حضرت امام علی رضا(ع) کا حرم مطہر اسلامی انقلاب کے قیام کا مرکز ہے؛ حجت الاسلام مروی
بدھ , 05/20/2020 - 19:53
With AQR’s structure finalized, time is ripe for nonstop work
آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین مروی نے آستان قدس رضوی میں نئے خدام کی تقرریوں کی مناسبت سے منقعدہ پروگرام میں کہا کہ آستان قدس رضوی کے بنیادی ڈھانچے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے اس لئے اب جہادی پیمانے پر کام کرنے کا وقت آگیا ہے ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے   حرم امام علی رضا علیہ السلام کے ولایت ہال میں آستان قدس رضوی کے نئے خادموں کی تقریروں کی تعارفی تقریب منعقد کی گئی جس میں آستان قدس رضوی کے مختلف شعبوں کے سربراہوں اور عہدیداروں  نے شرکت کی۔ حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دن رات کی  محنت  و کوشش  ،   اور مختلف میٹنگوں میں تمام  امور پر غور و خوض کرنے اور جائزہ لینے    کے بعد آستان قدس رضوی رضوی کا نیا حتمی ڈھانچہ مکمل ہو چکا ہے انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس ڈھانچے کی تکمیل کے لئے مختلف اور خاص کمیٹیوں میں ماہرین کی رائے  لی گئی ہے اور اس نئے ڈھانچے کی  تیاری پربہت زیادہ محنت ہوئی ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کے دعویدار نہيں ہيں  کہ ہمارےکام میں کوئي کمی یا خامی نہیں ہے   کیوں کہ انسانوں کے کام میں عیب و نقص ہوتا ہے لیکن یہ دعوی ضرورکرتے ہیں کہ ہم نے تمام صلاحیتوں اور اپنی بھرپور توانائي  واستعداد کو استعمال کرتے ہوئے بہترین ڈھانچے کو حتمی شکل دینے اور خامیوں کو کمترین سطح پر پہنچانے میں     جلدی بازی کئے بغیر بہترین ماہرین کی آ را اور نظریات سے استفادہ کیا ہے ۔ 
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے  کہ اس وقت آستان قدس رضوی کے بنیادی ڈھانچے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اس لئے جہادی پیمانے پر   کوشش اور کام کرنے  کا وقت آگیا ہے ؛ کہا کہ آستان قدس رضوی کو آپ دو طرح سے دیکھ سکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ آستان قدس رضوی نظام ، حکومت اور انقلاب سے مستقل اور  علیحدہ  ایک ارگنائزیشن ہے اور مستقل طور پر کام کرتا ہے۔   انہوں نے کہا   کہ اس آستان مقدس کی   بڑی تعداد میں وقف  کی املاک ہیں   جنہیں حرم امام علی رضا علیہ السلام پر خرچ کیا جاتا ہے  لیکن  دوسرے نقطہ نگاہ کی بنیاد پر    آستان قدس رضوی نہ فقط یہ  کہ  انقلاب کا اہم   جز   ہے بلکہ   اسلامی  انقلاب کے قیام کا مرکز بھی  ہے اور    ہم سمجھتے ہیں کہ   اسلامی انقلاب اسی مقدس بارگاہ سے برپا ہوا ہے۔ 
انہوں نے   کہا کہ آستان قدس رضوی انقلاب   کا مرکز  ہے اس لئے  ہم    اس مقدس نظام،  اسلامی انقلاب   اور اس کے اہداف و مقاصد کے علاوہ رہبر  انقلاب اسلامی کی تدابیر  کو عملی جامہ  پہنانے کے ذمہ دار ہيں  اور ہمیں اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا   ۔ ان کا کہنا تھا کہ  ہم پر       اسلامی  انقلاب کے ماضی،حال اور مستقبل کے تعلق سے  خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے   اس لئے ہم اس سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کر سکتے۔ 
آستان قدس رضوی کے متولی نے رہبر   انقلاب اسلامی کی نئی اسلامی تہذیب وتمدن  کی تشکیل کے حوالے سے خصوصی ہدایات  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب نے اپنی پیدائش اور پھر چالیس  برسوں  میں بہت سارے نشیب و فراز  اور مشکلات و مسائل کا سامنا  کیا ہے اور  ان  تمام مراحل کو طے کرنے کے  بعد   آج پوری طرح سے ثابت قدم اور سرخرو   و سربلند ہے اور اب رہبرانقلاب اسلامی نے ایک نئے اسلامی تمدن کا نظریہ بھی پیش کردیا ہے  اس لئے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آستان قدس رضوی اس نئے اسلامی تمدن کی تشکیل میں  کیا کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کی کیا ذمہ داری ہے ؟  اور پھراسی راستے پر ہم آگے بڑھیں    ۔ 
