آستان قدس رضوی
سوموار , 07/27/2020 - 23:31
آستان قدس رضوی
آستان قدس رضوی ایک عظیم مجموعہ کا نام ہے کہ جس میں حرم مطہر رضوی اپنے تمام موقوفات و متعلقات کی سرپرستی کرتا ہے اور ان موقوفات کا احیاء اور ان کا صحیح استعمال کے سلسلے میں اقدام کرتا ہے ۔یہ ادارہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے زائرین و مجاورین کی خدمت میں اپنی تمام توانائیوں کا استعمال کرتا ہے اور تمام زائرین حرم مطہر رضوی کی نذرانہ وموقوفات کی جمع آور کرتا ہے۔

حرم مطہر رضوی کی تعمیرات ،وسیع پیمانے پر زائرین کے لیے جدید مقدس مقامات کی تعمیر اور ہر طرح کی سہولتوں کی خاطر اقدامات آستان قدس رضوی کی خدمات میں شامل ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آستان قدس رضوی، حرم مطہر رضوی کے حدود سے بہت زیادہ وسیع و عریض ہے کہ جس کے دامن میں میوزیمز ،لائبریریز، یونیورسٹیاں، دینی مدارس، عصری مدارس، ہسپتال ،کمپنیاں، وغیرہ شامل ہیں۔
جس وقت ایک زائر حرم مطہر رضوی میں حاضر ہوتا ہے،تو احساس آرامش و امنیت اور سکون اس کے وجود میں متجلی ہوتا ہے ۔ یہ احساس اس منور بارگاہ کے خادموں پر زائرین کے دلوں میں اعتماد کی نشانی و علامت ہے اس وقت وہ تمام آرام و سکون کےساتھ حرم مطہر کے معنوی ماحول میں آداب زیارت کو انجام دیتا ہے۔

مشہد مقدس زیادہ تاریخی قدمت نہیں رکھتا،زیارتی شہر ہونے کی وجہ سے تقریباً ایران کے اطراف و اکناف اور ایران کے باہر سے مختلف اقوام اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں آ کر ساکن ہو گئے اور آپس میں میل ملاپ برقرار کرنے لگے ،انقلابات اور اہم واقعات کی وجہ سے بھی ان میں بہت بڑی تبدیلیاں آئیں اسی وجہ سے اس شہر کے ساکنین کسی مخصوص قوم اور قبیلہ سے متعلق نہیں،اس شہر کے ساکنین کی زبان لہجہ میں مختصر اختلاف کے باوجود فارسی ہے۔ اس شہر میں ایران کے مختلف مقامات  سےبلکہ برصغیر،افغانستان اور عربستان سے باشندوں کی رفت و آمد سے اس شہر کے بعض باشندے افغانی،عربی اور ترکی زبانوں سے بھی آشنا ہوگئے۔
مشہد تیسری صدی کے آغاز میں تشکیل پایا، ایک ایسے تلخ دن جب ایک ستارہ زمین پر گرا،رونے کی صدائیں بلند ہوئیں،جگر خون آلود ہوا،خورشید شہید ہو گیا۔
کچھ اس طرف طوس ہے۔ویران برجوں پر مشتمل ایسا شہر جس کی خاک پر ہمیشہ جلنے والی آتش اور ہمیشہ بہنے والا خون ہے۔ اب اس کے درمیان ایک قومی عظیم شاعر ’’فردوسی‘‘کی آرمگاہ ہے،فردوسی جو اپنی بلند آواز میں شاہنامہ کے ایک ایک کلمہ سے اس سرزمین کی دلیری، قومیت اورمحبت الوطنی کے نغمے گنگنا رہا ہے۔ تاریخی افسانوں میں ملتا ہے کہ طوس کے بنانے کا فرمان کیانی بادشاہ جمیشید نے دیا تھا اور تورانیوں کی خون ریزی سے یہ شہر ویران ہو گیا۔پھر خسرو شہریار کے سپہ سالار طوس نوذر نے اس شہر کی ترقی پر کمر ہمت ہاندھی اور اپنا نام اس شہر پر رکھا۔طوس نے ۹۰۰سال زندگی کی اور پھراختتام پذیر ہوا،اب اس کے جسم کا ذرہ ذرہ ویران ہورہا ہے اور اس کی دیواروں کی ویرانیوں میں سانپ اپنی کھال تبدیل کرتے ہیں۔

