اطالوی فوٹوگرافر کے کیمرے سے لی گئیں امام علی رضا(ع) کے حرم کی سب سے پہلی تصاویر
بدھ , 04/29/2020 - 9:38
اطالوی   فوٹوگرافر کے کیمرے سے  لی گئیں امام علی رضا(ع)  کے حرم  کی   سب سے  پہلی تصاویر
ہم امام ہشتم (ع) کے عاشق و دلدادہ ہیں اس لئے امام کی ہر یادگار اور نشانی ہمارے لئے اہم ہے اور اسی نشانی کے ذریعہ ہم اپنے دلوں کو امام سے جوڑتے ہیں ؛ خواہ وہ نقارہ خانہ کی آواز ہو یا فولادی جالی کی تصویر جسے ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔

ان ایّام میں جب    ہم    کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کی وجہ سے  حفظان صحت  کے بعض  اصولوں   کی پاسداری   کرنے پر مجبور ہیں جیسے پرہجوم مراکز میں نہ جانا  وغیرہ ایسے حالات میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں عقیدت کے اظہار کے لئے یہ نشانیاں بہت زیادہ موثر ہیں۔  اب جب کہ حضرت امام علی رضا(ع) کے حرم مطہر میں حاضر ی دینے اور مشرف ہونے کے حالات فراہم نہیں ہیں تو سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر چلنے والی حرم کی  تصاویر کے ذریعہ ہم   اپنے دلوں کو حرم کی فضاؤں میں لے جاتے ہیں ۔ 
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا (ع) کے حرم مطہر کی پہلی تصویر کس شخص نے اور کب لی؟ اگرچہ تمام تصاویر بے جان ہوتی ہیں لیکن  وہ تصاویر جو رؤف اور مہربان امام کے گنبد و نورانی بارگاہ سے مزیّن ہوتی ہیں ان کی اپنی  خاص داستان ہے ؛ اور انہی تصاویر سے   انسان کو  جان تازہ نصیب   اور روح کو جلا ملتی ہے  اور یہی  احساس   اطالوی  فوٹوگرافر کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر بھی بخوبی دلارہی ہے 
 
  شاہرود   اور دامغان  شہروں  سے طوس اور حرم امام علی رضا(ع) تک۔
اٹلی کے شہر نیپلس سے تعلق رکھنے والے  اس شخص کا نام  انٹونیو گیانوزی ہے  جو کئی عشرے قبل   ناصر الدین شاہ قاجار کی حکومت کے دورمیں  ایران کے نظام اسکو ل میں تدریس کے فرائض انجام دیتا تھا     اگرچہ اس کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن یقین جانیں کہ یہ اٹلی کا وہ آرٹسٹ اور فنکار تھا جو ہرخوبصورت نظارہ دیکھتے ہی وجد میں آجاتا اور زمان ومکان سے بالاتر ہو کر اپنے دیرینہ ہمدم     یعنی کیمرے سے اس  منظر کو جاودانی بنادیتا تھا  
یہ خوش ذوق اور خوش سلیقہ انسان ساٹھ سال سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا لیکن اس کی  خوبصورت اور  خاص نگاہوں  کےاثرات اور شاہکار   کو مختلف میوزیمز میں رکھے پرانے تصویری البموں کے صفحات میں دیکھا جاسکتا ہے    جیسے   کاخ گلستان میوزیم،آستان قدس رضوی کے تاریخی خزانے والے میوزیم وغیرہ  میں موجود   اس  کے شہ پارے نظروں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہيں ۔
اس کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہیں ؛ اس کا حسب و نسب کیا تھا اور کب سے فوٹوگرافی کر رہا تھا؟ اولاد کتنی تھی یا اس کے  پوتوں اور نواسوں نے اس  کے فن و  مشغلے کو آگے بڑھایا  یا   نہیں؟ لیکن ان سب چیزوں کی ان گرانقدر تصویروں کے سامنے جو اس نے ایران کے مختلف شہروں کے سفر کے دوران لیں کوئی حیثیت نہیں ہے۔
 
گیانوزی کی شاہکار اور شاندار تصاویر کی وجہ سے جو اس نے حضرت ثامن الحجج(ع) کے حرم مطہر کی لیں اس کا نام ملک کے فوٹوگرافروں کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے زندہ  جاوید  ہوگیا۔یہ موضوع اس وقت زیادہ اہم بن جاتا ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ گیانوزی کے کیمرے کو یہ اعزاز حاصل ہے  اسی  نے  سب سے پہلے  حرم امام ہشتم علیہ السلام کے گنبد اور اس سے متعلقہ  عمارت  کی  تصاویر لیں اور انہی تصاویر نے اس اطالوی فوٹو گرافر کو    تاریخ میں جاودانہ بنادیا   ۔ 
شاہ  ایران  کا  مخصوص فوٹوگرافر آقا       رضا عکاس باشی   جس کا      کام ہی    شاہ کے  حکم پر مختلف شہروں کا سفر  کرنا اور   ایران کے گوشہ و کنار  کی  تاریخی  اور  شاندار عمارتوں کی تصویریں  کھینچنا   تھا   جب  وہ خراسان پہنچتا ہے تو  اس سے سات سال پہلے ہی  اطالوی  فوٹو گرافر  اس مقدس بارگاہ کی تصویریں  کھینچ چکا ہوتا ہے ۔ 
اسی وجہ سے گیانوزی کی تصاویر جو اس نے حرم امام رضا(ع)، مسجد گوہر شاد، مقبرہ پیر پالان دوز، مسجد مصلیٰ وغیرہ  کی  لی تھیں اس مذہبی مقام کی پہلی تصاویر شمار ہوں۔ 
اطالوی فوٹوگرافر   گیانوزی کی تصاویر میں جوبات اہم ہے وہ اس کی ہنرمندانہ نگاہ اور کیمرے کا زاویہ ہے اس کے علاوہ ان نکات پر توجہ جوشہروں اور عمارتوں کی تصویری ڈاکومنٹری اور ان کے مقیاس کو شائقین کے لئے   مد نظر رکھی جاتی ہے 
 
شاہ جو کہ فوٹو اور فوٹوگرافی  کے فن    میں  بہت  زیادہ دلچسپی رکھتا تھا ، گیانوزی نے ان تصاویر کا مکمل البم رنگین اور دلکش فریم سے مزیّن کر کے شاہ کی خدمت میں پیش کیا  بالکل اسی طرح جیسے اس سے  ایک سال پہلے پولی ٹیکنیک کالج  یا مدرسہ دارلفنون  کے عہدیدار  ’’لوییجی پشہ‘‘   نے تخت جمشید کی تصاویر کا مکمل البم شاہ کے دربار میں پیش کیا تھا۔
اس طرح   اطالوی فنکار  انٹونیو گیانوزی کا تصویری البم گلستان میوزیم کے  جاودانی فن پاروں کی فہرست میں شامل ہے    تاکہ برسوں گزرنے کے بعد امام ہشتم حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے حرم مطہر کی عظمت و جلالت ایک اطالوی  شخص کی تصاویر سے آشکار ہو تی رہے   اور امام روؤف کی حقانیت اور بلند مقام و مرتبہ نسل در نسل منتقل  ہو ۔