہ اے پروردگار !تیری بارگاہ میں شکایت کررہا ہوں تیرے حبیب کا سا اخلاق رکھنے والا یہ جوان تیرے دین کی حفاظت کے لیے اس بدبخت قوم کے سامنے بھیج رہا ہوں لیکن اس صورت وسیرت پیغمبر کے آئینہ دار شہزادے کو دیکھ کر بھی ان کی قساوت میں قلت نہیں آرہی۔
اللھم اشھد علی ھٰؤلاء القوم۔۔۔۔(۲۵)
۳۔شباہت منطقی:لسانِ عصمت میں منطق علی اکبر علیہ السلام کو منطق رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعبیر فرمایاگیا۔قرآن کریم منطق نبوی کے بارے میں یوں گویا ہے:
وما ینطق عن الھويٰ ان ھو الا وحی یوحيٰ(۲۶)
یعنی رسول خدا ہواوہوس سے کوئی کلام نہیں کرتے ان کا کلام سراسر وحی الہٰی ہوتا ہے۔
خداوند کریم سے راز و نیاز یعنی نماز کا وقت جب قریب آتا تھا تو معنوی،پیغمبرانہ و عاشقانہ فضا کےلیے حضرت امام حسین علیہ السلام جو کہ خود اصل نماز ہیں،فخر نماز ہیں؛اپنے اسی شہزادے کو اذان کے لیے فرماتے تھے،شہزادہ اذان دیتے تھے،اقامت کہتے تھے اور فرزند زہرا حضرت سید الشہداء علیہ السلام نماز وراز و نیازمیں مشغول ہوجایا کرتے تھے۔
اور جب بھی صوتِ قرآن بلکہ صوتِ پیغمبر اسلام سننے کےلیے بے چین اور مشتاق ہوتے تو شہزادے سے فرماتے تھے علی جان آؤ مجھے قرآن سناؤ۔
چہ خوش است صوت قرآن زتو دلرباشنیدن
بہ رخت نظارہ کردن ،سخن خدا شنیدن
ْخلق و خلق ومنطق کی یہ شباہتیں اس قدر شدید تھیں کہ شہزادے کو چلتا پھرتا،اٹھتا بیٹھا اور بولتا دیکھ کر لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد کرلیتے تھے۔
فروغ چہرۂ خوبان شعاع طلعت توست
کمال حسن تو،مدیون این ملاحت توست
بہ خلق و خلق رسول و بہ منطق نبوی
فزون تراز ھمہ کس در جھان شباھت توست
از این شباھت بی حد در اشتباہ افتند
کہ این ولادت طاھا ست یا ولادت توست
بہ پیکر تو مجسم لطافت روح است
عجب بود کہ در این خاکدان،قامت توست
کنوں بہ دامن لیلابخواب و خوش می باش
کہ روز شادی وھنگام استراحت توست (۲۷)
پہلا ہاشمی شہید
بالب تشنہ چرا کشتہ شدی برلب آب
تو شفا بخش دم عیسٰئ مریم بودی
پیشتراز شھداء نام تورا می خوانند
کہ بہ میدان شھادت تو مقدّم بودی(۲۸)
کتب مقاتل سے معلوم ہوتا ہے کہ ۶۱ ہجری قمری بروز عاشور سرزمین کربلا میں سب سے پہلے ہاشمی شہید حضرت علی اکبر علیہ السلام ہیں اس مطلب کے دلائل،شواہد اور قرائن کثرت سے ہیں۔
روایت شب عاشور سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آخری یادگار رات حضرت زینب سلام اللہ علیہا بہت مضطرب اور بے چین تھیں اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ آنے والی اگلی رات سے پہلے پہلے خامس آل عبا حضرت امام حسین علیہ السلام نے بے دردی و بے رحمی سے شہید ہوجانا تھا اور اہلبیت کے پررونق چمنستان نے فصل خزاں کی نذر ہوجانا تھا،ایسے میں زہرائے ثانیہ حضرت زینب کبريٰ سلام اللہ علیہا کبھی اپنے بھائی کے خیمے میں تشریف لے جاتیں،کبھی مستقبل کے قافلہ سالار حضرت عابد بیمار علیہ السلام کی زیارت کوجاتیں،کبھی بچوں کی خبر لیتیں۔ بی بی روایت فرماتی ہیں کہ‘‘ایک طرف ہمارے اعوان وانصار اور دوسری طرف بنی ہاشم کے افراد آپس میں بیٹھے ہوئے تھے،اعوان وانصار آپس میں کہہ رہے تھے کہ کل بنی ہاشم سے پہلے ہم میدان میں جائیں گے،ہرفرد کچھ کہہ رہا تھا۔سب اپنے اپنے دلی تأثرات کا اظہار کررہے تھے۔ اسی اثناء میں میں نے سنا کہ علی اکبر کہہ رہے تھے:اے بنی ہاشم !میں وہ پہلا شخص ہوں جو میدان میں جاؤں گا اور انصار و والدبزرگوار سے دفاع کروں گا۔(۲۹)