مرقد منور کا سنگ
ابھی تک حضرت امام رضا علیہ السلام کے مرقد منور پر تین سنگ(پتھر)لگ چکے ہیں جو اپنی اپنی تاریخی حیثیت و وُقعت رکھتے ہیں۔
ان میں سے قدیمی ترین سنگ ِمرقد ، سنگِ مرمر ہے جس کا سائز۴۰×۳۰ اور قطر۶ سینٹی میٹر ہے، یہ سنگ چھٹی صدی کے اوائل میں اس مقدس مزار پر نصب کیا گیا اور اس وقت آستان قدس رضوی کے میوزیم کی بہت قیمتی نفیس اشیاء میں شمار ہوتا ہے، یہ سنگ جو کہ کوفی شکستہ طرز تحریر سے مزین ہے؛ تاریخی اعتبار سے انتہائی بلند مرتبہ اور بااہمیت ہے۔ اس سنگ کے حاشیہ پر تین کتیبے اور اس کی محرابی شکل کی بالائی سطح پر ایک کتیبہ دیدہ زیب نظارہ پیش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
امام علیہ السلام کا دوسرا سنگ ِمرقد جو ظاہراً مونسار نامی سفید سنگِ مرمر کی جنس سے ہے اور پہلے سنگِ مرقد کی جگہ پر لگایا گیا ،اس سنگ کے حصول کی کیفیت کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں مل سکیں۔
حضرت علیہ السلام کے مرقد منور کا تیسرا سنگ بہت عمدہ و ممتاز مرمر سے ہے جو کہ یزد کے ساتھ توران کی کان سے لایا گیا ہے۔ یہ سنگ سبز چمنی رنگ کا ہے، اس کا سائز۲۰\۲×۱۰\۱، قطر ایک میٹر اور وزن ۳۶۰۰ کلوگرام ہے جو کہ ۱۳۷۹ ھ۔ق میں حرم مطہر میں آٹھویں امام علیہ السلام کے مرقد منور پر پانچویں ضریح مبارک نصب کرنے کے موقع پر لگایا گیا۔

ضریح مقدس
ضریح صندوق کو گھیرے ہوئے ایک جالی ہے۔ تاریخی شواہدکی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی قبر مطہر پر ضریح مقدس کا لگایا جانا صفویہ دَور سے شروع ہوا اس دَور سے پہلے ضریح مبارک لگائے جانے کے بارے میں معلومات موجود نہیں ہیں۔بہر حال صفویہ دَور سے اب تک حضرت امام ہشتم علیہ السلام کے مرقد مطہر پر پانچ عدد مقدس ضریحیں لگائی جا چکی ہیں کہ جو سنگِ مرقد اور صندوق پر محیط تھیں۔
مذکورہ پانچ مقدس ضریحوں کے بارے میں مختصر معلومات ذیل میں ذکر کی جا رہی ہیں:
پہلی ضریح مبارک؛ صفویہ دَور میں لکڑی سے بنائی گئی ضریح مبارک
پہلی ضریح مبارک جو کہ سونے اور چاندی سے مزین تھی، دسویں ہجری کے درمیانی عرصے سے متعلق تھی۔
یہ ضریح مبارک صفویہ دَور میں ۹۵۷ ھ۔ ق میں بنائی گئی اور مرقد مطہر کے صندوق پر نصب کی گئی۔
اس ضریح مبارک کے اطراف والے کتیبے پر خطِ ثُلث میں’’سورۂ ھَل اَتٰی‘‘(سورہ دھر/انسان)لکھی گئی تھی اور ضریح مبارک کے دروازے کے اُوپر لگی ہوئی طلائی لوح کی تحریر سے اس ضریح مبارک کا تاریخچہ یوں معلوم ہوتا ہے’’در عہد سلطنت بندۂ شاہِ ولایت،طہماسب بن اسماعیل صفوی این محجر مبارک در این مکان مقدس نصب گردید۔سنہ ۹۵۷‘‘
یعنی ’’بندۂ شاہِ ولایت طہماسب ابن اسماعیل صفوی کی سلطنت کے دَور میں یہ مبارک ضریح اِس مقدس مکان میں لگائی گئی؛۹۵۷‘‘
دوسری ضریح مبارک؛ نادری دَور کی نگین نشان ضریح مبارک
تیسری ضریح مبارک؛ قاجاریہ دور کی فولادی ضریح مبارک
چوتھی ضریح مبارک’’ضریحِ شیر و شکر‘‘
پانچویں ضریح مبارک؛ضریح آفتاب

