حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےفضائل کے بعض نمایاں پہلو
اتوار , 01/31/2021 - 20:28
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےفضائل کے بعض نمایاں پہلو
حضرت فاطمہ زہرا (علیہاالسلام)، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور حضرت خدیجة الکبری (سلام اللہ علیہا) کی بیٹی ہیں اور زہرا ، صدیقہ، طاہرہ، مبارکہ، زکیہ، راضیہ، محدثہ اور بتول آپ کے القاب ہیں۔

حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کی پرورش آغوش رسالت  اور خانہ نبوت میں ہوئی ، یہ وہ گھرانہ ہے جس میں وحی اور آیات قرآنی نازل ہوتی تھیں۔
جس وقت مکہ میں مسلمانوں کا سب سے پہلا گروہ خدائے وحدہ لاشریک کی وحدانیت پر ایمان لایا  ، اس وقت پور ے عرب اور پوری دنیا میں یہ تنہا ایسا گھرتھا جہاں سے ” اللہ اکبر“ کی آواز بلند ہوئی ۔ اور حضرت زہرا (س) مکہ کی سب سے کمسن بچی تھیں جو اپنے گرد وپیش توحید و رسالت کا   ایسا  جوش و خروش دیکھ رہی تھیں 
  حضرت زہرا سلام اللہ علیھا، امیر المومنین  حضرت علی (علیہ السلام) سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد پوری دنیا میں ایک مثالی زوجہ   کی حیثیت سے افق عالم پرنمودار ہوئيں ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی دختر گرامی جس طرح سے ازدوا جی زندگی میں  دنیا کی ساری عورتوں کے لئے  نمونہ اور اسوہ   تھیں اسی طرح اپنے پروردگار کی اطاعت میں بھی سب کے لئے نمونہ عمل تھیں ۔
روایتوں میں ملتا ہے کہ جب آپ گھر کے کاموں سے فارغ ہوتی تھیں تو عبادت میں مشغول ہوجاتی تھیں، نمازادا کرتیں، دعا ومناجات میں مشغول رہتیں   ،خداکی بارگاہ میں راز ونیاز کرتیں اور دوسروں کے لئے دعائیں کرتی تھیں، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  اپنے جد امجد حضرت امام حسن بن علی  علیہ السلام  سے روایت نقل کرتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ  میری والدہ گرامی شب جمعہ کو صبح تک محراب عبادت میں کھڑی رہتی تھیں اور جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتیں تو باایمان مردوں اور عورتوں کے لئے ہی  دعا کرتیں، خدا سے  اپنے لئے کچھ بھی نہ مانگتیں  ، چنانچہ ایک روز میں نے سوال کیا: اماں جان ! آپ دوسروں کی طرح اپنے لئے کیوں دعا نہيں کرتیں؟ تومیری مادر گرامی نے فرمایا : میرے لال    ! پڑوسیوں کا حق پہلے ہے ۔ وہ تسبیح جو حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کے نام سے مشہور ہے ، شیعہ اور اہل سنت کی مشہور ، معتبر کتابوں اور دوسری اسناد میں موجود ہے اورسب کے نزدیک مشہور ہے ۔
حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کا علم
حضرت فاطمہ (علیہاالسلام) نے شروع ہی سے وحی الہی کے سرچشمہ سے سیراب ہوئيں ، جن اسرار و رموز کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) حضرت فاطمہ زہرا (س) کے لئے بیان فرماتے تھے حضرت علی علیہ السلام ان کو تحریر فرماتے اور حضرت فاطمہ (س) ان کو جمع فرماتیں جو مصحف فاطمہ کے نام سے ایک کتاب کی شکل میں جمع ہوگئی ۔