اس روایت سے یہ مطلب بھی روشن ہوتا ہے کہ جوان کربلا فخر بنی ہاشم شاگرد قمر بنی ہاشم نہ فقط بنو ہاشم بلکہ انصار واعوان سے بھی پہلے دشمنان دین کے مقابلے میں جانے کےلیے تیار تھے تاکہ اپنے زمانے کے امام مولا حسین ابن علی علیہما السلام کی خوشنودی حاصل کرسکیں۔مشہور قول کے مطابق بھی شہزادۂ موصوف بنی ہاشم میں سب سے پہلے شہید ہیں۔
‘‘پہلے ہاشمی شہید‘‘میں دو مخالف قول
اس باب میں مشہور،معروف اور مختار قول وہی ہے جو اکثر کتب مقاتل میں کثرت سے دیکھا جاتا ہے یعنی اعوان وانصار جب روز عاشور اپنے مولا و آقا حضرت امام حسین علیہ السلام پر اپنی جانیں قربان کرچکے تواس وقت بنی ہاشم میں سے پہلے پہل شہزادۂ امامِ عالیمقام‘‘حضرت علی اکبر علیہ السلام’’اذن میدان لیتے ہیں،میدان نبرد میں یادگار رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اپنے دادا علی مرتضی علیہ السلام کی شجاعت کے جوہر دکھاتے ہیں اور آخر کار مرہ ابن منقذ ملعون کی ضرب کاری سے جان جان آفرین کے سپرد کردیتے ہیں(۳۰)؛تاہم متعلقہ کتب کی چھان بین سے دو مخالف قول نظر آتے ہیں جو کہ ظاہر ہے مشہور و معروف قول کے سامنے ضعیف ہی ہیں۔بہرحال ہم انھیں باحوالہ درج کرتے ہوئے ان کے جواب میں مختصر و مستند بحث کریں گے۔ہم یہ دونوں قول حضرت علی اکبر علیہ السلام کے بارے میں ساتویں ہجری قمری تک کی کتب مقاتل کے ماحصل پر مشتمل لکھی جانے والی کتاب مستطاب ‘‘مقتل علی اکبر’’سے نقل کررہے ہیں،ملاحظہ فرمائیں۔
۱۔الفتوح(تالیف ابن اعثم کوفی متوفی ۲۱۴ھ۔ق)میں ہے کہ ‘‘پھر عباس ابن علی’’کے بعد علی ابن حسین ابن علی(حضرت علی اکبر)جن کی اس وقت عمر اٹھارہ برس کی تھی،دشمنوں کی طرف گئے،امام حسین علیہ السلام نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا:
‘‘اللھم اشھد علی ھٰؤلاء القوم۔۔۔۔۔’’
۲۔امالئ شیخ صدوق میں شہزادے کی شہادت عبداللہ ابن مسلم کے شہید ہونے کے بعد لکھی ہوئی ہے۔(۳۱)
ایک احتمال
کتاب سحاب رحمت میں اسی بحث کے ذیل میں مؤلف رقمطراز ہیں کہ ‘‘بعض نے احتمال دیا ہے کہ شہزادے کو جو پہلا شہید کہا گیا ہے ہوسکتا ہے اس پہلے ہاشمی شہید میں پہلے سے مراد شان و رتبے میں اولیت ہو اور کہا گیا ہے کہ اہلبیت میں سب سے پہلے شہید عبداللہ ابن مسلم بن عقیل ہیں’’۔(اس کے بعد خود مؤلف کتاب نے اس احتمال کو زیارت ناحیہ،مرحوم سید ابن طاووس،شیخ مفید اور ابن ادریس رحھم اللہ کی عبارات سے منافی قرار دیا ہے۔(۳۲)
مشہور قول کے حوالہ جات