حرم مطہر کے مینار
مینار یا مَنارَہ لغت میں نُور یا روشنی کی جگہ اور چراغ دان کو کہتے ہیں جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد ایسی بلند سی جگہ ہے جو قدیمی زمانوں سے مسجدوں ، زیارتگاہوں اور دینی مدارس کے اصلی ایوان کے اوپر بنائی جاتی تھی مینار سے نور افشانی و چراغاں اور اذان گوئی کے لیے استفادہ کیا جاتا تھا۔
اس کے علاوہ مینار یا گلدستہ معماری کے اہم عناصر و ارکان میں سے ہے اور ایران کی اسلامی معماری ثقافت اور معاشرتی ، اجتماعی آداب و سنن کی علامت شمار ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ مینار سے گلدستہ ٔ اذان کے طور پر مساجد میں استفادہ کیا جائے ، اس سے مسافروں کے لیے رہنمائی کے بُرج(ٹاور) کے طور پر استفادہ کیا جاتا تھا اور بعض جگہوں پر سنگ میل کی جگہ پر رہنمائی کا کام لیا جاتا تھا۔
اِس وقت حرم مطہر میں مسجد گوہر شاد کے دو بلند میناروں سمیت حرم کی عمارت میں بارہ عدد مینارموجود ہیں۔
آستان قدس رضوی کے قدیمی عمارتی مجموعے میں دو مختلف قدمت کے (قدیمی ترین) مینارموجود ہیں؛ ایک مینار صحن انقلاب کے جنوب میں طلائی(سنہرے) گنبد کے پاس اور دوسرا اس کے بالمقابل اسی انداز سے صحن کے شمال میں ایوان عباسی کے اوپر ہے۔

مدرسہ پریزاد

مدرسہ پریزاد جو کہ حرم مطہر رضوی کے جنوب غربی ضلع اور دارالسیادہ ہال میں واقع ہے اسی طرح دو دروازوں والے مدرسے کے روبرو اور دارالولایہ ہال کے پہلو میں واقع ہے جب یہ مدرسہ بنایا گیا اس وقت یہاں کےمین بازار’’ بازار زنجیر‘‘ کے ساتھ تھا۔ یہ بلڈنگ حوزہ علمیہ مشھد کے مشہور اور تاریخی مدرسوں میں سے ایک ہے جس کہ تیموریوں کے دور حکومت میں شاھرخ میرزا کی حکومت کے وقت۸۲۳ ہجری قمر میں شاھرخ میرزا کی بیوی گوھر شاد کی خادمہ کے توسط سے بنایا گیا۔ یہ مدرسہ بھی دوسرے تیموری دور کے تمام مدرسوں کی طرح چار ایوانوں پر مشتمل ہے جو کہ ۳۰۰ مربع میٹر کی مساحت پر مشتمل دوطبقوں میں بنایا گیا ہے جس میں ۲۲ کمرے ہیں۔ جیسا کہ وقف نامہ میں ذکر ہوا ہے کہ یہ مدرسہ زائر طالب علموں سے مخصوص ہے ( حد اکثر دو مہینوں تک) استراحت کرنے کے لئے اور زیارت کے دوران مختلف جلسے اور درس وبحث کو برگزار کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔
حال حاضر میں مدرسہ پریزاد ادارہ پاسخگویی بہ سوالات دینی اور اطلاع رسانی کے تحت میں ہے جو کہ آستان قدس رضوی کے تبلیغات کا ایک ادارہ ہے اس ادارہ میں دینی سوالوں کے جواب بصورت حضوری، ٹیلی فون کے ذریعے اور خط وکتاب کے ذریعے دیئے جاتے ہیں اس طرح دینی مشورت، خط وکتابت کے ذریعے موصول ہونے والے سوالات کے جوابات، معرفتی جلسات،حرم شناسی، کمپیوٹر اور اطلاع رسانی جیسے چند ایک ادارے یہاں پر کام کرتے ہیں۔  


