آستان قدس رضوی کی دلچسپ تاریخ کا مختصر جائزہ
اتوار , 11/15/2020 - 14:54
آستان قدس رضوی کی دلچسپ تاریخ  کا مختصر جائزہ
صفوی دور میں تشکیل دی گئی آستان قدس رضوی کی انتظامیہ میں موجود اسناد و دستاویزات کا مجموعہ ایران کے انتہائی قدیمی آرکائیو میں شمار ہوتا ہے ۔ ان اسناد و دستاویزات میں جو دلچسپ اطلاعات معلومات موجود ہیں ان میں ایران و افغانستان خاص طور پر خراسان کے علاقوں کی مذہبی، سیاسی سماجی، اقتصادی اور ثقافتی امور سے متعلق تفصیلات بیان کی گئی ہيں ۔ آستان قدس رضوی کی اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈيشن کے رکن رضا نقدی نے حال ہی میں اپنی ایک تحقیق پیش کی ہے جس کا موضوع ہے"قاچاری دور میں آستان قدس رضوی کی تشکیل اور مجموعی تاریخ"۔ یہ تحقیق دلچسپ معلوماتی نکات سے مملو اور پڑھنے کے لائق ہے۔ ان محترم محقق سے مختصر گفتگو میں حرم مطہر امام رضا علیہ السلام کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے جو قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔

حرم کے انتطام و انصرام میں طوس کے سادات کا کردار
رضا نقدی نے آستان قدس رضوی کی تشکیل کی تاریخ کے بارے میں بتایا کہ اس کا آغاز حضرت امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا لیکن شاہ طہماسپ صفوی کے دور میں اسے رسمی حیثیت دی گئی۔ اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ "حسین بن علی بن صاعد بربری" حرم مطہر امام رضا (ع) کے سب سے پہلے خادم تھے اور یہ امام رضا (ع) کی والدہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
امام رضا علیہ السلام کی زندگی اور ان کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والےمحقق رضا نقدی نے کہا کہ ہارون الرشید، جو عباسی دور حکومت کا سب سے بڑا خلیفہ تھا، اس کی قبر حضرت امام رضا (ع) کی قبر مطہر کے نزدیک تھی، اسی لئے ہارون الرشید کے افراد اور امام کے چاہنے والوں کے درمیان اس مقام پر ہمیشہ ایک طرح سے رقابت رہتی تھی  مگر رفتہ رفتہ مزار امام رضا (ع) کے گرد بہت زیادہ شیعہ جمع ہوگئے اور حضرت (‏ع) کے مزار کے اطراف و اکناف میں سکونت پذیر ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ چوتھی صدی ہجری میں جب سامانیان کا دور حکومت تھا، حرم کی توسیع ہوئی اور اسی دور میں موسوی سادات نے، جو حمزہ بن موسی الکاظم  (ع) کی نسل سے تھے،  امام رضا (ع) کے حرم مطہر کی دیکھ بھال اور طوس کے علاقے کے سادات کی سرپرستی اپنے ہاتھ میں لے لی۔ یہ انتظام ان کے ہاتھ میں تیموری دور کے آخر تک رہا اور انہوں نے حرم اور اس کی اشیاء کے انتظام اور حفاظت اور بارگاہ امام رضا (ع) کی توسیع میں قابل قدر کام کئے۔
سلجوقی دور اور اس کے بعد خوارزم شاہی دور میں بھی حرم کی طرف خاص توجہ دی گئی ۔ اس زمانے کی بے حد نفیس کاشی کاری یا ٹائلوں کا کام اس بات کے گواہ ہیں۔ ان سب کے باوجود، بدقسمتی سے اس دورمیں حرم کے انتظامی امور کی تشکیل کے سلسلے کی اسناد بہت کم دستیاب ہیں۔

تیموری دور میں بڑے پیمانے پر حرم کی توسیع کا عمل
محقق نقدی کہتے ہیں کہ عباسیوں کے زوال کے بعد حرم مطہر رضوی پر زیادہ توجہ دی گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ تیموری دور حکومت میں حرم مطہر کی توسیع کا کام اور بڑھا اور تیموری بادشاہ شاہرخ کے زمانے میں مشہد شہر، سمرقند اور ہرات کے بعد خراسان کا تیسرا بڑا شہر بن گیا۔ اس زمانے سے زائرین کی تعداد میں روز افزوں اضافے کی بنا پر، حرم میں مزید تعمیرات اور حرم کے انتظامی معاملات کی توسیع کا کام اورزیادہ کردیا گیا  اس دور کی جن نئی تعمیرات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے، ان میں "مسجد گوہر شاد"، "دو دروالا مدرسہ" ، مدرسہ "پریزاد" و "شاہرخی" اور اسی طرح صحن عتیق وغیرہ ہیں۔ ان کی تعمیرات میں سلطان حسین بایقرا کے وزیر اور مشاور، امیر علی شیر نوائی کا نمایاں کردار رہا ہے
محقق نقدی  نے بتایا کہ شاہ اسماعیل صفوی کے زمانے میں ایران میں تشیّع کو سرکاری مذہب قرار دئے جانے کے بعد حرم کو ایک شیعی مرکز یا فوکل پوائنٹ کے طور پر مان لیا گیا تھا۔ موجودہ حرم کی زیادہ تر عمارات کا تعلق صفوی دور حکومت سے ہے  اور اسی دور سے امام رضا (ع) کی نورانی بارگاہ کو جہان اسلام کے مقدس مقامات کا درجہ حاصل ہوچکا تھا۔ یہاں کا مرکز خیریہ اسی زمانے سے سب سے زیادہ موقوفات کا حامل تھا۔ اسی دور میں حرم کے اطراف میں بے شمار مدرسے، مساجد اور رفاہی مراکز بھی تعمیر کئے گئے۔ محقق نقدی نے یہ بھی بتایا کہ صفوی بادشاہ، شاہ طہماسپ اول کے حکم پرحرم کے لئے بڑے پیمانے پر انتظامی اور مالی ادارہ تشکیل دیا گیا جس کے سربراہ کے طور پر خود شاہ کے بعد متولی کو قرار دیا گیا تھا۔ موقوفات اور مالی امور خود شاہ کے اختیار میں تھے، پھر اس کے زیر نظردوسرے صاحبان منصب (مستوفی اور ناظر وغیرہ) مالی امور کی نگرانی کرتے تھے۔ دوسرے رفاہی مراکز میں دارالشفاء، مہمان سرا اور شربت خانہ، سقاخانہ، روشنی کے انتظامات کا مرکز، عصار خانہ یا روغن نکالنے کا مرکز، کتابخانہ یا لائبریری اور کرکراق خانہ یا لباس تقسیم کرنے کے مراکز شامل تھے۔ خدام، فراش ، دربان اور حفاظ کا بھی ایک ادارہ ہوا کرتا تھا جہاں سے دن اور رات کے مختلف اوقات میں ان لوگوں کو ڈیوٹی پر خدمت کرنے کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ ان تمام اداروں کے مالی اور انتظامی امور بھی متعلقہ اداروں کے تحت انجام دئے جاتے تھے۔

 

ماخذ :