مظلوموں کے دفاع میں شہید سلیمانی کے کارنامے امام رضا کے سچے خادم ہونے کا ثبوت ہيں ، متولی آستان قدس
جمعہ , 01/01/2021 - 21:00
 مظلوموں کے دفاع میں شہید سلیمانی کے کارنامے امام رضا کے سچے خادم   ہونے کا ثبوت  ہيں  ، متولی آستان قدس
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شہید قاسم سلیمانی کو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کا خادم ہونے کا شرف حاصل تھا ؛ کہا کہ شام اور لبنان میں ان کی موجودگی اور داعش دہشت گردوں ،ظالموں اورجابروں کے خلاف جنگ اور مظلوموں کےدفاع میں ان کے کارنامے امام رضا علیہ السلام کے سچے خادم ہونے کو ثابت کرتے ہیں حجت الاسلام مروی نے کہا کہ اسی لئے قاسم سلیمانی کی شہادت کی برسی کی مناسبت سے سوگ کے طور پر حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے حرم کے گنبد پر سیاہ پرچم نصب کردیا گيا ہے

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی برسی کی مناسبت سے  اپنے  ایک خطاب میں    سورہ احزاب کی ۲۳ ویں آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے’’ مِنَ المُؤمِنينَ رِجالٌ صَدَقوا ما عاهَدُوا اللَّهَ عَلَيهِ فَمِنهُم مَن قَضى نَحبَهُ وَمِنهُم مَن يَنتَظِرُ وَما بَدَّلوا تَبديلًا‘‘ کہا کہ یہ آیت شریفہ جو پیغام دے رہی ہے وہ یہ ہے کہ اگر خداوند متعال کے ساتھ سچا وعدہ کیا جائے تو کامیابی اور فتح یقینی ہوگی اور یہی اللہ کا وعدہ ہے۔ شہید قاسم سلیمانی اسی آیت کےمصداق تھے انہوں نے خدا کے ساتھ سچا وعدہ کیا کہ ظالموں اور جابروں کے مدّ مقابل مظلوموں کا دفاع کریں گے چنانچہ وہ  اللہ کی نصرت اور مدد سے کامیاب ہوئے۔
 آستان قدس کے متولی  نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نے نہ صرف خطے کی اقوام کو بیدار کیا بلکہ پوری دنیا کے مظلوموں کو بیدار کیا ، جس طرح بنی امیہ یہ سمجھتے تھے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے حقیقی اسلام کا بھی خاتمہ ہو جائے گا      اسی طرح  آج کے اموی بھی جن میں سر فہرست امریکہ اورخطے کے پست اور خبیث قارون ہيں    یہی سمجھتے تھے کہ     قاسم سلیمانی کی شہادت سے ان کا نام ختم ہو جائے گا لیکن اس کے برعکس شہید قاسم سلیمانی کا نام دن بدن خطے کے تمام ممالک اور پوری دنیا کے مظلوموں میں پہلے سے زیادہ   روشن  ہوتا جارہا  ہے  گا کیونکہ وہ  حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کے مکتب کے پیرو  اور شاگرد تھے۔
شہید قاسم سلیمانی طاغوت و استکبار کے خلاف جہاد کی عالمی علامت
حجت الاسلام مروی  نے استقامتی محاذ پر داعش اور ان کے حامیوں کی    شکست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ داعش فقط ایک وحشی دہشتگرد گروہ  نہیں تھا بلکہ مالی اورتشہیراتی لحاظ   سے داعش کے پاس وسیع اور بہت مضبوط پشت پناہی تھی مالی لحاظ سے خطے کے قارونوں کا تیل اور تشہیراتی لحاظ   سے امریکہ اور صہیونیت اس دہشتگرد گروہ کی حامی تھی لیکن الحمد للہ رہبر  انقلاب اسلامی کی رہنمائی میں  شہید قاسم سلیمانی کے عملی اقدامات کی وجہ سے کم ترین وسائل   کے باوجود استقامتی محاذ کو فتح نصیب ہوئی اور باطل کے مقابلےمیں حق کی مدد و نصرت   کا یہی الہی وعدہ ہے  ۔
حجت الاسلام مروی نے شہید قاسم سلیمانی کو امریکہ و استکبار کے خلاف جہاد کی عالمی علامت قراردیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم عصری تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو ہم فیڈل کاسٹرو جیسے افراد کو دیکھ سکتے ہیں جو امریکہ کے خلاف   جدو جہد کی علامت بن کر سامنے آئے لیکن شہید قاسم سلیمانی کی شخصیت اور کردار  نے ان سب کو پیچھے چھوڑ دیا  ۔   فیڈ ل کاسٹرو جیسے لوگ فقط  ایک محدود خطے تک  جدو جہد کرتے رہے لیکن شہید قاسم سلیمانی نے ظالموں اور جابروں کے خلاف جہاد کو فقط ایران تک محدود نہ رکھا بلکہ اس جہاد کو پوری دنیا میں پھیلایا۔
انہوں نے شہید قاسم سلیمانی کے بارے میں رہبرمعظم انقلاب  اسلامی کے ایک قول کو ذکر کرتے ہوئے کہ :’’ شہید سلیمانی ایک مکتب ہے‘‘ کہا کہ شہید قاسم سلیمانی کو صرف  ایک کامیاب فوجی کمانڈر یا ایک شخصیت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ شہید قاسم  سلیمانی ایک مکتب،ایک دائمی  فکر اور ایک درسگاہ  کانام ہے وہ  ایک اعلی فوجی کمانڈر سے بالاتر تھے شہید سلیمانی عالمی سامراج کے خلاف جہاد کی علامت ہیں اور یہ چیز آپ کی شہادت سے ثابت ہوگئی۔ 