جامع مسجد گوہر شاد 

جامع مسجد گوہرشاد حرم مطہر کے جنوب میں واقع ہے، یہ مسجد حضرت امام رضا علیہ‏السلام کی بارگاہ میں ایک پرشکوہ‏ترین قدیمی اثر ہے، اس کی قدمت ۶۰۰ سال ہے اور ایران اور دنیا بھر کی نمایاں ترین مساجد میں شمار ہوئی ہے۔اس مسجد کی بانی ‘‘گوہر شاد’’ نامی ایک خاتون ہے جو کہ تیمور لنگ کے فرزند شاہ رُخ کی ہمسر ہے،یہ خاتون اعمال صالح اور ہنر پروری میں شہرت رکھتی ہے۔ مسجد گوہر شاد ایک صحن،چار ایوانوں ،ایک فیروزی رنگ کے گنبد ، دو خوبصورت رنگ کے گلدستوں ،۷شبستانوں ،۲۲ حجروں اور مختلف حصوں میں ۲۸ دروازوں پر مشتمل ہے اور شمالی ایوان کے راستے سے روضۂ منورہ کے ساتھ متصل ہے۔ایوان مقصورہ کی انتہا پر اور محراب کے پاس ایک نہایت ظریف لکڑی سے تعمیر کیا ہوا ایک منبر ہے جو ’’ منبر صاحب الزمان ؑ ‘‘کے نام سے معروف ہے۔اس منبر کی ۱۴ سیڑھیاں ہیں ۔ یہ منبر ناشپاتی اور اخروٹ کی لکڑی سے بنایا گیا ہے ،اس کی بناوٹ میں کوئی دھات استعمال نہیں ہوئی ۔یہ مسجد تاریخی قدمت ،طرز تعمیر اور ہنری خوبصورتیوں کے لحاظ سے مشہد مقدس اور ایران اسلامی کے اہم آثار قدیمہ میں سے ہے جس میں زائرین و مجاورین رغبت سے عبادات انجام دیتے ہیں ۔


مسجد بالاسر
مسجد بالاسر سے مراد حرم مطہر رضوی میں ضریح مبارک کے سرہانے والی مسجد ہےاور حرم مطہر کے احاطے میں روضۂ منوّرہ کے بعد قدیمی ترین تاریخی عمارت یہی مسجد ہے۔ یہ چھوٹی سی مسجد بقعۂ مبارکہ کےغربی جانب اور حضرت ؑ کی ملکوتی بارگاہ کے سرہانے کی طرف حرم کے داخلی حصےاور رواق دار السیادہ کےدرمیان واقع ہے۔اس مسجد کا طول ۸ میٹر،عرض ۴/۵ میٹر جبکہ بلندی ۱۰ میٹرہے۔
مسجد بالاسر کے شرقی ،غربی اور شمالی تین صفے ہیں۔شرقی صفہ حرم مطہر کے ساتھ متصل ہے جہاں سےزائرین طواف اور زیارت کرنے کے بعد مسجد بالاسر میں داخل ہوتے ہیں اور ’’الصلوٰۃ عند رأس الامام ؑ‘‘ کے عقیدے یعنی معصوم امام علیہ السلام کے سر اطہر کے نزدیک نماز ادا کرنا بہت فضیلت رکھتا ہے؛کے مطابق وہاں پردورکعت نماز زیارت ادا کرتے ہیں۔ایک نقل (قول) کے مطابق گذشتہ زمانے میں حرم مطہر اور مسجد کے شرقی صفے کے درمیان ایک دیوار ہوتی تھی ،سال ۱۲۲۷ ہجری قمری میں جبکہ خراسان کا گورنرمحمد ولی میرزا نامی شخص تھا ،یہ دیوار ختم کر دی گئی اور اس طرح مسجد بالاسر حرم مطہر کے ساتھ متصل ہو گئی۔مسجد کا شمالی صفہ رواق دار الشکر کے ساتھ ملاہواہے۔

ایوان عباسی کا مینار
ایوان عباسی کا مینار صحن انقلاب اسلامی کے شمالی حصے میں واقع ہے جو کہ نادری دور کے آثار میں شمار ہوتا ہے۔ تاریخ میں آیا ہے کہ نادر شاہ نے حکم دیا تھا کہ شاہرخی مینار کے بالمقابل ایک اور مینار بنایا جائے اور صحن انقلاب اسلامی میں ایوان امیر علی شیر نوائی کی طلا کاری کی جائے۔ استاد علی نقی مشہدی نے ایک سال کے عرصے میں نیا مینار بنایا اور طلاکاری کی۔
یہ مینار کاشی کاری ، ٹائیلوں اور ان پر کی گئ طلا کاری کے لحاظ سے گنبد کے ساتھ والے مینار کی مانند ہے ۔ اس مینار کے کتبے پر بھی خط ثلث میں محمد وآل محمد(ص) پر صلوات لکھی ہوئی ہے اور اس کے آخر میں ’’ فی ذیقعدۃ الحرام سنۃ 1145‘‘ اور اس کے نیچے خط نستعلیق میں لکھا ہوا ہے : عالی جناب سلالۃ السادات العظام امیر سید احمد الحسینی سر کشیک و کلب عتبہ عالیہ روضہ رضویہ محمد جعفر خادم فی شہر رمضان المبارک1146‘‘۔

