کورونا سے متاثرین کو آستان قدس رضوی کی جانب سے ۸۰ ارب تومان کی امداد دی گئي ؛ حجت الاسلام مروی
جمعرات , 07/02/2020 - 18:14
آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے کا کہنا ہے کہ آستان قدس رضوی کی طرف سے ملک میں کورونا سے متاثر افراد کو ۸۰ ارب تومان کی امداد دی گئی۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے ایران کے سرکاری  ٹی وی چینل دو کے خصوصی پروگرام میں  جسے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے حرم مطہر     سے براہ راست نشر کیا گیا؛ کہا کہ اسلامی تعلیمات میں دینی معرفت پر بہت  زیادہ  تاکید کی گئی ہے اسلام کی ابتداہی  معرفت سے ہے اور سب سے پہلے سورہ علق کی جو آیات  وحی کی صورت میں پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوئیں ان میں علم و دانش اور  معرفت کے بارے میں  ہی بات کی گئي ہے 
انہوں نے اس سوال کے بارے میں کہ دینی معرفت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟   کہا کہ دینی معرفت کو قرآن اور اہلبیت عصمت وطہارت علیہم السلام کی تعلیمات کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پیغمبر گرامی اسلام(ص) نے ارشاد فرمایا کہ’’اگر میرے بعد گمراہ نہیں ہونا چاہتے ہو  تو  قرآن و عترت سے متمسک رہنا‘ اس لئے معرفت حاصل کرنے کے یہی دو معیار ہیں۔ 
آستان قدس رضوی کے متولی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ذاتی تصورات وخیالات اور احساسات و  جذبات  کی  بنیاد پر دینی تعلیمات یا مقام امامت کے بارے میں گفتگو نہیں کر سکتے اگرچہ انسانی جذبات اوراحساسات اس وقت   اہمیت کے حامل ہوتے ہيں جب    عقل و معرفت کے ہمراہ ہوں  اس صورت میں یہ انسان کی  کمال کی طرف ہدایت کر سکتے ہیں اسی لئے قرآن میں تدبر او ر غور و فکر کے بارے میں بھی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ 
زیارت کو محدود کرنے کا  سخت فیصلہ شرعی ذمہ داری کی بنیادوں پر کیا گیا
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے دنیا پر الہی قوانین حکمفرما ہیں اور یہ کائنات  انہی  قوانین و الہی  سنت  کی بنیاد پر خلق ہوئي   ہے   کہا کہ  پروردگار عالم نے کائنات کو الہی سنت پر کی بنیاد پر  استوار کیا ہے اور جب بھی ان الہی احکامات کی  کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اللہ کی جانب سے  معجزہ انجام پایا ہے اور  سبھی  اولیائے الہی بھی  ان دستورات و قوانین پر عمل کرنے کے پابند رہے ہيں 
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ الہی سنت و  روایات اور قوانین  کائنات   پر حکم فرما ہیں کہا کہ اگرچہ امام رضا  علیہ السلام کے حرم  کی زیارت  کو محدود کرنے کا فیصلہ ہمارے لئے بہت سخت اور دشوار  تھا لیکن اس فیصلے میں ہم لوگوں کی رائے پر توجہ دینے سے پہلے اپنے آپ کو خدا کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں اس حوالے سے ہمیں جو تشویش لاحق تھی وہ یہ  کہ کہیں ہمارا یہ فیصلہ ’’صد عن سبیل اللہ‘‘  تو نہیں؛ لیکن وہ خدا جس نے صد عن سبیل اللہ منع  کیا  ہے اسی خدا نے انسانوں کی جان بچانے کو واجب قرار دیا ہے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ اگرچہ نزدیک سے زیارت کرنے کا بہت زیادہ ثواب ہے لیکن زیارت مستحب ہے اور انسانوں کی جان بچانا واجب ہے  ۔ انہوں نے کہا کہ  حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی تعلیمات ہمیں ہرگز اجازت نہیں دیتیں  کہ واجب کو مستحب پر قربان کر دیں اس لئے یہ  سخت فیصلہ    شرعی و دینی ذمہ داری کی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔ 
۷۰ فیصد زائرین حفظان صحت کے اصولوں کی رعایت کر رہے ہیں