قانونی اور شرعی ذرائع  اور  وسائل کے ذریعہ آمدنی کا حصول جدید اسلامی تمدن    کا جز ہے
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے اپنے خطاب کے دوسرے    حصے    اقتصادی اور معاشی میدان میں آستان قدس رضوی کی پالیسیوں اور اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ معاشی میدان میں ہما را ہدف و مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہر روش اور ہر ذریعہ سے پیسہ کمایا جائے؛اگر کہیں پر بھی آمدنی اور منافع میں بہترین اقدار کی بنیاد پر ٹکراؤ   ہوا تو یقیناً ہم بہترین عمل کو ترجیح دیں گے ہم فقط حلال اور قانونی ذرائع سے آمدنی  کو یقینی بنائيں گے ۔
انہوں نے  کہا کہ جدید اسلامی تمدن  میں آمدنی کے حصول  کا   ایک امتیاز      صحیح اور سالم شفاف    ذرائع سے آمدنی کا حصول ہے  اور  آمدنی کے حصول کےمیدان میں اسلامی اقدار کی پاسداری کرتےہوئے اسلامی طریقہ متعارف کراسکتے ہيں   
آستان قدس رضوی کے متولی  نے کہا کہ زائرین کو سہولیات فراہم کرنا فقط فلاحی خدمات تک محدود نہیں ہے  ہمیں زائرین کی مذہبی  معلوما  ت  میں اضافہ کے لئے بھی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ 
جہادی منیجمنٹ حرم امام علی رضا(ع) کی بنیادی ضرورت
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے اس بات پر زور دیا کہ حرم امام علی رضا علیہ السلام میں جہادی  پیمانے پر منیجمنٹ کی ضرورت ہے اور یہ چیز عملی ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ  ان ایّام میں کورنا وائرس کی وجہ سے حرم مطہر بند ہونے کے باوجود بہت اچھے اقدامات کئے گئے اور جہادی کام حقیقی طور پر انجام پایا ،دن رات کی کاوشوں سے حرم امام علی رضا علیہ السلام میں بہت اچھے اقدامات کئے گئے ۔ 
انہوں نے اس  بات کا ذکرکرتے ہوئے  کہ  امام علی رضا علیہ السلام کا حرم  خالی ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت  ساری کمیوں اور پہلوؤں کا علم ہوا اور ان  کو برطرف کرنے کا موقع بھی میسرہوا کہا   بعض ایسے کام تھے جنہیں عام حالات میں انجام دینے کے لئے ایک سال تک کا عرصہ درکار تھا لیکن   انہیں اس مدت میں انجام دے دیا گیا اور اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا گیا۔ 
ایک لحاظ سے حرم کو زائرین سے خالی دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا لیکن جب ان جہادی کاموں کو دیکھتا  تو اس سے خوشی محسوس کرتا تھا۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے   زائرین کی دینی اور مذہبی معلومات میں اضافے کے تعلق سے  حرم مطہر رضوی کے ادارہ تبلیغات پر عائد  ذمہ داریوں کا ذکرکرتے ہوئے   کہا کہ حرم مطہر کے ادارہ  تبلیغات پر  پر زائرین کی دینی اور مذہبی معلومات  میں اضافہ کے تعلق   اہم ذمہ داری ہے۔
استقامتی معیشت اور تیز رفتار پیداوار پر توجہ  
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے   کہا کہ مستقل ذرائع  پیدا کرنا ،استقامتی معیشت اور تیز رفتار پیداوار کو عملی جامہ پہنانا یہ وہ امور ہیں جن پر آستان قدس رضوی میں  خاص توجہ دینی ہوگي۔  انہوں نے کہا کہ ہم  خود کو  رہبرانقلاب اسلامی کے فرمودات کا  تابع سمجھیں   اور ہمار ا     ہر اقتصادی  پروگرام استقامتی معیشت اور تیزرفتار پیداوار  کے بارے میں وضع کئےگئے خطوط  اور پالیسیوں کے مطابق ہونا چاہئے    اور  جو ادارے اور ارگنائزیشن رہبرانقلاب اسلامی کے زیرنگرانی ہیں انہيں   رہبرانقلاب کے احکامات  پر عمل درآمد کرنے کے میدان میں دوسروں کے لئے نمونہ عمل ہونا چاہئے     
 غربت و تنگدستی ؛ زیارت امام رضا(ع) میں  رکاوٹ نہیں بننی چاہئے