صحن انقلاب
صحن انقلاب اسلامی وہی معروف صحن عتیق ہے جو آستان قدس رضوی کے متبرکہ اماکن کے صحنوں میں قدیمی ترین اور پُرشکوہ ترین صحنوں میں شمار ہوتا ہےاور حرم مطہر کے شمال میں واقع ہے۔یہ وسیع عمارت تقریباً۶۷۴۰ مربع میٹر رقبہ رکھتی ہے۔صحن انقلاب اسلامی کے ضلع جنوبی میں ضریح مطہر کے بالمقابل معروف اور بڑی فولادی جالی ہے جہاں سےبہت زیادہ زائرین زیارت اور کسب فیض حاصل کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بیمار بھی امام ؑسے توسل کی خاطر اسی جگہ کاانتخاب کرتےہیں ،حاجت اور شفاء لیتے ہیں۔
مرحوم شیخ حر عاملیؒ کا مدفن جس سرداب میں ہے وہ اس صحن کے شمالی ضلع میں اور مرحوم شیخ مجتبی قزوینیؒ کا مقبرہ اس صحن کے غربی ضلع میں واقع ہے۔یہ عمارت عمارتی نقشے کے مطابق چار ایوانی عمارتوں کے زمرہ میں ہے؛جنوب میں ایوان طلائے نادری،شمال میں ایوان عباسی،ضلع غربی میں ایوان ساعت اور صحن کے شرق میں ایوان نقارہ خانہ ایک دوسرے کے روبرو تعمیر کیے گئے ہیں۔ایوان طلا کے علاوہ بڑے ایوان صحن میں رفت و آمد کے راستے ہیں۔صحن انقلاب کے مہم ترین تاریخی آثار میں سقا خانہ نادری اور نقارہ خانہ ہیں۔

صحن آزادی کا قدیمی تاریخی گھڑیال
رواق امام خمینیؒ کے ساتھ صحن آزادی کے جنوبی ایوان کے بالائی برج(مینار)پر لگا پرانا گھڑیال ، حرم مطہر کا ابتدائی اور قدیمی ترین گھڑیال ہے۔ انگلینڈ کے شہر مانچسٹر کے ساختہ اس گھڑیال کو ناصر الدین شاہ قاجار کے زمانے میں ایران کے صدر اعظم امین الملک نے حرم مطہر کو ہدیہ کیا تھا، یہ گھڑیال آج سے 122 سال پہلے 1893 عیسوی میں بنایا گیا تھا۔
پہلے پہل یہ گھڑیال صحن انقلاب(صحن عتیق) کے مغربی ایوان کے بالائی برج پر لگا ہوا تھا اور پھر تقریباً 57سال قبل اسے وہاں سے صحن آزادی (صحن نو) کے جنوبی ایوان کے بالائی مینار پر منتقل کیا گیا۔ ظاہراً گھڑیال کو موجودہ مقام پر منتقل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے وزن کی وجہ سے صحن انقلاب کے ایوان کے صدر دروازے کی بنیادیں بیٹھ گئی تھیں کہ جن کی مرمّت کے بعد ایوان کے اوپرکنکریٹ سے عمارت بنائی گئی اور اسے معرّق ٹائلوں سے مزیّن کیا گیا۔ پھر اس گھڑیال کی جگہ موجودہ گھڑیال کو نصب کیا گیا جسے مرحوم عبد الحسین معاون نے جرمن کے شہر ہیمبرگ سے خریدا تھا۔

تاریخ کی روایت میں حرم مطہر کے معمار
حرم مطہر کی عمارت طولِ تاریخ میں اور رفتہ رفتہ تعمیر و توسیع کے مراحل سے گزری ہے۔ حرم مطہر کی موجودہ زمانے کی فضاء بنانے میں بلند ہمت مَردوں اور خواتین نے ایرانی سرزمین کی تاریخ کے ہر دَور میں اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے اور اس طرح حضرت امام رضا علیہ السلام کے نامِ نامی اور اسمِ گرامی کے نیچے(خادمین کے زُمرے میں)اپنا اپنا نام ابدی طور پر نقش کرسکے ہیں۔ہر ٹائیل اور ہر پتھر جو حرم مطہر کی دیوارں پر جگہ جگہ لگا ہُوا ہے،وہ اس سرزمین کے لوگوں کی اپنے آقا و مَولا حضرت غریب الغرباء امام رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناءکی خدمت اقدس میں ان کی ارادت،عقیدت اور عشق کی عکاسی ہے۔حرم مطہر کے کتیبہ جات پر جو تاریخ موجود ہے وہ سامانیوں کے زمانے سے قاجاریہ دَور تک کو ظاہر کرتی 