اکثر مورخین(جیسے ابوفرج اصفہانی مقاتل الطالبین میں صفحہ۷۶پر،صاحب تاریخ طبری اپنی کتاب کی جلد ۴ صفحہ ۳۴ پر،۔۔۔)لکھتے ہیں کہ کربلا میں سب سے پہلے ہاشمی شہید عالیمقام شہزادہ ہیں اور یہ پہلا شہید ہونا اس بزرگوار شہزادے کے اعليٰ ادب بلکہ اوج کمال وایمان کی دلیل ہے۔(۳۳)
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت اور بنی ہاشم میں سے سب سے پہلے شہید علی اکبر علیہ السلام ہیں۔ شہزادے کے زیارت نامے میں ایسے پڑھتے ہیں:السلام علی اوّل قتیل من نسل خیر خلیق،اور خود حضرت سیدالشہداء علیہ السلام سے پہلے آخری شہید حضرت علی اصغر شیر خوار ہیں۔(۳۴)
ساتویں صدی ہجری تک کی کتب مقاتل سے استفادہ و استناد کرتے ہوئے ‘‘مقتل علی اکبر’’کے عنوان سے ایک کتاب مستطاب آمادہ کی گئی ہے جو ۱۱۲صفحات پر مشتمل ہے۔
اس کتاب کے صفحہ ۲۲ پر پہلے ہاشمی شہید کے ذیل میں اکثر تاریخی کتب کے حوالے سے یہ مطلب موجود ہے کہ ‘‘اصحاب کے شہیدہوجانے کے بعد بنی ہاشم میں سے میدان کو جانے والے سب سے پہلے فرد حضرت علی اکبر علیہ السلام ہیں جیسا کہ مقتل ابی مخنف،انساب الاشراف،اخبار الطوال،تاریخ طبری،مقاتل الطالبین،ارشاد مفید،اعلام الوريٰ،الکامل،لھوف اور مثیرالاحزان’’میں شہزادے کو پہلا ہاشمی فرد بتلایا گیا ہے جو اذن لے کر میدان میں گئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔(۳۵)
حضرت امام علی الھادی النقی علیہ السلام کی زیارت ناحیہ سے واضح طور پر یہ مطلب استفادہ ہوتا ہے،فرماتے ہیں:
‘‘السلام علیک یا اوّل قتیل من نسل خیرسلیل من سلالۃ ابراھیم الخلیل۔۔۔۔’’(۳۶)
ابوالفرج نے اپنی کتاب مقاتل میں سند کے ساتھ امام محمد باقر علیہ السلام اور انہوں نے امام سجاد علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ :‘‘ان أوّل قتیل قتل من ولد ابی طالب مع الحسین ابنہ علی۔۔۔’’(۳۷)
یعنی آل ابوطالب میں سے پہلے شہید(کربلا میں)امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں ان کے فرزند علی اکبر ہیں۔
المزارالکبیر میں حضرت امام علی الھادی النقی علیہ السلام سے شہزادۂ کربلا حضرت علی اکبر علیہ السلام کی زیارت میں یہ جملات آئے ہیں:
السلام علیک یااوّل قتیل من نسل خیر سلیل من سلالۃ ابراھیم الخلیل۔۔۔۔(۳۸)
اس تمام مدلل بحث کا ماحصل اور نتیجہ یہی ہے کہ میدان کربلا میں سب سے پہلا ہاشمی شہید یہی شہزادۂ کربلا ہے۔
ہاں اگر کوئی شخص کہے کہ پہلے ہاشمی شہید حضرت مسلم بن عقیل تھے جو حضرت علی اکبر علیہ السلام سے بھی پہلے رتبۂ شہادت پر فائز ہوئے تو یہ بات واضح ہے کہ اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام جو کہ امام عالیمقام علیہ السلام کی سفارت کے منصب کے ساتھ راہی کوفہ ہوئے تھے، کوفہ پہنچے،کوفیوں کی بے نظیر بے وفائی کی نذر ہوئے اور دردناک شہادت نصیب ہوئی ،وہ اس وقت شہید ہوئے جبکہ ابھی کاروان حسینی کربلا کے راستے میں تھا،کوفیوں نے بے حدوحساب خطوط لکھے تھے اور امام حسین علیہ السلام کو احیاء و ترویج دین مبین کے لیے کوفہ بلایا تھا،دعوتیں دی تھیں اور وفاداری و پائیداری کے عہد و پیمان کیے تھے لیکن افسوس صد افسوس کوفیوں کی پیمان شکنی پر کہ اپنے مولا کے سفیر کو وقت کے سفاک درندوں کے حوالے کرکے بیعت شکنی اور بے وفائی کے فقید المثال نمونے پیش کیے
