نیک اورمخیّر حضرات خدا کی صفت رزاقیت کے مظہر ہيں ؛ حجت الاسلام والمسلمین مروی
منگل , 05/19/2020 - 16:50
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا ہےکہ ہمارا مطمح نظر عوامی تنظیموں کی حمایت اور تقویت ہے اور ہم اجارہ داری اور خود انحصاری کے قائل نہيں ہیں

 آستان قدس کے رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین مروی نے   مواسات نامی فلاحی مہم   میں سرگرم عوامی تنظیموں کے سربراہوں ،  عہدیداروں اور  ارکان سے ملاقات میں    کہا کہ آستان قدس رضوی کی پالیسی اور مطمح  نظر  عوامی تنظیموں کی حمایت اور انہیں مضبوط بنانا ہے ۔  ان  کا کہنا تھا کہ ہم   تمام امور  کو  اپنے ہی اختیار میں رکھنے پر یقین نہيں رکھتے    بلکہ ہماری  پالیسی  عوامی تنظیموں کی تقویت او رحمایت کرنا ہے ۔ 
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے پیر    اٹھارہ مئي  ۲۰۲۰ کو حرم امام علی رضا(ع) کے ولایت ہال میں مواسات نامی فلاحی سرگرمیوں میں سرگرم عوامی تنظیموں کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے      کہا کہ مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد اور دستگیری مومنین کی بہترین صفت ہے   ۔  انہوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ اگر کوئي خدا و ندعالم سے محبت کرتا ہے تو تکوینی اعتبار سے وہ   بندگان خدا  کے حق میں  بھی  خیر و  نیکی کرتا   ہے   کہا کہ انسان کی خداوند متعال سے محبت کی اہم ترین اور پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ خود کو   اوراپنے نفع  و نقصان کو نہیں دیکھتا بلکہ رضای الھی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے قدم بڑھاتا  ہے،ایسا انسان ہی خداوند متعال کی محبت کے زیر سایہ ضرورتمندوں کی مدد اور  خبرگیری  کرتاہے ۔ 
 آستان قدس رضوی کے متولی  نے ضرورتمندوں اور مسکینوں کی مدد اور حمایت   کو خداوند متعال سے عشق  و  محبت کی تجلی قرار دیتے ہوئے  کہا کہ مخلوق خدا کی خدمت  خاص طور پر ضرورتمند انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنا اور ان کی مشکلات و مسائل سے غافل نہ رہنا عاشقان خدا کی بہترین صفت اور   عادت  ہے۔ اور ایسے افراد کے لئے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام بہترین اسوہ و  نمونہ ہیں۔ 
 انہوں نے کہا کہ عالم اعمال میں بہت سارے نیک اور اچھے کام ہوتے ہیں جن میں سے کچھ نیک کام فقط انسانوں سے مخصوص ہیں جیسے نماز، روزہ اور حج وغیرہ لیکن بعض  کام اور اعمال ایسے ہیں جو خدا اور بندگان خدا دونوں میں مشترک ہیں جیسے مخلوق خدا کی مدد اور انہیں رزق  فراہم کرنا اللہ سب سے بڑا رازق ہے  لیکن نیک انسان بھی غریب اور محتاج کو کھانا کھلاتا اور اس کی ہر طرح سے مالی مدد کرتا ہے  بنابریں   مخیّر حضرات کی جانب سے مخلوق خدا  کی مدد کر نا الہی  سنت ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمین مروی کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مشکلات اور مسائل کو حل کرنے کی جزا اور ثواب مستحب عبادتوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ضرورتمندوں اور مسکینوں کی مدد اور ان کی دستگیری انبیائے کرام، آئمہ اطہار(ع) اوربزرگان و علمائے  دین کی سنت  و  روش   ہے ۔     بزرگان دین ایسے کام خود انجام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ 
انہوں نے کہا  کہ نیک اور مخیّر حضرات خداوند متعال کی  صفت رزاقیت کا مظہر ہیں اور اس بات پر بھی زور دیا کہ ضرورتمندوں کی مدد کرتے وقت ان کی عزت و آبرو اور ان کا  احترام کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے ۔ غریبوں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی امداد ایسے آبرو مندانہ انداز میں کئی جائے کہ ان کی عزت و آبرو محفوظ رہے اور اس سلسلے میں آئمہ معصومین علیہم السلام کی سنت و سیرت ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ 
آستان قدس رضوی کے متولی نے امدادی کاموں میں باہمی مشارکت اور امداد  پر توجہ دینے کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ایک  ضرب المثل کی طرف اشارہ کیا کہ ایک آباد  گاؤں     سو   ویران شہروں سے بہتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قطع نظر اس کے کہ عارضی امداد بھی لازمی طور پر انجام دی جائے لیکن بہتر یہ ہے کہ ایک محروم اور پسماندہ  علاقے کو منتخب کر کے اس کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے اور وہاں پر امداد و ریلیف کی بہترین مثال     قائم کی جائے  جس سے غریبوں کی ساری مشکلات حل ہو سکیں۔ 
انہوں نے عوامی تنظیموں میں باہمی تعاون،باہمی مشارکت اور دوسروں کے تجربوں سے  استفادے  کو بہت زیادہ اہم قراردیتے  ہوئے  کہا کہ آستان قدس رضوی کا ایجنڈا  عوامی تنظیموں کی تقویت  ہے  ہم اجارہ داری  اور  انحصار پسندی  کے قائل نہیں ہیں  بلکہ عوامی تنظیموں کی حمایت اور تعاون ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے۔ 
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے عوامی تنظیموں کے عہدیداروں اور ارکان سے جو مواسات نامی فلاحی سرگرمیوں میں فعال ہیں کہا کہ منظم اور منصوبہ بند طریقے سے      غریبوں کے لئے مستقل آمدنی فراہم کرنے پر توجہ دیں۔ 
ان کے خطاب سے پہلے کرامت رضوی فاؤنڈیشن کے سربراہ  حسین استاد آقا نے اس فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آستان قدس رضوی کی جانب سے عوامی تنظیموں کی حمایت کی پالیسی کی تشریح کی ۔   اجلاس کے دوران     عوامی تنظیموں کے نمائندوں اور عہدیداروں  نے بھی اپنی آرا    اور تجاویز پیش کیں  
 

ماخذ :