زائرین کے امور اور مقدس مقامات کی معاونت کا ادارہ
جب زائرین حرم مطہر امام رضا علیہ السلام میں داخل ہوتے ہیں تواپنے وجودمیں امنیت،سکون اور نظم کا احساس کرتے ہیں، یہ احساس اس بارگاہ کے خدمتگزاروں پر اعتماد کی وجہ سے زائر کے دل میں جاری ہوتا ہےاور وہ آسودہ خاطر ہو کر حرم مطہر کے معنوی ماحول میں آداب زیارت کو انجام دیتا ہے۔
جو چیز یہاں پر مھم ہے وہ یہ ہے کہ ہر سال 20 میلن زائرین مشھد مقدس میں تشریف لاتے ہیں ان تمام زائرین کے لئے امکانات اور ان کی ضروریات کوپوراکرنا بہت ہی دشواراور سخت کام ہے ان کاموں کو انجام دینے کے لئے پیوستہ برنامہ ریزی کی ضرورت ہے ۔ یہاں ہم آستان قدس رضوی کے ادارہ معاونت اماکن متبرکہ اور امور زائرین کی چند ایک خدمات کو اشارتاً ذکر کرتے ہیں:
زائرین کو ریلیف دینا
چند ایک فعالیتیں جیسے ان زائرین کو وطن بھیجنا جو کسی وجہ سے نہیں جا سکتے، سفر کا خرچہ دینا، لباس کا مھیا کرنا،ضرورت مند زائرین کے لئے جوتے فراہم کرنا، دوائی کا فراھم کرنا ،مریض زائرین کو دارالشفاء اور دوسرے طبی مراکز کی طرف بھیجنا، زیارتی شیڈول میں ضعیف وناتوان زائرین کودعوت دینا اور ایسے ھموطنوں کو زیارت کے لئے بلانا جو اب تک مالی مشکل کی وجہ سے مشھد مقدس تشریف نہیں لا سکے اور ان کی میزبانی جیسے کام زائرین کو ریلیف دینے والے ادارہ میں انجام پاتے ہیں۔ اس شعبہ میں کام کرنے والے افراد سال میں ایک یا دو بار مشھد مقدس کے مختلف ہاسپٹلز میں ایڈمٹ افراد کو حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے لاتے ہیں۔

خدمات
زائرین کے رفاہ اور آسائش کے لئے شعبہ خدمات کے چاردفتر ہیں’’حضرت کے مہمانسرا کا دعوت نامہ تقسیم کرنا‘‘ ’’ دفن کے کام‘‘ ’’حرم مطہر کا تلفن خانہ‘‘ اور’’ گھڑیوں کی تعمیر اوردیکھ بھال‘‘۔
ان خدمات میں زائرین کو مخصوص کوڈ لگے ہوئے مہمانسرا کا دعوت نامہ دینا جو کہ زائرین کے اسکان کی جگہ پر تقسیم کیا جاتا ہے اور غیر ایرانی زائرین کو یہ دعوتنامہ رواق دارالرحمہ میں دیا جاتا ہے، جنازے کو دفن کرنے کے تمام کام اور دفن کے بعد کی تمام خدمات کو فراہم کرتا ہے، مقدس مقامات سے زائرین کو ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ یا برعکس اس شعبہ کے ذریعے انجام پاتا ہے، حرم مطہر کی گھڑیوں کی ہر روز دیکھ بھال بالخصوص صحن انقلاب اسلامی اور صحن آزادی کے دروازے پر لگی گھڑی کی دیکھ بھال اور تعمیر اور صفائی اور بیٹریوں کا تبدیل کرنے جیسے کام اس ادارے کے ذریعے انجام دیئے جاتے ہیں۔

امانتداری اور گمشدہ چیزوں کی حفاظت
 گمشدہ افراد کی نگہداری
ویلچیئر
شفا پانے والے
لائٹنگ کے انتظامات
 خادموں کے امور کی سربراہی
 انتظامات کی سرپرستی
 حریم رضوی کے انتظامات
حرم مطہرکے انتظامات
 مقدس صحنوں کے انتظامات
 ادارہ آگاھی حرم مطہر(حرم مطہر رضوی  کا پولیس اسٹیشن)
حضرت کا مہمانسرا
دو اور شعبے

کفشداران
مطمئن جگہ پر جوتوں کا رکھنا حرم مطہر رضوی کے ان خادموں کا وظیفہ ہے۔ایک ہزار سات سو خادم آٹھ شفٹوں میں ۲۲ مختلف جوتے رکھنے والی جگہوں پر دن رات کام میں مصروف ہیں۔ خادموں کا یہ گروپ جنہوں نے سبز رنگ کا لباس پہن کر مخصوص جگہوں پر کھڑے ہوتے ہیں زائرین سے جوتے لینے کے علاوہ، جوتوں والی جگہ کی صفائی،نظم وضبط اور ان کی حفاظت کا وظیفہ ان کی ذمہ داری ہے اسی طرح زائرین کو ضروری راھنمائی بھی فراھم کرتے ہیں۔ خادموں کا یہ گروپ بھی دوسرے خادموں کی طرح شب عاشور اور حضرت رضا علیہ السلام کی شب شہادت اور شام غریباں کی رات کے مراسم میں شرکت کرتے ہیں۔