دوسروں کو تعلیم دینا

حضرت فاطمہ (علیہا السلام) فقہی مسائل اوراسلامی تعلیمات کے ذریعہ عورتوں کو ان کی ذمہ داری سے آشنا کراتیں اور قرآنی علوم کی تعلیمات دیتیں   یہاں تک کہ آپ کی کنیز فضہ بیس سال تک قرآن کی زبان میں کلام کرتی رہیں اور جب بھی وہ کوئی بات کہنا چاہتیں تو قرآن کی آیت کے ذریعہ اپنی بات کو بیان کرتیں۔
 ایک روز ایک عورت  آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میری والدہ بہت بوڑھی ہیں اور ان سے نماز میں غلطی ہوگئی ہے انہوں نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے مسئلہ معلوم کروں۔ حضرت فاطمہ زہرا (س) نے اس کے سوال کا جواب دے دیا ، وہ خاتون دوسری اورتیسری مرتبہ پھر سوال کرنے آئی اور اپنا جواب سن کر چلی گئی اس نے تقریبا دس مرتبہ یہ کام انجام دیا اور ہر مرتبہ آپ نے اس کے سوال کا جواب دیا،وہ خاتون بار بار کی رفت و آمد سے شرمندہ ہوگئی اور کہنے لگی: اب میں آپ کو زحمت نہیں دوں گی ،حضرت فاطمہ (علیہا السلام) نے فرمایا: تم پھر آنا اور اپنے سوالوں کے جواب معلوم کرنا تم جس قدر بھی سوال کروگی میں ناراض نہیں ہوؤں گی ،کیونکہ میں نے اپنے پدر بزرگوار رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے : قیامت کے روز ہمارے بعد علماء  محشور ہوں گے اور ان کو ان کے علم کے مطابق قیمتی لباس عطاکیے جائیں گے اور ان کا  ثواب اس قدر ہوگا جس قدر انہوں نے بندگان الہی کی ہدایت  و رہنمائی میں کوشش کی ہوگی ۔

شہزادی کونین کی عبادت 

حضرت زہرا (علیہا السلام)رات کے کئی پہر عبادت میں مشغول رہتی تھیں، آپ کی نماز شب اس قدرطولانی ہوجاتی تھی کہ آپ کے پائے  اقدس متورم ہوجاتے تھے ۔ حسن بصری (متوفی ۱۱۰) کہتے ہیں کہ : اس امت میں کوئی بھی زہد و عبادت اور تقوی میں حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) سے زیادہ نہیں تھا ۔

