قرآن نے صابر قوموں کو فتح اور کامیابی کا وعدہ دیا ہے؛حجت الاسلام والمسلمین مروی
ہفتہ , 10/17/2020 - 8:51
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے’’اگر صبر کروگے اور تقوا اختیار کرو گے تو دشمن کا مکروفریب ہرگز تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘کہا کہ قرآن نے صابر وثابت قدم قوموں کو کامیابی اور فتح کا و عدہ دیا ہے ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی شب شہادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مجلس خطبہ خوانی میں جسے حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے لئے نہایت محدود پیمانے پر   منعقد کیا گیا تھا خطاب کرتے ہوئے پیغمبر عظیم الشان اسلام حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی رحلت  ، حضرت امام حسن مجتبیٰ(ع) اور حضرت امام علی رضا(ع) کی شہادت  کے ایام  کی مناسبت سے تعزیت   پیش کی اور حضرت امام صادق علیہ السلام کی ایک روایت جسے حضرت امام موسیٰ کاظم سے نقل کیا گیا  ہے  بیان   کی  اور  کہا کہ "خود حضرت امام صادق علیہ السلام جو کہ علم و دانش کی بلندیوں پر فائز تھے اور دشمن آپ کے علمی مقام و منزلت کے سامنے سر تسلیم خم کیا کرتے تھے  چنانچہ  ’’ابن ابی العوجاء‘‘ جو کہ اسلام کے خلاف تبلیغ میں ایک  گستاخ متکلم  تھا ؛ وہ  بھی حضرت امام صادق علیہ السلام کی عظمت میں کہتا ہے : ’’آپ علم وحکمت کے خدا ہیں‘‘   تو وہ  امام    صادق علیہ السلام اپنے فرزند حضرت امام موسیٰ کاظم(ع) سے فرماتے ہیں :’’ آپ کے صلب میں عالم آل محمد کا نور ہے اور اے کاش میں اس وقت ہوتا‘‘ حجت الاسلام مروی نے کہا  کہ یہ حدیث جو کہ امام علی رضا علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوئی ہے   اس سے  امام رضا علیہ السلام کے علمی مقام و مرتبہ کا پتہ چلتا ہے۔
 آستان قدس کے متولی  نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے بلند وبالا مقام کے متعلق آئمہ معصومین (ع) کی متعدد   روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی  زیارت کے ثواب میں  کے بارے میں روایت ہے کہ ’’ جو بھی امام رضا(ع) کی زیارت کرے گا  وہ   اس شخص کی مانند ہے جس نے عرش پر خداوند متعال کی زیارت کی ہو‘‘؛ ہمیں خداوند متعال کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ہمارے پاس  ایسے    بے مثال امام ، رہبر اور پیشوا   ہیں۔  انہوں نے  کہا ہمیں چاہئے کہ خداوند متعال کی ان حجتوں اور بزرگ شخصیات کی ہدایات اور ان کے گہر بار فرامین کو اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں عملی جامہ پہنائیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات پر زور دیا  کہ  بشریت کے لئے آئمہ اطہار علیہم السلام بہترین آئیڈئل اور نمونہ   عمل ہیں، انہوں نے کہا کہ خدا کی خوشنوی پانے کے لئے آئمہ اطہار علیہم السلام بہترین رہبر و راہنما ہیں اور وہ ہمیشہ امر الہی پر ثابت قدم   رہے  ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں اسلام میں صبر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’مومن ؛ مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس میں تین صفات نہ پائی جائیں؛پروردگار کی صفت،پیغمبر(ص) کی صفت اور اولیا ئے  خدا کی صفت؛ اولیا ئے  خدا اور آئمہ معصومین (ع) کی صفت یہ تھی آپ سختیوں اور مشکلات میں صبر کرتے تھے‘‘۔
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے اس بات کا ذکر کرتے  ہوئے  کہ امامت کا محور و مرکز صبر ہے کہا کہ خداوند متعال سورہ سجدہ کی ۲۴ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے کہ آئمہ اطہار(ع) صبر کے ذریعہ امامت کے بلند وبالا مقام پر پہنچے، صبر انسان کو اس مقام پر پہنچانے کی کلید اور رمز ہے جہاں پوری کائنات اس کے قبضہ قدرت میں ہوتی ہے ۔
