ساسانی دور کے دسیوں سکے آستان قدس رضوی کے میوزیم کو ہدیہ
جمعہ , 09/04/2020 - 23:02
ساسانی دور کے دسیوں سکے آستان قدس رضوی کے میوزیم کو ہدیہ
تہران کے ایک باشندے نے ساسانی دور کے پچاس سے زیادہ سکے جو اس نے جمع کررکھے تھے آستان قدس رضوی کے سکّوں کے میوزیم کو ہدیہ کردیا ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق آستان قدس رضوی میں سکّوں اور ڈاک ٹکٹ کے میوزیم کے انچارج محمد حسین یزدی نژاد نے اس گرانقدر ہدیئے کی اطلاع دی  ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سکّے پیروز، قباد اول، خسرو اول (مشہور بادشاہ انوشیروان) اور ہرمز چہارم  وغیرہ کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سکّے چاندی کے ہیں اور درّم کہلاتے ہیں ۔ ان تمام سکّوں پر ایک طرف بادشاہ کی تصویر ہے اور دوسری طرف آتشدان بنا ہوا ہے جس کے دونوں طرف ایک ایک نگہبان کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر دور کے بادشاہ کی تصویر الگ ہے ۔ 
  یزدی نژاد نے جن شہروں میں یہ سکّے ڈھالے گئے ہیں ان کے نام بتاتے ہوئے کہا: یہ سکے سن 488 عیسوی سے لے کر 590 عیسوی تک کے ہیں اور انہیں نیشا پور، ری ،نی ھاوند ، اصفہان ،فرات، داراب گرد، اہواز، گرگان، دیناور، ایرانشہر شاپور،میشان، آدورپادگان، گنجور، ریواردشیر، ایران خورہ، شاہور،  
 اردشیر، اردشیرخورہ ،مدائن، استخر، بکستان(سیستان قدیم) گندی شاپور، یزد ،مرو، وہ ازآمدکوات، نرماشیر وغیرہ شہروں میں ڈھالا گیا ہے۔
ان سکوں کو ہدیہ کرنے والے شخص نے ، جو اس سے پہلے بھی ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآنی نسخے اورنفیس کتابیں اور بہت سی دوسری آثار قدیمہ سے متعلق گرانقدر اشیاء آستان قدس رضوی کے لیۓ ہدیہ کرچکے ہیں ،آستان نیوز کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا : میں 1992 میں حرم مطہر کی زیارت کے لیۓ آیا تھا، میں جب آستان قدس رضوی کے میوزیم کو دیکھنے گیا تو رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے ہدیہ کیۓ ہوئے ذخیرے کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا ۔ یہ وہ گرانقد اور نفیس چیزیں تھیں جو رہبر معظم کو مختلف لوگوں نے ہدیہ کی تھیں اور انہوں نے ان ساری اشیا کو آستان قدس کے میوزیم کو ہدیہ کردیا تھا۔ اس ذخیرے کو دیکھ کر مجھ میں  بھی یہ شوق اور جذبہ پیدا ہوا اور میں نے یہ منّت مانی کہ اگر میرے مالی حالات بہتر ہوجائیں گے تو میں بھی امام رضا علیہ السلام کے میوزیم کو کچھ ہدیہ کروں گا۔
گرانقدر سکے ہدیہ کرنے والے شخص حسین محمودیان نے مزید کہا : آستان قدس رضوی تمام ایرانیوں کے لیۓ ایک مطمئن اور جانی پہچانی جگہ ہے جہاں پر قدیم زمانے کی اشیاء کو مکمل اطمینان کے ساتھ ہدیہ کیا جاسکتا ہے۔ میں نے بھی اسی لیۓ اس اس ادارے کا انتخاب کیا اور خدا کا شکر ہے کہ میں نے جو نیت کی تھی اس پر عمل کرتے ہوئے سن 2008 سے  سلطان محمود غزنوی کے دور حکومت کے سکّوں کو ہدیہ کرکے  اس میوزیم میں نوادارت کو ہدیہ کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ: ان تاریخی نوادرات کی تعداد جو میں نے اس میوزیم میں ہدیہ کیا ہے اس وقت چار ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔ میں نے زیادہ تر چیزیں ، اس طرح کی اشیاء کو جمع کرنے کا شوق رکھنے والوں یا پھر آثار قدیمہ کی کھدائی کرنے والوں یا پھر ان لوگوں سے خرید کر ہدیہ کیا ہے جن کے پاس اپنی خاندانی میراث کی نفیس چیزیں رکھی ہوئی تھیں ۔ اس میں سب سے زیادہ نفیس اور گرانقدر  چیز جو میں نے اب تک ہدیہ کی ہے وہ  زندیہ یا صفوی دور کا ایک بادشاہی جبّہ تھا جس پر بغیر تراش کے 76 ہیرے ،12 عدد سرخ یاقوت ، ایک عدد نیلا یاقوت اور ایک عدد خالص فیروزہ اور زمرّد لگے ہوئے تھے۔
 حسین محمودیان نےکہا کہ میں نے یہ سکّے اپنی والدہ رعنا رضاپور کی جانب  سے ہدیہ کیئے ہیں ۔ انہوں بتایا کہ : یہ کام شروع میں ، میں اکیلا ہی کرتا تھا لیکن کچھ عرصے بعد وقف کے مسئلے جیسے موضوعات  سامنے آئے اور ایک مذہبی  ماحول بن گیا اس کے علاوہ آستان قدس کی جانب سے میری جو عزت افزائی کی گئی اس سے میری والدہ ، بیوی اور بیٹی میں اس چیز کا شوق پیدا ہوا کہ اپنے سرمائے کو جو پیسے یا سونے کی شکل میں تھا اس کام کے لیۓ وقف کردیں ۔
تہران کے اس 47 سالہ شہری نے جو اس وقت تہران شہر کے ایک ثقافتی اور ہنری   ادارے کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں ، ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہ جن کے پاس قدیم زمانے کی قیمتی اشیاء ہیں ، کہا کہ گھر کے کسی محفوظ مقام یا تجوری وغیرہ میں ایسی اشیاء رکھنا صحیح نہیں ہوتا کیونکہ ان گرانقدر اشیاء کو گزند پہنچنے کا بہت زیادہ امکان رہتا ہے ۔ اس لیۓ آپ ایسی چیزوں کو ایسی جگہ پر رکھیں جو ہر طرح سے قابل اطمینان ہو اور دوسروں کو بھی اس کام کی طرف راغب کریں ۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس انتہائی نفیس اشیاء موجود ہیں لیکن  انہیں ان اشیاء کو میوزیم کو دینے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں ۔ انہوں نے  امید ظاہر کی کہ ہمارے ملک کے دیگر میوزیم ، بہت جلد آستان قدس جیسے ڈیجیٹل میوزیم بنائیں گے اور ڈیجیٹل طریقہ سے ان میوزیموں کو دیکھنے کا انتظام کریں گے تاکہ لوگوں میں  اپنی گرانقدر اشیاء میوزیم میں رکھنے کا شوق پیدا ہو۔ 
 

ماخذ :