قتل ہو آل نبی،منشائے ہر حاکم تھا ایک
اس طرف دین پیغمبر کا فقط ناظم تھا ایک
آج تک تاریخ میں کوفہ کی ملتا ہے رقم
نام کے تو سب مسلماں تھے مگر مسلم تھا ایک(۳۹)
سلام حضرت مسلم ابن عقیل کی اپنے آقا و مولا پر عاشقانہ جانفشانی پر سلام۔
استاد قمر جلالوی نے حضرت مسلم ابن عقیل کو ان عمدہ الفاظ میں تمہید کربلا کا پہلا شہید مرقوم کیا ہے ملاحظہ فرمائیے:
کتنی مہیب سازش دور یزید ہے
ڈوبی ہوئی فریب میں گفت و شنید ہے
مسلم کے بعد جنگ چھڑے گی حسین سے
تمہید کربلا کا یہ پہلا شہید ہے
پس معلوم ہوا کہ حضرت مسلم ابن عقیل علیہ السلام تمہید کربلا کے پہلے ہاشمی شہید ہیں جبکہ حضرت علی اکبر علیہ السلام میدا نکربلا میں پہلے ہاشمی شہید ہیں۔
ہماری بحث کربلا کے میدان میں پہلے ہاشمی شہید سے متعلق ہے جو بہترین دلائل اور متقن و محکم شواہد سے مرحلہ اثبات تک پہنچ چکی کہ ۶۱ ہجری قمری عاشورائے حسینی میدان کربلا میں اعوان وانصار کی قربانیوں کے بعد بنی ہاشم کے افراد میں شبیہ پیغمبر حضرت علی اکبر علیہ السلام ہی پہلے شہید تھے۔
مشہور و منتخب قول کی تائید
معروف و مستند کتب میں اس امر کی تائید میں روایات واقوال موجود ہیں کہ آل ابوطالب ،بنی ہاشم اور امام حسین علیہ السلام کے اہلبیت میں سب سے پہلے شمع امامت پر عاشقانہ ووالہانہ طور پر جان دینے والے پروانےکا نام نامی علی اکبر ہے۔
اکثر کتب مقاتل میں شہزادے کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام کا یہ قول ملتا ہے کہ مولانے بنی ہاشم کے جوانوں کو صدادی کہ وہ سب آئیں اور شہزادے کو اُٹھانے میں مدد کریں جیسا کہ‘‘ارشاد’’میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے جوانانِ بنی ہاشم کو بلا کر فرمایا:‘‘اپنے بھائی کو اٹھا کرلے جاؤ’’پس وہ جوان آئے،علی اکبر کا جنازہ اٹھایا اور خیمہ گاہ کے سامنے لے گئے۔(۴۰)
مولا امام حسین علیہ السلام کے اس قول کا لازمہ یہ ہے کہ جب شہزادے کی شہادت ہوئی تو ابھی جوانانِ بنی ہاشم کربلا میں موجود تھے جنہیں آوازدی،حکم فرمایا اور انہوں نے حکم کی تعمیل کی جبکہ اگر شہزادے کی شہادت حضرت عباس علیہ السلام کی شہادت کے بعد واقع ہوئی ہوتی،اس وقت تو جوانان بنی ہاشم شہید ہوچکے تھے لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہاشمی شہید شہزادے علی اکبر علیہ السلام ہی ہیں۔
مقتل میں ہے کہ ‘‘مقتل ابی مخنف’’تاریخ طبری،مقاتل الطالبین،الارشاد مقتل الحسین خوارزمی اور الکامل میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام اپنے فرزند کی طرف بڑھے اور جوانانِ بنی ہاشم بھی آگئے،فرمایا‘‘اپنے بھائی کو اٹھا لاؤ’’(۴۱)
بعض کا یہ کہنا کہ کربلا کے پہلے ہاشمی شہید عبداللہ بن مسلم بن عقیل ہیں،اگر واقعاً ایسا ہی ہوتا تو اکثر کتبِ مقاتل میں ایسا ہی ہوتا جبکہ اکثر کتب حضرت علی اکبر علیہ السلام کے پہلے ہاشمی شہید ہونے پر شاہد ہیں بعض منابع کے حوالہ جات نقل کیے جاتے ہیں۔