حجت الالسلام والمسلمین مروی نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا کورونا وائرس  کے  مزید پھیلنے کی صورت میں زیارت کو مزید محدود کیا جا سکتا ہے کہا کہ ہمارے سروے کے مطابق ۷۰ فیصد زائرین و مجاورین حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کر رہے ہیں، انہوں نے اس سلسلے میں  آستان قدس رضوی کی جانب سے جو اقدامات انجام دیئے گئے ہیں ان کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سینیٹائزر اور ماسک کو زائرین کے لئے مختلف جگہوں پر رکھا گیا ہے قالینوں کو شطرنجی صورت میں صحنوں کے اندر بچھایا جاتا ہے اور ان  پر  ہر روز جراثیم کش  دواؤں کا چھڑکاؤ کرنے کے علاوہ ہر تیسرے دن انہیں تبدیل کیا جاتا ہے حرم مطہر کے تمام صحنوں اور ان جگہوں کو جہاں پر زائرین کی رفت وآمد رہتی ہے سیناٹائز  کیا جاتا ہے۔   ہر  صحن میں نماز جماعت نہیں ہوتی فقط بڑے صحنوں میں  ہوتی وہ بھی مکمل حفاظتی تدابیر کے ساتھ ہوتی  ہے  ۔ مٹی سے بنی سجدہ گاہوں کو حرم سے اٹھا لیا گیا ہے اور ان کی جگہ  پتھر سے بنی سجدہ گاہوں کو رکھا گیا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے دنوں نائب وزیرصحت    ڈاکٹر ایرج حریرچی نے بھی حرم رضوی کی زیارت اور حرم کے مختلف مقامات  کا سروے کیا اور اس دوران انہوں نے حفاظتی اقدامات پر مکمل اطمینان  کا اظہار کیا اس کے علاوہ مشہد کی میڈیکل یونیورسٹی بھی حفظان صحت کے تمام اصولوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے ، ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود بھی اگر    اینٹی کورونا نیشنل ہیڈکوارٹر   زیارت کو مزید محدود کرنے کا فیصلہ کرتا ہے   تو ہم ا س کے فیصلوں کو تسلیم اور ان پر عمل کریں گے  
حرم میں زیارت محدود ہونے کے  دوران بھی حرم کا  کام نہیں رکا
حجت الاسلام مروی نے بتایا کہ ہر سال نوروز کے ایام میں حرم مطہر  رضوی،  زائرین و مجاورین سے چھلکتا رہتا تھا  اوریہ سال کورونا کی وجہ سے اس لحاظ سے ہمارے لئے بہت  تکلیف دہ  اور ناگوار گزرا     اس سال حرم کے صحن سونے تھے  اور یہ چیز ہمارے لئے بہت سخت تھی اور غربت اور تنہائی  کو ہم نے بہت قریب سے احساس کیا۔  لیکن اس کے باوجود حفظان صحت کے تمام اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے بعض روایتی پروگرام  جیسے صفہ کے روایتی پرو گرام  وغیرہ خدام کی موجودگي میں محدود پیمانے پر منعقد ہوتے رہے  اس کے علاوہ ان ایام میں حرم رضوی کے اندر بہت زیادہ تعمیراتی کام بھی انجام پائے۔ 
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ عام دنوں میں جس طرح حرم مطہر کے خادم زائرین کی خدمت کرتے ہیں حرم بند ہونے کے دوران خادموں کی طرف سے یہ خدمت جاری  رہی اور حرم مطہر رضوی کے رواق امام خمینیؒ میں غریبوں اور ضرورتمندوں کے لئے مختلف غذائی پیکیٹس  کی تیاری اور انہيں تقسیم کرنے کے مراحل خادموں کے توسط سے انجام پائے کیوں کہ ہم عبادت کو فقط عبادی امور تک محدود نہیں جانتے بلکہ غریبوں کی امداد کو بھی عبادت سمجھتے ہیں۔ ماہ مبارک رمضان میں سینکڑوں  امدادی پیکیج  خادموں کے توسط سے تیار ہوئے جنہیں غریبوں اور ضرورتمندوں میں تقسیم کیا گیا۔ 
حجت الاسلام   مروی نے بتایا کہ مذکورہ  خدمات کے علاوہ کورونا کی وجہ سے متاثر ہونے والے تاجروں  او ردوکانداروں کے درمیان بھی معیشتی پیکیٹس  تقسیم کئے جانے کے علاوہ ان کی  دوکانوں اور گھروں کے کرائے بھی معاف کئے گئے جس کی رقم تقریباً ۸۰ ارب تومان ہے۔
حجت الاسلام مروی نے  کہا کہ کورونا کے دنوں میں دی جانے والی امداد   کی مالیت  ۲۱۵ ارب تومان ہے جو معیشتی پیکیج  ، جہیز اور دیگر ساز و سامان پر مشتمل ہے جنہیں غریبوں اور ضرورتمندوں میں تقسیم کیا گیا ۔
 ان کا کہنا تھا  کہ صوبہ خوزستان صوبہ لرستان اور صوبہ  گلستان میں سیلاب سے متاثرہ  ایسے افراد کو جن کے کھیت تباہ ہوئے یامویشی تلف ہوگئے   انہیں ۳۱ ارب تومان کی امداد فراہم کرنے کے علاوہ ۲۵۰۰ افراد کے لئے کاروبار بھی فراہم  کئے گئے  
آستان قدس رضوی کی تمام کمپنیوں کی معلومات عوام کو دستیاب ہیں