حفاظ
قرآن کریم کی قرائت کی حرم امام رضا علیہ السلام میں اتنی اھمیت ہے کہ مختلف قرآنی فعالیتوں کے علاوہ ہر روز صبح کے وقت طلوع آفتاب کے بعد اور ہر رات نماز مغربین کے بعد سے ایک گھنٹے تک حفاظ کے ذریعے قرائت قرآن کریم انجام پاتی ہے۔ حفاظ خادموں کا وہ گروپ ہے جو دوسرے خادموں اور فراشان کی طرح سیاہ رنگ کا لباس پہنے ہوتے ہیں۔اور ان کے لباس پر لگے نشان کے نیچے ’’ حفاظ‘‘ لکھا ہوتا ہے خادموں کا یہ گروپ ہر روز صبح و شام رواق دارالسلام اور دارالحفاظ میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ صفہ، خطبہ، شام غریباں اور شہادت کی راتوں میں ہونے والے مراسم میں حاضر ہونا بھی حفاظ کا وظیفہ ہے۔

دربانان
صحن میں سکون کو برقرار کرنااور زائرین کی راھنمائی ’’ دربانان‘‘ نامی خادموں کے اس گروپ کا وظیفہ ہے ۔ یہ گروپ صحنوں اور چھت سے گرد وغبار اور برف ہٹانے کا وظیفہ بھی رکھتے ہیں۔ ان خادموں کو آپ صحنوں میں انٹر ہونے کی جگہ پر سیاہ رنگ کے لباس اور چاندی کے رنگ والے عصا کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ خادموں کا یہ گروپ شب شہادت امام رضا علیہ السلام ، شب عاشور اور شام غریباں کی رات چاندی کے رنگ والے عصا کی بجائے لکڑی کا عصا ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ دارالسعادہ یا دارالذکر ہال میں صبح کے وقت خطبہ اور شفٹ کی تبدیلی کے مراسم میں حاضر ہونا بھی ان کا وظیفہ ہے۔

فراشان
فراشان ایسے خادم ہیں جو ہالز میں خادموں سے مشابہہ وردی پہنے ہوتے ہیں وہی لبادہ اور کالے رنگ کی شلوار اور ان کے سینے پر لگے نشان کے نیچے فراش لکھا ہوتا ہے۔ خادموں کا یہ گروپ ہالز میں گردو غبار کی صفائی،طہارت وپاکیزگی کا خیال رکھنا اور دارالولایہ اور دارالاجابہ حال میں زائرین کی راھنمائی ان کے وظائف میں سے ہے۔ لوح و لالہ اور قرآن کا صفہ میں صبح وشام مراسم برگزار کرنے کے لئے مرتب کرنا، دارالسعادہ ہال کو صبح میں خطبہ کے مراسم کے لئے تیار کرنا، صفہ اور خطبہ کے مراسم میں نظم وضبط کو برقرار رکھنا، شب عاشور کے خطبہ میں شرکت، حضرت رضا علیہ السلام کی شب شہادت اور شام غریباں میں شرکت جیسے وظائف کی ذمہ داری فراشان پر ہے۔ اسی طرح ضریح کے اوپر رکھے پھولوں کو دارالقرآن میں زائرین کے درمیان تقسیم کرنا بھی فراشان کے وظائف میں سے ہے۔


انوار یاران
خادموں کا یہ گروپ قرآن پاک، دعاؤں کی کتابوں اور مفاتیحوں کی نگھداری پر مامور ہے۔ یہ گروپ جو کہ حرم کی کفشداری کے سیکشن کی نظارت میں کام انجام دیتے ہیں’’ انوار یاران‘‘ کے نام سےمشہور ہیں ۔ انوار یاران کا اصلی کام قرآن، مفاتیح اور دعاؤں  اور زیارات کی کتابوں کوحرم مطہر رضوی کے صحنوں اور ہالز میں مرتب کرکے رکھتے ہیں۔ انوار یار کے ۱۵۰ افراد ۸ شفٹوں میں دن رات مختلف الماریوں میں رکھی کتابوں کی حفاظت کرتے ہیں  اس کے علاوہ انہیں مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ کتابوں کے کم ہونے کی صورت میں ’’اتاق انوار‘‘ نامی کمرے سے کتابیں لا کر رکھتے ہیں اور اسی طرح پرانی اور خراب ہوجانے والی کتابوں کو ان جگہوں سے جمع کرتے ہیں۔ انوار یاران سے تعلق رکھنے والے خادم سیاہ لباس میں ہوتے ہیں اور اوپر کے وظائف کے علاوہ دوسرے خادموں کی طرح شب عاشور اور شہادت امام رضا علیہ السلام  کی رات اور شام غریباں کی رات کے مراسم میں شرکت بھی کرتے ہیں۔


