بہ نشر پبلیکیشنزکی 46 کتابوں کا  غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ
بدھ , 03/17/2021 - 7:18
بہ نشر پبلیکیشنزکی 46 کتابوں کا  غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ

 آستان قدس رضوی کے پبلیکیشنز بہ نشرے کے پروڈکشن مینیجرنے بتایا کہ اس پبلیکیشنز کی چھالیس کتابوں کا ترکی ، عربی ، انگریزی اور ملایو زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے  ۔ 
سید احمد میرزادہ نے آستان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آستان قدس رضوی کے نشر و اشاعت کے ادارے بہ نشر نے سن  1997 سے بچّوں اور کم عمر نوجوانوں سے متعلق ادب کے میدان میں قدم رکھ کر اب تک بڑی تعداد میں  کتابیں شایع کی ہیں ۔ ان کتابوں کو بین الاقوامی نمائشوں میں بھی بہت زیادہ پسند کیا گیا ہے ۔ عرب اور ترک زبان ممالک کے ساتھ  ہمارے ثقافتی اور مذہبی مشترکات کی بنا پر ہماری بعض تصانیف جنہیں  بچّوں اور کم عمر نوجوانوں نے بہت زیادہ پسند کیا اور خریدا ہے ان کا " کتاب ہائے پروانہ " کے زیر عنوان ترکی اور عربی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ 
انہوں نے بتایا کہ ترجمہ ہونے والی تصانیف کی تعداد میں  گزشتہ چار برسوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ مثال کے طور پر اب سے چار سال پہلے تک صرف سات کتابوں کا ملایو زبان میں ترجمہ ہوا تھا جبکہ گزشتہ چار سال ایسے رہے ہیں کہ بچّوں اور نوجوانوں  نیز بڑے  افراد کے لیۓ 30 سے زیادہ کتابیں چینی ، ترکی ، عربی اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ کی جاچکی ہیں ۔ 

"قصّۂ ما مثل شد" یعنی "ہماری کہانی مثل بن گئی " نامی مجموعے کا ترکی اور چینی زبانوں میں ترجمہ :
نشر واشاعت کے شعبے کے پروڈکشن مینیجر نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ دس جلدوں پر مبنی "قصّۂ ما مثل شد " کتاب ، اب تک کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے  کہا: اس کتاب کو ترکی  کے پروفیسر جناب ڈاکٹر احمد آدیکوزل نے ترکی استنبولی میں ترجمہ کیا ہے اور چینی زبان میں اس کا ترجمہ محترمہ ہاشیو یان اور محترمہ کوان یوان کے ذریعے انجام پایا ہے۔ 
 میر زادہ کے بقول دس جلدوں والی اس کتاب کو محمد میر کیانی نے لکھا ہے اور اسے اسلامی جمہوریۂ ایران کی سال کی بہترین کتاب کے عنوان سے منتخب کیا جاچکاہے ۔ اس کتاب میں 220 قصّے اور حکایتیں نیز ایرانی ضرب المثل شامل ہیں ۔ بچّوں کے لیۓ لکھی گئی اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اسے بہت ہی سادہ اور رواں زبان میں لکھا گیا ہے ۔ اسی طرح 106 قسطوں پر مبنی اینیمیشن کا ایک مجموعہ ہے جو مختلف سائزوں میں بار بار شائع ہوچکا ہے اس کو بھی بہت زیادہ پسند کیا گیا ہے خاص طور پر اسکولوں میں  قصّہ گوئی کرنے والے افراد نے اسے بہت فائدہ مند بتایا ہے۔

"قرآنی مفہوم کے ساتھ ایک تخیّلی داستان " کا ترکی اور جرمن زبانوں میں ترجمہ :
 آستان قدس رضوی کے نشرو اشاعت کے ادارے بہ نشرکے پروڈکشن مینیجر   نے بتایا کہ گزشتہ سال "کتاب ہائے پروانہ" نامی مجموعے میں شامل " قرآنی مفہوم کے ساتھ  ایک تخیّلی داستان " کو آٹھ جلدوں والے ایک مجموعے کی شکل میں شایع کیا گیا ہے ۔ اس کا ترکی استنبولی میں ترجمہ میلاد سلمانی نے کیا ہے اور اوسلو ، ناروے کی امام علی مسجد فاؤنڈیشن کے توسط سے اس کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا گیا ہے۔ 
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ : "قرآنی مفہوم کے ساتھ ایک تخیّلی داستا ن " کو ایک فرانسیسی مصنّف  کلر ژوبرٹ  نے تحریر کیا ہے ۔ " امانتی کیک" "شلوپی"  " دوستی کرانے والی آش" " سرخ سیب کا ماجرا"  وغیرہ ان کتابوں کے عنوان ہیں جو اس مجموعے میں شامل ہیں ۔ کتاب کے اس مجموعے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ داستانوں کی شکل میں جھوٹ ، غیبت ، امانت داری ، سچّائی، صلح و دوستی اور تجسّس وغیرہ  جیسے مفاہیم کو کسی ایک قرآنی آیت کو بنیاد بنا کر بچّوں کے لیۓ پیش کیا جائے تاکہ وہ اسے بہ آسانی سمجھ  سکیں ۔