آستان قدس رضوی نے محروم اور پسماندہ زائرین کی دیکھ بھال کے حوالے سے کرامت رضوی فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کا  ذکرکرتے ہوئے    کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں کوئی بھی ایسا شخص باقی نہیں رہنا چاہئے جو فقرو غربت کی وجہ سے اپنی عمر میں ایک بار بھی حرم امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت محروم ہوجائے  ۔ کرامت رضوی فاؤنڈیشن کو چاہئے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ منصوبہ بندی کرے،پسماندہ اور نادار  مجاوروں کی دیکھ بھال کہ جس  کا   رہبر   انقلاب اسلامی کے احکامات میں بھی ذکر ہوا ہے اور اسی طرح ان پسماندہ علاقوں پر توجہ دینا جہاں پر آستان قدس رضوی کی موقوفات ہیں ان سب کو مدّ نظر قرار دیا جائے۔ 
حجت الاسلام مروی نے کہا کہ کرامت رضوی فاؤنڈیشن کی ایک اور ذمہ داری یہ ہے کہ آستان قدس رضوی کے صوبائی دفاتر پر بھی توجہ دے اس کے علاوہ معاشرے میں غربت   کے خاتمہ کے لئے عوامی ذرائع کی شناسائی بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور اس کام کے لئے کاموں میں شفافیت لانا ضروری ہے۔ 
اخراجات میں میانہ روی اور بچت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے آستان قدس رضوی کے تمام شعبہ جات میں اخراجات میں کمی  اور بچت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں کے سربراہوں  کو چاہئے کہ سنجیدگی سے میانہ روی اور اخراجات میں بچت کے لئے مناسب راہ حل ڈھونڈیں۔
 انہوں  نے  کہا کہ میری نظر میں ایک مسئلہ جو بہت اہم  ہے   وہ واقفین کی نیتوں اور جو انہوں نے نذر کی ہے ان  پر صحیح طرح سےعمل درآمد کرنا ہے، واقفوں کی نیات پر امانتداری کے ساتھ عمل کرنا ہماری ایک اہم ذمہ داری  ہے جس کے لئے قیامت کے دن ہمیں جواب دینا ہوگا۔ اس لئے واقفین کی نیت کے مطابق عمل کرنا اور موقوفات کی حفاظت آستان قدس رضوی کے اداروں کے عہدیداروں کی اہم ذمہ داری  ہے۔ 
آستان قدس رضوی کے ہر شعبہ کا احتساب ہوگا
آستان قدس رضوی کے متولی نے  کہا کہ شفافیت اور احتساب اہم موضوعات میں سے ہیں جن پر  عہدیداروں  کو توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے   مالی اور اداری قواعد و ضوابط کی رعایت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آستان قدس رضوی کا کوئی شعبہ بھی احتساب سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ آستان قدس رضوی میں   سب کا احتساب ضروری ہے اس حوالے سے تمام شعبہ جات کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے باقاعدہ منشور بنایا جائے۔ 
انہوں نے رہبر  انقلاب اسلامی کی ان تاکیدات کی طرف جن میں آپ نے آستان قدس رضوی میں دین دار اور انقلابی ماہرین سے استفادہ پر زور دیا  گيا ہے  ؛ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید تقرریوں میں اس بات کو مدّ نظر رکھا گیا ہے کہ آستان قدس رضوی کی اپنی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے۔دین داری،مہارت اور انقلابی ہونے کو ان تقرریوں میں مدّ نظر رکھا جائے۔جیسا کہ آستان قدس رضوی میں کوئی بھی  شخص   کسی سفارش سے مقرر  نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا۔ 
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر آستان قدس رضوی کے تمام عہدیداروں  کو اپنے ماتحت کام کرنے والے افراد  کا  احترام  کرنے پر تاکید کرتے ہوئے  کہا کہ انسانوں کا وجود اور شخصیت مقدس ہے اس لئے افراد کی شخصیت و حرمت کا خیال رکھا جائے    اور یہ چیزیں ایک صحتمند  ماحول کی تشکیل میں بہت مؤثر ہیں اس لئے آستان قدس کے سبھی عہدیداروں سے میں کہنا چاہتاہوں    کہ وہ لوگوں کی حرمت و شخصیت کا ہر حال میں  خیال رکھیں البتہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے افراد خاص طور پر مالی مسائل میں خرد بر د کرنے والوں کے خلاف  کوئی کاروائی نہ کی جائے۔
 

ماخذ :