خواتین اور نوجوانوں کی ثقافتی سرگرمیوں کے میدان میں آستان قدس رضوی کی شمولیت پر تاکید 
ہفتہ , 03/27/2021 - 8:06
خواتین اور نوجوانوں کی ثقافتی سرگرمیوں کے میدان میں آستان قدس رضوی کی شمولیت پر تاکید 

آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ زائرین کو حقیقی اور صحیح معنی میں زیارت سے سرافراز کرنا آستان قدس کے پروگراموں میں ہمیشہ ہی سرفہرست رہا ہے اور اب مذہبی ثقافتی میدانوں میں خواتین اور نوجوانوں پر توجہ دینا بھی آستان قدس کی بنیادی حکمت عملی میں شامل ہوگیا ہے اور اس امر پر خاص توجہ دی جارہی ہے 
پارک میں لگائے گئے تربیتی و ثقافتی کیمپ میں ایک نشست منعقد ہوئی ۔ اس نشست میں پورے ملک سے ان  جوانوں اور نوجوانوں نے شرکت کی جو ثقافت و تربیت کے میدان میں نمایاں طور پر فعال و سرگرم رہے ہیں ۔ 
 آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس نشست کو خطاب کرتے  ہوئے آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے کہا کہ جوانوں سے متعلق  آستان قدس کے ادارے سے وابستہ نوجوانوں اور جوانوں کو چاہیۓ کہ خود کو اس ادارے کے پروگراموں کے سلسلے میں ذمہ دار سمجھیں اور اپنی تجاویز کے ذریعے یہاں کے پروگراموں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں ۔ 
انہوں نے کہا کہ آستان قدس رضوی عوام کا ادارہ ہے ۔ اور اسی بنا پر عوام کے مختلف طبقے اس کی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے ذہنوں میں  عمدہ نظریئے اور منصوبے رکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس نورانی ادارے کے انتظام  کو بہتر بنانے کے لیۓ ہمیں عوام کے نظریات اور تجاویز کی ضرورت ہے ۔ 
انہوں نے ثقافتی سرگرمیوں کی توسیع کو آستان قدس کی بنیادی ترجیح و ضرورت بتایا اور کہا کہ آستان قدس کا سلوگن امام رضا (ع) کی اس فرمائش یعنی"رحم اللہ عبدا احیا امرنا" کو حقیقی شکل میں پیش کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام رضا (ع) ایک روایت میں فرماتے ہیں " الناس لو علموا محاسن کلامنا لا تبعونا " یعنی اگر امام رضا علیہ السلام کا پیام صحیح طور پر لوگوں تک پہنچ جائے تو وہ پیروی کریں گے اور اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو (اس کا مطلب ہے کہ ) ہم اہل بیت (‏ع) کے اعلی معارف و تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے کا اپنا فریضہ صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکے   ۔ 
حجت الاسلام مروی نے کہا کہ تمام شیعوں اور امام رضا(ع) کے محبّوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ تعلیمات و معارف رضوی کو معاشرے میں پھیلائیں ۔ انہوں نے یہ  بھی کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی  آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کی  آستان قدس رضوی سے  یہ تاکید ہے کہ ثقافتی مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے اور زائرین کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی  رابطہ برقرار رکھا جائے۔ لہذا حرم مطہررضوی کے انتظامات اور زیارت  سے متعلق سرگرمیوں کے بعد آستان قدس کا سب سے اہم کام ثقافتی اور مذہبی سرگرمیوں کی پیش رفت ہے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ زائرین اس نورانی حرم سے جو بہترین سوغات اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں وہ امام رضا (ع) کی زیادہ سے زیادہ معرفت ہے۔ 
انہوں نے سماجی برائیوں کی وجوہات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اخلاق ، ثقافت اور رضوی طرز زندگی    سے ہمارا معاشرہ کافی دور ہوگيا ہے  اکثر سماجی  برائیوں کی وجہ ثقافتی اور مذہبی میدان میں تحرک کی کمی اور معاشرے میں انصاف کا نہ ہونا ہے ، اور ہم دیکھتے ہیں کہ برائیوں پر  توجہ زیادہ دی جاتی ہے جبکہ برائی کی وجہ کو دور کرنے کے لیۓ کوشش و منصوبہ بندی کی جانی چاہیۓ ۔ اگر علت ختم ہوجائے گي تو معلول خود بخود  ختم ہوجائے گا ۔ 
انہوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد حرم امام رضا(ع) کی توسیع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آستان قدس میں عمارت اور جگہ کے لحاظ سے  کوئی کمی نہیں ہے ، کچھ پراجیکٹ ابھی ادھورے ہیں جنہیں پورا ہونا ہے ، بس اس کے علاوہ کسی طرح کی توسیع کی ضرورت نہیں ہے ۔ لہذا اس وقت آستان قدس کا پورا دھیان ثقافتی سرگرمیوں اور خاص طور پر نوجوانوں اور جوانوں سے متعلق پروگراموں پر ہے ۔ 
حجت الاسلام والمسلمین مروی نے کہا کہ امام رضا (ع) کا نام نامی عوام کے دلوں اور اعتماد کو اس  حرم کی جانب کھینچنے کا  ایک عظیم ذریعہ  اور  لاجواب سرمایہ ہے  اور اس غیر معمولی گنجائشوں اسے استفادہ کرکے    سماج میں ثقافت و معرفت کی جڑوں کو بڑی گہرائی تک پھیلایا جاسکتا ہے ۔