 آستان قدس رضو ی کے متولی  نے صبر کے مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام نفسانی خواہشات پر صبرکرنا ،دنیا کی تمام زیبائیوں اور خوبصورتیوں پر صبرکرنا ،حتی عالم برزخ میں صبر،قیامت و بہشت میں جہاں فقط خدا کا ہی جلودہ دکھائی دیتا ہے یہ سب  کے سب  صبر کے ہی    مراحل ہیں۔ قرآنی آیات کی بنا پر صابر وہ شخص ہے جو ان تمام مرحلوں سے گزر کر ایسے مرحلے پر پہنچ جاتا ہے کہ جس میں بہشت بھی اس کے لئے کوئی خاص جلوہ نہیں رکھتی اسی لئے امیرالمومنین علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :’’ اے میرے پروردگار بالفرض   میں تیرے عذاب پر تو صبر کر سکتا ہوں لیکن تجھ سے دوری کو کیسے برداشت کروں گا ؟‘‘۔
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے   کہا کہ علامہ امینی(رح) فرماتے ہیں کہ ’’ امیرالمومنین(ع) کی شجاعت، وطاقت اور میدان   جنگ  کا فاتح ہونا معجزہ نہیں ہے،علی (ع) کی عظمت کا نہ تو  فتح خیبر میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے   اور نہ ہی احد کی استقامت میں  ان کی مکمل عظمت  ہمارے سامنے ظاہر  ہوتی ہے  بلکہ علی(ع) کی  طاقت  و شجاعت واستقامت  کو ۲۵ سال کی خاموشی میں دیکھا  جانا چاہئے  ۔‘‘ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اسلام کی حفاظت و بقا کے لئے اپنے حق سے دستبردار  ہوجاتے ہیں    اور صبر کرتے ہیں لیکن جہاں پر حق الناس اور حق اللہ کو پائمال کیا جاتا ہے وہاں حضرت علی علیہ السلام پوری طاقت سے دفاع کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے  کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام کے صبر کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ حکمرانوں اور عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے؛ کہا کہ خدا اور اسلام کی حفاظت و بقا کے لئے صبر نے حضرت علی علیہ السلام کو ایسے مقام پر پہنچا دیا کہ جبرائیل (ع) اور اللہ کے دوسرے فرشتے آپ کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے تھے۔
آستان قدس رضوی کے متولی کا کہنا تھا کہ تمام آئمہ معصومین علیہم السلام قرآنی صبر کے مصداق کامل تھے ، حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام عاشور کے دن ان سخت حالات و مشکلات میں فرماتے ہیں’’ صبرا علی قضائک لااله سواک یا غیاث المستغیثین‘‘؛ حضرت امام علی رضا(ع) مامون کے فریب  ونیرنگیوں   پر جو کہ یزیدی ظلم و تشدد  سے کم نہيں تھیں     بلکہ    زیادہ خطرناک تھیں  صبر و حوصلہ کے ساتھ ان مکاریوں اور نیرنگیوں  کامقابلہ کیا    اور مامون کے مذموم منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ 
انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ حضرات معصومین علیہم السلام کی ۲۵۰ سالہ زندگی میں اہم ترین عنصر صبر تھا ؛ کہا کہ ہم اگر امامت کی راہ پر چل کر روح ایمان حاصل کرنا چاہتے ہیں  تو  اس کی  اصلی شرط صبر ہے ۔ صبر یعنی نفسانیات کا مقابلہ کرنا اور  خواہشات کے خلاف استقامت سے کام لینا ہے  
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے کہا کہ صبر کا مطلب یہ ہے اگر تمام قومیں اور حکومتیں وقت کے فرعون کے سامنے سرجھکا کر ہتھیار ڈال دیں ؛ پھر بھی سرفراز وسربلند اور صابر قوم ہرگز طاغوت کے مدّمقابل ذلیل و خوار ہونا قبول نہ کرے ۔ صبر کا مطلب بے حس ہو جانا،اپنے آپ کو تنہا کرلینا اور ہر طرح  کی  و ذلت ورسوائی  کو قبول کر لینا نہیں ہے۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ قرآن میں فتح کا وعدہ صابر قوموں کے لئے ہے ،خداوندمتعال سورہ آل عمران میں ارشاد فرماتا ہے ’’ اگر صبر کروگے اور تقوا اختیار کروگے تو دشمنوں کا مکروفریب ہرگز تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘۔
 

ماخذ :