حجت الاسلام مروی نے آستان قدس رضوی کے معیشتی و اقتصادی مسائل میں شفافیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ  کہ ۲۰۱۹ سے آستان قدس رضوی کی تمام کمپنیوں کو باقاعدہ سیسٹم میں اندراج کیا گیا اور اس وقت اس سیسٹم میں ان کی تمام معلومات موجود ہیں۔ 
انہوں نے بتایا کہ پراپرٹی سے لیکر موقوفات اور اقتصادی کمپنیوں تک  سب کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کا آڈٹ ہوتا ہے - ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام کارخانوں ، کمپنیوں اور موقوفات کو موقوفاتی فاؤنڈیشن میں اکھٹا کر دیا گیا ہے اور اب ایسی کوئی کمپنی   نہیں ہے جو  گھاٹے میں چل رہی ہو  البتہ  اتنا  پرافیٹ  اور منافع  بھی نہیں دے رہی ہیں  جن سے آستان قدس کے تمام اخراجات پورے ہو سکیں۔ 
حجت الاسلام مروی نے بتایا کہ حرم امام علی رضا علیہ السلام کا روزانہ کا  خرچ دو ارب تومان ہے لیکن آستان قدس رضوی کی کمپنیاں بڑی مشکل سے ان اخراجات کا دسواں حصہ پورا کر پا رہی ہیں حالانکہ لوگ اس کے برخلاف  سمجھتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام خمینی (رح) کی نظر کے مطابق آستان قدس رضوی ٹیکس دینے سے معاف تھا لیکن اس کے باوجود آستان قدس رضوی کے تمام کارخانے اور فیکٹریاں پورا ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔ 
حضرت امام علی رضا(ع) کے حرم مطہر کے اطراف میں تمام تعمیرات دینی ثقافت کے مطابق انجام دی جائیں
آستان قدس رضوی کے متولی کا کہنا تھا کہ ہم حرم مطہر کے اطراف میں نئی عمارتوں کی تعمیر کے مخالف نہیں ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ حرم کے اطراف میں جدید اور نئی تعمیرات کی جائیں لیکن اگر ان تعمیرات میں مذہبی  رنگ و ثقافت نہ  ہو  تو یہ تعمیرات قابل قبول نہیں ہیں۔ 
حجت الاسلام مروی نے بتایا کہ ۱۹۹۳ میں رہبر   انقلاب اسلامی نے اس وقت کے وزیرشہری ترقیات کو     خط لکھا تھا جس میں حرم کے اطراف میں نئی تعمیرات کے حوالے سے آستان قدس رضوی کے ساتھ ہماہنگی کو ضروری قرار دیا تھا۔ 
انہوں نے کہا کہ اس وقت خیابان  امام رضا(ع)، خیابان  شیرازی اور خیابان  نواب صفوی  پر ایسے ہوٹل اور عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جو اسلامی فن معماری اور ثقافت کے ساتھ مماثلت  نہيں رکھتیں 
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے ان ممبران  کا خصوصی شکریہ ادا کروں جنہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے رہبر  انقلاب اسلامی کو خط لکھا اور اسی طرح  شہری ترقیات کے وزیر   کا بھی جنہوں نے اس مسئلہ کو اٹھایا میں  شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ اس کے علاوہ صوبائی حکام کا بھی شکرگزار ہوں جو کوشش کر رہے ہیں کہ حرم کے اطراف میں اس طرح کی تعمیرات کی جائیں جو اس مقدس بارگاہ کی شایان شان ہوں۔ 
ایک لاکھ منٹ پر مشتمل ٹی وی پروگراموں کی تیاری
گفتگو کے آخری حصے میں   حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے بتایا کہ ہر سال عشرہ کرامت اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے ایّام میں لاکھوں زائرین و مجاورین حرم امام علی رضا علیہ السلام میں زیارت کے لئے شرفیاب ہوتے تھے لیکن اس سال کورونا وبا کی وجہ سے حرم میں موجود زائرین کی تعداد ۳۰ ہزار سے بھی کم ہے ان تمام حالات کے باوجود زیارت کا راستہ بند نہیں ہے اگرچہ قریب سے زیارت کرنے کی تاکید ہے لیکن دور سے بھی امام الروف کے ساتھ ہم   رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے بتایا کہ ان ایام  میں جب حرم میں زائرین داخل نہیں ہو سکتے تھے تقریبا   ایک لاکھ منٹ پر مشتمل مختلف ٹی وی پروگرام تیار کئے گئے ہیں تاکہ لوگوں کا اس حرم مطہر کے ساتھ رابطہ باقی رہے اور اس حوالے سے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام ٹی وی چینلوں  کا  بھی میں شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 
 

ماخذ :