خطبہ خوانی کا پروگرام
خطبہ خوانی کا پروگرام سال میں صرف دو راتوں میں منعقد ہوتا ہے ، ایک شب عاشور اور دوسری شب شہادت حضرت امام علی رضا علیہ السلام ، یہ پروگرام حرم مطہر رضوی کے صحن انقلاب اور صحن جمہوری اسلامی میں حرم کے خادموں کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ یہ حرم مطہر رضوی کے عظیم ترین پروگراموں میں سے ایک ہے۔ کہ جس میں مصائب کے بعد تمام خادم صحن میں چاروں طرف ایک صف میں اپنے ہاتھوں میں جلتی ہوئی شمع لیے کھڑے ہوتے ہیں پھر ایک خصوصی نظم و ترتیب کے ساتھ نقارخانہ کے محراب نما ہال میں جمع ہوجاتے ہیں۔پھر محافظین حرم اپنے ہاتھوں میں شمع دان کہ جس میں جلتی ہوئی شمع ہوتی ہے بہت ہی رنجیدہ حالت بلکہ روتے ہوئے خدمت گذاری کا مخصوص لباس پہنے ہوئے ایک ساتھ تمام خادموں اور مہمان زائروں کے سامنے سے گذرتے ہوئے خطبہ پڑھتے ہیں۔ اس خطبہ میں تمام معصومین علیہم السلام کے اسماء گرامی ہیں کہ جو حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے نام مبارک پر ختم  ہے اور آخر میں اسلامی انقلاب کے رہبر معظم کے نام پر خطبہ کا اختتام ہوتا ہے۔

نقارہ بجانے کا پروگرام
پورے سال دومہینوں محرم و صفر اور تمام سوگواری کے ایام کے علاوہ ہر روز دو مرتبہ آستان قدس رضوی میں نقارہ بجانے والے اپنے اپنے نمبر کے مطابق نقارہ بجاتے ہیں۔نقارہ بجانے کا وقت طلوع و غروب سے کچھ منٹ پہلے ہے کہ جن میں طبل اوربین ایک خصوصی انداز میں بجائے جاتے ہیں اور آخری ضربت کے وقت  سورج کے طلوع و غروب کا اعلان کرتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ دینی و مذہبی عید کے دن اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کی ولادت باسعادت کے روز بھی خوشی کا نقارہ بجایا جاتا ہے  اور اس روز بھی یہ نقارہ بجتا ہے کہ جب حضرت امام علی رضا  علیہ السلام کی کوئی کرامت نظر آتی ہے جیسے کسی مریض کو شفاء ملتی ہے۔
آستان قدس رضوی میں یہ نقارہ بجنا نویں صدیں ہجری میں رائج ہوا۔ 860 ہجری میں محترمہ گوہرشاد کا پوتا مرزا ابوالقاسم بابر ہرات سے مشہدآیا اور حکم دیا کہ حرم مطہر رضوی کے باغ میں نقارہ بجایا جائے ۔ اس دن کے بعد سے آج تک مختلف مناسبتوں پر نقارہ بجایا جاتا ہے ۔

جھاڑو دینے کے مراسم
روضہ منوّرہ اور ہالز کو جھاڑو دینے کے مراسم ہر روز صبح کے وقت شفٹ تبدیل ہونے کے مراسم کے بعد برگزار کئے جاتے ہیں؛ مراسم کچھ اس طرح سے ہیں کہ چھوٹے دستوں والے جھاڑوں کو ایک ٹرے میں رکھا جاتا ہے اور مراسم کے اختتام پر خادم اور جھاڑوں دینے والے اور قالین بچھانے والے سب مل کر مدح و ثنا کرتے ہیں۔ انہی مراسم سے ملتے جلتے مراسم میں حرم امام کے خادم سرمئی رنگ کے ایک قسم کے لباس پہن کر اور ہاتھوں میں بڑے دستوں والے جھاڑوں پکڑ کر بارگاہ منور امام رضا میں خدمت کی توفیق حاصل ہونے پر اشعار پڑتے ہیں ۔