 آستان قدس رضوی کے متولی نے   اس عظیم کمانڈر کی بعض صفات کا ذکر کیا جن میں ’’اخلاص‘‘،’’ولایت مداری‘‘، مختلف  صفات اور پہلوؤں کی حامل  شخصیت  ’’کسی بھی تنظیم سے بالاتر انقلابی سوچ کے حامل‘‘ اور اخلاقی و شرعی حدوں کی پابندی وغیرہ وہ جملہ خصوصیات ہیں  جو شہید سلیمانی کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ انہوں نے لوگوں کے دلوں میں شہید کی  مقبولیت کی جڑ اخلاص کو  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید سلیمانی میڈیا اور تقاریر  میں کمتر دکھائی دینے   اور طاغوتی میڈیا کی جانب سے آپ کے خلاف پروپگینڈوں کے باوجود لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام بناچکے تھے ۔ اس لئے شہید قاسم سلیمانی کےجلوس  جنازہ میں کروڑوں افراد کی شرکت بہت سارے افراد کے لئے  غیر متوقع اور حیران کن تھی   ۔ 
انہوں نے شہید قاسم سلیمانی کی دوسری نمایاں خصوصیت کو ولایت  کا سچا پیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی کی کامیابی کا راز ولایت کا مخلص پیروہونا تھا اگرچہ شہید قاسم سلیمانی خود ممتاز صاحب نظر،ممتاز مفکر اور ممتاز تجزیہ کار خاص طور پرفوجی معاملات میں ماہر تھے ان تمام چیزوں کے باوجود آپ رہبر معظم انقلاب اسلامی کے مطیع محض تھے اور ہمیشہ ولایت کے راستے پر حرکت کرتے تھے شہید قاسم سلیمانی کا محکم ایمان ہی  آپ کے نہ تھکنے کی وجہ تھی اور  خداوند متعال نے انہیں ایسی قوت و طاقت سے نوازا تھا کہ ہر میدان میں فعال نظر آتے تھے۔
شہید قاسم سلیمانی زیادہ سے زیادہ افراد کو جذب کرنے والی مثالی شخصیت
آستان قدس رضوی کے متولی نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے اس بیان کا ذکرکرتے ہوئے جس میں وہ  زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی طرف جذب اور کم سے کم افراد کو اپنے سے دور کرنے پر تاکید کرتے   ہیں کہا کہ شہید قاسم سلیمانی  رہبر معظم انقلاب اسلامی کے اس فرمان کے واضح مصداق تھے انہوں نے کہا کہ نئی نسل میں وہ افراد اورنو جوان جو ظاہری طور پر دینی و معاشرتی مسائل کی رعایت بھی  نہیں کرتے ان کے بارے میں بھی شہید قاسم سلیمانی رافت و مہربانی اور ایک شفیق باپ کی نظر رکھتے تھے ان افراد کے بارے میں آپ کہتے تھے کہ یہ ہمارے فرزند ہیں ، ہمارے بہن بھائی ہیں ، رہبر  انقلاب  اسلامی کے اس فرمان کو مدّ نظر   رکھتے ہوئے شہید اس طرح کی ادبیات اور الفاظ کا استعمال کرتے تھے ۔ 
انہوں نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی متعد د پہلوؤں کی حامل شخصیت  تھے یہ  شہید والا مقام جب ظالموں کے مقابلے میں ہوتے  تھے بجلی بن کر ان پرگرتے تھے    اور جب شہداء کے گھر والوں سے ملنے جاتے تو شفقت اوررافت سے شہد اء کے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور جب ایران میں سیلاب آیا تب آپ سیلاب زدہ افراد کی مدد کے لئے فورا وہاں بھی پہنچ گئے 
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے شہید قاسم سلیمانی کے اندر پائی جانے والی انکساری  اور  عوام کی خدمت کے جذبے کو نمایاں قرار دیتے ہوئے  کہا کہ شہید سلیمانی ایک فوجی کمانڈر ہونے کے باوجود لوگوں کے ساتھ میل جول کے دوران بہت زیادہ محبت سے پیش آتے اور مقام و منصب ہونے کے باوجود اپنے لئے کسی مقام کے قائل نہیں تھے ذرہ برابر  بھی تکبر نہیں رکھتے تھے جب بھی شہیدوں کا ذکر ہوتا آنکھوں سے اشک جاری ہوجاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید قاسم سلیمانی ایک انقلابی سیاست داں تھے جو امام  خمینی (رح) اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بتائے ہوئے اصولوں کے پابند تھے   ۔
حضرت امام علی رضا (ع) کے حرم مطہر کے ممتاز خادم
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا  کہ شہید سلیمانی جب ظالموں کے خلاف    میدان جنگ میں بھی ہوتے تب بھی ہرگز اخلاقی وشرعی حدود سے تجاوز نہیں کرتے تھے حتی میدان جنگ میں بھی ان چیزوں کی  پابندی  کرتے۔
 حجت الاسلام والمسلمین مروی نے شہید قاسم سلیمانی کو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا ایک سچا خادم قراردیتے  ہوئے کہا  کہ انہوں  نے یہ واضح کر دیا کہ حرم مطہر رضوی کی خدمت فقط حرم کی حد تک نہیں ہے یہ بلند مرتبہ شہید جب شام میں تھا تب بھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا خدمتگزار تھا