حرم امام علی رضا(ع) کے بند دروازوں کے باہر سے ہی زائرین کا اظہار عقیدت
( مولا آپ کو دورسے ہی سلام )
اتوار , 04/26/2020 - 18:19
( مولا  آپ  کو دورسے  ہی سلام )
ان دنوں ماہ مبارک رمضان کے آغاز کے موقع پر جب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا حرم مطہرزائرین کے لئے بند ہے تو زیارت کا نیاطریقہ اور اس کا نیا مفہوم سامنے آگیا ہے

حرم  مطہررضوی کے باہر کھڑا ا یک شخص کہتا ہے  وہ  مشہد مقدس کا ہی رہنے والا ہے  ، یا یوں کہا جائے  کہ حرم مطہر رضوی کا مجاور ہے لیکن اب تک اس طرح سے  اس نے  زائر ہونے کا احساس نہيں کیا تھا  ؛ جب اس سے  اس احساس کی وجہ معلوم کی گئي تو  وہ کہتا ہے کہ آج  کل ہم سب مولا کے زائر ہيں  
کوئی فرق نہیں پڑتا آپ حرم مطہر  رضوی کے کسی بھی دروازے سے تشریف لائیں ؛ حرم کے چاروں اطراف بند دروازوں کے باہر ایک جیسی کیفیت ہے ، زائرین سماجی  فاصلہ کی رعایت کرتے ہوئے گنبد کی طرف رخ   کر کے اپنی اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔ 
ایک اور زائر کے پاس پہنچتا ہوں اور پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی مجاور  اور مشہد کا ہی رہنے والا ہے      البتہ ان دنوں مشہد مقدس میں زائرین بہت کم ہیں کیونکہ بہت سارے افراد کورونا وائرس کے پیش نظر حکومت کی جانب سے    اعلان کردہ  حفظان صحت کے  پروٹوکول     پر   عمل کرتے ہوئے    سفر نہیں کر رہے ہیں  ، یہ زائر یا مجاور  جس کی حرم کے قریب خسروی چوک پر ایک  دوکان ہے اور اپنا نام حداد بتارہا ہے  ،   کہتا ہے کہ تیس سال ہوگئے ہیں اور یہ میری عادت بن چکی ہے کہ دن کا آغاز حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کی زیارت سے کرتا ہوں اور رات کو بھی زیارت کر کے ہی    گھر جاتا ہوں۔ 
حاج مرتضیٰ جن کے سر کے بال سفید ہوچکے ہیں کہتے ہیں  کہ جتنا آپ سوچ رہے ہیں میں اتنا بھی بوڑھا نہیں ہوں! تلخ مسکراہٹ ان کے لبوں  پر بکھری ہوئی ہے اور  کہتے ہيں    کہ ایسی زیارت کا کبھی تجربہ نہیں کیا تھا    ہمیشہ  میرا یہ معمول  تھا  کہ  حرم مطہر کے صحن میں نماز و دعا پڑھتا تھا   ۔  لیکن اب     یہ بھی ایک زیارت ہے جو حرم سے باہر بیٹھ کر  کررہا ہوں  
وہ کہتے ہیں  کہ   میں دوسروں سے نہيں بلکہ  خود  اپنے آپ سے  کہتا ہوں    کہ   میں  نے  زائر و مجاور ہونے کی قدر نہیں کی اور اب اس طرف متوجہ ہو رہا ہوں۔  تاہم   میں نے اپنا وعدہ ہرگز فراموش نہیں کیا  ہے   ۔ کورونا میں بندش  میں نرمی کے بعد   جب سے دوکان دوبارہ  کھولی ہے تب سے میرا ہر روز یہی کام ہے کہ حرم مطہر کے رو برو کھڑے ہو کر دعا و سلام پڑھتا ہوں۔ 
ایک اور زائر کے پاس   جاتا ہوں جو اشکوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ کہتا ہے یہ جو غریب الغرباء کہتے تھے اور کہتے ہیں وہ کیفیت  یہی ہے ؛ کیا اس سے بھی  زیادہ  غربت  کی صورتحال  ہو سکتی ہے ؛ البتہ یہ مولا غریب نہیں ہیں  ہم غریب ہیں جو حرم کے اتنے قریب ہونے کے باوجود حرم کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ نہیں بنا پارہے ہیں  ۔ مولا رضا تو سلطانِ خراسان ہیں ہم زائر ،گدا اور غریب ہیں جنہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ہے البتہ حضرت کا لطف و کرم    دور و نزدیک نہیں دیکھتا بلکہ آپ  لوگ  جہاں پر ہیں مولا کا ذکر کریں اور امام کو پکاریں امام علیہ السلام آپ کا جواب دیں گے۔ 
حرم سے دور ہوتے ہوئے ذہن میں سوچ رہا ہوں کہ ہمیشہ زیارت کے لئے ایک ہی  دروازے سے داخل ہوتا تھا اور زیارت سے مشرف ہوتا تھا   اور حرم کے چاروں طرف کی سڑکوں  کا طواف کبھی نہیں کیا  لیکن آج ہم حرم مطہر کی چار وں جانب کی سڑکوں  کو گھوم گھوم دیکھ رہے ہيں  ہر دروازے  کے باہر زائرین  موجود ہیں   ۔آج حرم کے باہر سے زیارت کا تجربہ بھی کیا اور حرم کے اطراف میں سڑکوں پر کھڑے زائرین کے ساتھ گفتگو بھی کی ، ہر زائر کے دل کی یہی  دعا یہ تھی کہ جلدسے  جلد یہ  صورتحال حالت ختم ہوجائے ۔