ناولٹ "ماہ غریب من" (میرا غریب الوطن چاند) کا عربی میں ترجمہ
میرزادہ نے اس کے بعد مجید ملا محمدی کے قلم کا شاہکار، کتاب " ماہ غریب من" کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب اب تک دس بار چھپ چکی ہے    اور اس کے  کل 37 ہزار نسخے شا‏ئع ہوچکے ہيں۔ اس میں حضرت امام رضا (ع) کی زندگی کی داستانیں، امام ہشتم کے اخلاقی فضائل اور ان کی عملی اور علمی سیرت کو نوجوانوں کے لئے لکھا گیا ہے ۔ اس ناولٹ کا عربی میں ترجمہ رحیم کثیر نے "قمری الغریب" کے نام سے کیا ہے۔ 
بہ نشرے کے عہدیدار میرزادہ نے ملیشیا کی زبان میں بھی کچھ ترجموں اور ان کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مسلمان ملک ملیشیا کی آبادی بہت زیادہ ہے اور چونکہ وہ عالم اسلام کے مرکز سے کافی فاصلے پرواقع ہے اس لئے وہاں اسلامی کتب و لٹریچر پہنچنے میں وقت لگتاہے اور ایسی کتابیں بھی وہاں کم ہيں اور انہی وجوہات کی بناپر ملیشیا کے مسلمانوں میں اسلامی علوم اور معارف کو جاننے کا بیحد اشتیاق رہتا ہے چنانچہ  اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے "نشرالامین" نامی ادارے کے تعاون سے "سورج جیسی آئس کریم"، "میں نے دادی کو چاند میں دیکھا"، "میں مل گیا ہوں" اور"چڑیل صاحبہ نے شادی میں شرکت کی" جیسی کتابوں کو ملایو زبان میں ترجمہ کراکے چھپوایا گیا ہے ۔ ان کتابوں کے مصنف سرور کتبی صاحب ہیں اور ان کا ملایو زبان میں ترجمہ محمد رضا رستگار مقدس  اور محمد یزدانی نے کیا ہے۔ 

بچّوں سے متعلق کتابوں کا  ملایو زبان میں ترجمہ :
  میر زادہ نے " چرخ قرمزی " یعنی " لال پہیہ "، " در ہر دل آوازی ہست" یعنی " ہر دل میں ایک آواز ہوتی ہے" اسی طرح  " دوچرخہ اور پرندہ" یعنی "سائیکل اور پرندہ " "صورتی سر گردان " یعنی سرگردان صورت " قصّہ ہائی علی و گلی " نیز " منگولہ مو کی عجیب پینٹنگ" کو ایسی کتابیں بتایا جو ملیشیا میں نشرالامین پریس نے چھاپی ہیں ۔ ان کتابوں کے لکھنے والوں میں منصورہ صابری ، رضی خدادادی ، فریبا کلہر ، ویولت رزاق پناہ ، لالہ جعفری اور فروزندہ خداجو کے نام شامل ہیں ۔ اور ان کا ترجمہ محمد رستگار مقدم ، محیا غلام پور اور محمد یزدانی نے ملایو زبان میں کیا ہے۔
انہوں نے کتابوں کے انگریزی ترجمہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: نقی سلیمانی کا تصنیف کردہ مجموعہ " پیامبر "  شایع ہونے والا بہت ہی کامیاب مجوعہ رہا ہے۔ اس میں خاتم الانبیاء (ص) کی زندگی کے تمام مراحل کو سمویا گیا ہے۔ اس بنیاد پر " قبل از پیدائش " اور " بچپن" نامی کتابوں کے انگریزی زبان میں ترجمے کی تیاری ہورہی ہے۔ 
میرزادہ نے یہ بھی بتایا کہ: چار جلدوں پر مبنی مجموعہ " شکر خدا"  اور "قرآنی مفاہیم کے ساتھ تخیّلی قصّے " جسے کلر ژوبرٹ نے لکھا ہے اور پانچ جلدوں والے " قصّۂ حنانہ " مجموعے کا عربی میں ترجمہ کیا جائےگا۔