پیغمبر رحمت کی شان میں گستاخي کے خلاف احتجاجی اجتماع
جمعرات , 09/10/2020 - 20:26
   پیغمبر رحمت کی شان میں گستاخي کے خلاف احتجاجی اجتماع
پیغمبر رحمت حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ سلم کی شان اقدس میں گستاخی کے خلاف جمعہ کو حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں بڑا احتجاجی اجتماع منعقدہوا جس میں آزادی بیان کے نام پر شان رسالت میں گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئي ۔ احتجاجی اجتماع کے موقع پر آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام مروی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ آزادی بیان کے نام پر پیغمبراسلام کی شان میں گستاخی اور توہین رسالت، انتہائي درجے کی وحشيگری اور ذلیلانہ حرکت ہے۔ آستان قدس رضوی کے متولی نے مغربی ملکوں میں آزادی بیان کے دعویداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم حقیقت میں آزادی بیان پر یقین رکھتے ہو تو ہولو کاسٹ پر بھی بولو اور بولنے کی اجازت دو، کیوں ہولوکاسٹ کے بارے میں آزادی بیان پر عمل نہیں کرتے ۔

انہوں نے کہا کہ خداوندعالم نے فرمایا ہے کہ کچھ کافر اور گمراہ افراد نور الہی کو خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہيں لیکن یہ نور ہرگز خاموش نہیں ہوگا ۔ آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ پوری تاریخ میں خواہ وہ پیغمبراسلام کی حیات کا زمانہ رہا ہو یا ان کی رحلت کے بعد کے ادوار ہوں گمراہ،  منحرف اور کافر عناصر مختلف بہانوں اور طریقوں سے پیغمبرعظیم الشان کی نورانی شخصیت پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہيں لیکن ایسے عناصر خود اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالتے ہيں کیونکہ وعدہ الہی کے مطابق خداوندعالم اس نور کی حفاظت خود کرےگا۔ حجت الاسلام مروی نے فرانسیسی میگزین شارلی ایبدو کے ہتک آمیز اقدام کی مذمت کرتے  ہوئے کہا کہ فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ آزادی بیان کی وجہ سے ہم اس اقدام کی مذمت نہيں کرسکتے ۔آستان قدس رضوی کے متولی نے سوال کیا کہ یہ کون سی منطق ہے کہ آزادی بیان کے نام پر دنیا کے دو ارب سے زیادہ مسلمانوں کےمقدسات کی توہین کی جائے؟  انہوں نے کہا کہ یہ آزادی بیان نہيں بلکہ وحشیگری ہے  حجت الاسلام مروی  نے کہا کہ اگر تم آزادی بیان پر یقین رکھتے ہو تو ہولو کاسٹ پر بھی بات کرنے کی اجازت دو،  ایسا واقعہ جس پربحث کی بے پناہ گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونیوں نے دنیا کے سامنے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کےلئے ہولوکاسٹ جیسا جھوٹا واقعہ گڑھا ہے۔ حرم مطہر رضوی میں اس اجتماع میں شریک لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے  ایران کے حوزہ ہائے علمیہ کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے فرانسیسی جرید کے اقدام کو انتہائي شرمناک، غیرانسانی اور توحید کے منافی قراردیا اور کہا کہ پیغمبراسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلّم پوری بشریت کے لئے نمونہ کامل ہیں اور آغاز رسالت کے بعد سے ہی آنحضور کی شان میں گستاخی اور توہین کی جاتی رہی ہیں اور شارلی ایبدو میگزین کے اقدام نے ایک بار پھر عالم اسلام سے عالمی سامراج کی دشمنی کو نمایاں کردیا ہے  
 آيت اللہ اعرافی نے کہا کہ مسلمانوں  پر بزرگان دین کے بارے میں ذمہ داریاں ہیں اور یہ ذمہ داریاں اس وقت اور بڑھ جاتی ہیں جب پیغمبر اسلام اور دینی پیشواؤں کی شان میں گستاخی کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اور پیغمبراسلام کے سلسلے میں ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات اور مفاہیم کو در ک کریں ۔  اس اجتماع کے شرکا نے جس میں مشہد مقدس کے عوام کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ساتھ علما اور طلبا کی بہت بڑی تعداد شریک تھی اور حفظان صحت کے اصولوں کی پوری طرح پاسداری کی گئی تھی،  اللہ اکبر ؛ لا الہ الّااللہ ؛ محمد رسول اللہ ؛ امریکا مردہ باد جیسے نعرے لگا کر پیغمبر اسلام اور قرآن کریم کی شان میں توہین آمیز    اقدامات کی مذمت کی اور اس شرمناک اور غیرانسانی اقدام سلسلے میں   مغربی حکومتوں کے رویّے سے نفرت و بیزاری کا اعلان کیا ۔
 

ماخذ :