واقعہ کربلا کا اہم ترین درس اللہ کی ذات پر بھروسہ اور اس سے امید رکھنا ہے ، خطیب حرم رضوی
منگل , 09/08/2020 - 11:03
واقعہ کربلا کا اہم ترین درس  اللہ کی ذات  پر بھروسہ اور اس  سے امید رکھنا ہے ، خطیب  حرم  رضوی
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کے خطیب نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ واقعہ کربلا میں ہر طرح کے مصائب اور مشکلات کے باوجود ، حضرت امام حسین علیہ السلام ایک لمحے کے لیے بھی خداوندعالم کی رحمت سے ناامید نہیں ہوئے، کہا کہ اللہ کی ذات سے امید رکھنا واقعہ کربلا کا سب سے اہم درس ہے

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین سید جعفر طباطبائی نے حرم مطہر رضوی کے خصوصی تبلیغی پروگرام میں کہ جو مسجد گوہرشاد کے ایوان مقصورہ سے آنلائن زائرین کے لئے نشر ہورہا تھا  خطاب کرتے ہوئے   کہا کہ سید الشہدا حضرت امام حسین   علیہ السلام کو اللہ کی ذات سے جو امید تھی وہ ان کے علم و آگہی اور خداوندعالم پر ان کے  ایمان کامل   کی وجہ سے تھی  ایسا ایمان و یقین  جو حضرت سید الشہدا کو میدان جنگ  تک لے آیا  اور اس پختہ ایمان نے جنگ کے اسباب و  وجوہات  کو  امام عالیمقام کے لئے اس طرح واضح کردیا تھا کہ   ایک دوپہر  میں  ٹوٹنے والا مصائب و آلام کا کوہ گراں بھی حضرت سید الشہدا کو  ان کے مقصد  سے سرمو بھی پیچھے  نہيں ہٹاسکا   
 حجت الاسلام جعفر طباطبائی نے اس بات کا  ذکرکرتے ہوئے  کہ حضرت امام حسین اور آپ کے باوفا اصحاب علیہم السلام کا مقصد، الہی تھا اور انہوں نے خداوندعالم  کی ذات  سے  امید و توکل کے ساتھ کربلا کا سفر کیا، کہا کہ  حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے اہل بیت نے کمال امید   اور اللہ کی ذات  پر مکمل بھروسے کے ساتھ کربلا اور عاشورا کے پیغام اور حسینی تحریک کو پوری دنیا تک پھیلایا۔
حرم مطہر کے خطیب حجۃ الاسلام طباطبائی نے   کہا  کہ رحمت الہی سے امید وابستہ رکھنا  تمام مشکلات  کا حل  ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ    آئمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت کی بنیاد ہر حال میں خداوندعالم   کی ذات سے سے امید رکھنا ہے، اور ان ذوات مقدسہ  کی امیدسے بھری زندگی کو اپنے لیے نمونہ بنانا انسان کے لیے تمام مشکلات  میں باعث سکون قرار پاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر انسان اپنی خلقت کا فلسفہ اور مقصد حیات  سمجھ لے  تو ہمیشہ اپنے ہدف و مقصد تک پہنچنے کی کوشش میں رہے گا اور کبھی بھی سختیوں اور مشکلات میں ناامید  یا  مایوس نہیں ہوگا ۔
حرم مطہر رضوی کے خطیب نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جو شخص  دو بنیادی ارکان  ایمان و تقوی   کا حامل ہو گا    وہ ہمیشہ زندگی کی مشکلات پر غالب رہے گا، کہا: ناامید انسان ہمیشہ زندگی بھر پریشان رہتا ہے اور زندگی کی  صحیح  راہ کو انتخاب کرنے میں ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے ۔
حجۃ الاسلام طباطبائی نے کہا کہ اولیاء الہی کی نگاہ تمام عالم ہستی پر امید اور توکل  کے ساتھ  رہا کرتی تھی  اس لیے کہ وہ ہر چیز پر خداوندعالم کی حکومت اور اس کو حاکم مانتے تھے  اور اس بات پر  ایمان  ویقین رکھتے تھے  کہ خداوندعالم کی رحمت و رافت کا  بحر بیکراں  ہر طالب   ہدایت اور تشنہ  معرفت  کو سیراب اور ہر پشیمان اورتوبہ کرنے والے شخص کو ہر طرح کے  گناہ سے   پاک کردے گا۔

 

ماخذ :