آپ کا بابرکت گلوبند

ایک روز پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور اصحاب آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے تھے ، ایک بوڑھا شخص پھٹے پرانے لباس میں مسجد میں داخل ہوا وہ اس قدر کمزور ولاغر تھا کہ اس میں چلنے کی بھی سکت  نہیں تھی ، پیغمبر اکرم   اس کے پاس گئے اور اس کی خیریت دریافت کی اس شخص نے جواب دیا: یا رسو ل اللہ! میں ایک پریشاں حال فقیر ہوں، بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلادیجئے ، بے لباس ہوں   لباس عطا کردیجئے ، لاچار ہوں میری مشکل کو حل کردیجئے ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ) نے فرمایا: اس وقت تو  میرے پاس مال دنیا میں کچھ نہیں ہے” لیکن خیرکی طرف راہنمائی کرنا خیرکرنے کی ہی طرح ہے “ پھر آپ نے  اس کو  حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے گھرکا پتہ بتادیا اور کہا کہ جاؤ اس در سے تمہیں کچھ نہ کچھ ضرور مل جائے گا   ۔
اس بوڑھے آدمی نے مسجد اور حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کے گھر کا فاصلہ طے کیا اور اپنی حاجت کو  شہزادی کونین  سے بیان کیا ۔ حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) نے فرمایا: ہمارے گھر میں بھی اس وقت کچھ نہیں ہے پھر آپ نے اپنا وہ گلوبند جوجناب حمزہ بن عبدالمطلب کی بیٹی نے آپ کو ہدیہ کیا تھا اپنے گلے سے اتارا  اور اس بوڑھے فقیر کو دے دیا اور فرمایا: اس کو فروخت کردینا انشاء اللہ تمہاری حاجت پوری ہوجائے گی ، وہ بوڑھا فقیر دوبارہ مسجد میں آیا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اسی طرح اصحاب کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) حضرت فاطمہ (علیہا السلام) نے یہ گلوبند مجھے عطا کیا ہے تاکہ میں اس کو بیچ کر اپنی حاجت کو پورا کروں ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآ لہ) نے گریہ فرمایا، عمار یاسر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس گلوبند کو خرید لوں؟ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ) نے فرمایا: جو بھی اس کو خریدے گا خداوندعالم اس کو عذاب سے محفوظ رکھے گا ۔
عمار یاسرنے اس مرد فقیر سے پوچھا : اس گلوبند کو کتنے میں فروخت کرو گے؟ اس فقیرشخص نے کہا: بس اتنی روٹی اور گوشت کے عوض جس سے میرا پیٹ بھر جائے، ایسے لباس کے بدلے جس سے میرا جسم ڈھک جائے اور ایک دینار کے عوض جس سے میں گھرتک پہنچ جاؤں ۔ جناب عماریاسر نے کہا: میں اس ہار کو سونے کے بیس دینار، کھانے ، لباس اور ایک سواری کے عوض تجھ سے خریدنا چاہتا ہوں، عمار اس فقیر کو اپنے گھر لے گئے اس کو کھانا کھلایا، لباس دیا  ، سواری دی اور سونے کے بیس دینار دئیے، پھر اس ہار کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اپنے غلام سے کہا: اس کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ) کی خدمت میں لے جاؤاور انہيں دے دو ، میں نے تمہیں بھی پیغمبر کی ہی غلامی میں دے دیا ۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے بھی اس غلام اور گلوبند کو حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کو بخش دیا، غلام حضرت فاطمہ کے گھر پہنچا ، آپ نے اس سے گلوبند کو لے لیا اور غلام سے فرمایا: میں نے تجھے خدا کی راہ میں آزاد کردیا، غلام ہنسا، شہزادی نے اس سے ہنسنے کا سبب دریافت کیا ، اس نے جواب دیا: اے بنت رسول  اس گلوبند کی برکت پر مجھے ہنسی آگئی کہ اس ہار نے ایک بھوکے کو کھانا کھلادیا، ایک  بے لباس  کو کپڑے پہنادیا    فقیر کو غنی بنادیا  ، پیدل چلنے والے کو سواری عطا مہیا کرادی  ، غلام کو آزاد کرادیا اور آخر کار پھر اپنے مالک کے پاس واپس آگیا ۔
حضرت زہرا (علیہا السلام) اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی زندگی کے آخری لمحات
 پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی حیات کے آخری ایام میں جب بیماری نے شدت اختیار کرلی تھی ، شہزادی کونین اپنے بابا  کے بستر کے پاس کھڑی ہوئی آپ کے نورانی چہرہ کو بغور دیکھ رہی تھیں، آںحضور کے چہرہ پر بخار کی تپش سے پسینہ آرہا تھا ، بی بی  اپنےبابا کو دیکھتی جاتی تھیں اور گریہ کرتی جاتی تھیں ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اپنی بیٹی کی اس حالت کو برداشت نہ کرسکے، آپ نے بیٹی کے کان میں کچھ کہا جس سے آپ کو سکون مل گیا اور آپ مسکرائیں، اس وقت حضرت فاطمہ علیہا السلام کی مسکراہٹ بڑی تعجب آور تھی،  ان  سے سوال کیا گیا: رسول خدا  نے آپ سے کیا فرمادیا جو آپ کے چہرے پر خوشی ظاہر ہوگئی تھی ؟ آپ نے جواب دیا: جب تک میرے بابا حیات ہیں میں اس راز کو بیان نہیں کروں گی، رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شہادت کے بعد وہ راز آشکار ہوگیا، حضرت فاطمہ (علیہا السلام) نے بتایا کہ: میرے بابا نے آخری وقت میں  مجھ سے فرمایاتھا کہ میرے اہلبیت میں تم سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کروگي  ، یہ بات سن کر میں خوش ہوگئی ۔