حضرت امام علی رضاؑ کی ولایت عہدی کا مختصر جائزہ
ہفتہ , 04/17/2021 - 13:20
حضرت امام علی رضاؑ کی ولایت عہدی کا مختصر جائزہ
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولایت عہدی کا اعلان ۶ رمضان المبارک ۲۰۱ ہجری قمری میں کیا گیا اسی مناسبت سے قارئین کے لئے مسئلہ ولایت عہدی کا مختصر جائزہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حضرت امام علی رضا(ع) کی ولی عہدی کا مسئلہ ایک ایسا عجیب اور پیچیدہ مسئلہ ہے جو مامون عباسی نے سازش کے طور پر تیار کیا تھا اور شیعوں کی آزمائش کے لئے ایک بڑا امتحان الہی تھا ، کیونکہ ابھی بنی عباس بالخصوص مامون کے باپ ہارون عباسی کی جنایتوں اور ظلم و ستم خصوصاً حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت اور اولاد رسول(ص) کے قتل عام کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ مامون کی طرف سے امام رضا علیہ السلام کو ولایت عہدی کی پیشکش نے سب کو حیرت زدہ کر دیا ، وہ نفرت جو عام طور پر شیعوں میں طاغوتی حکمرانوں بالخصوص عباسیوں کی نسبت پائی جاتی تھی باعث بنی کہ وہ لوگ حضرت امام علی رضا(ع) کی ولایتِ عہدی کے منصب قبول کرنے کے اقدام کو قبول نہ کریں ، اگرچہ حضرت امام علی رضا(ع) کو اس کام پر مجبور کیا گیا تھا ، لیکن اس طرح کی صورتحال کا پہلے کوئی سابقہ نہ ہونے کی وجہ سے بعض کی نظر میں یہ مسئلہ شدت سے سوالات کو جنم دے رہا تھا، خصوصاً واقفیہ کے منحرف گروہ نے اس فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے ،اپنے پروپگینڈے میں اضافہ کر دیا اور صورتحال یہ ہوگئی کہ سادہ لوح اور نادان لوگ بجائے اس کے کہ اپنے امام کے سامنے سر تسلیم خم اور فرمانبردار ہوتے، زبان اعتراض کھولنے لگے اور بار بار حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے کہتے تھے : کیوں مامون کے دربار میں جاتے ہیں؟ حضرتؑ فرماتے : ’’ اسی دلیل کی وجہ سے کہ میرے جدّامیرالمؤمنینؑ کشوری میں داخل ہوئے تھے۔‘‘
ایک دفعہ امام رضاعلیہ السلام نے انہی اعتراض کرنے والوں میں سے ایک کے جواب میں فرمایا:’’پیغمبر(ص) افضل ہے یا وصی ؟جواب دیا: پیغمبرؑ ؛ پھر پوچھا:’’مسلمان برتر ہے یا مشرکت؟‘‘ کہا: مسلمان! حضرتؑ نے فرمایا:’’ عزیز مصر مشرک تھا اور یوسف پیغمبرؑ تھے، مامون مسلمان ہے اور میں وصی، یوسفؑ نے خود عزیز مصر سے(قرآن مجید کے مطابق)چاہا تھا کہ ان کو ولایت دے، لیکن میں اس کام پر مجبور کیا گیا ہوں۔‘‘ (حکایت آفتاب،مترجم:سید عقیل حیدر زیدی،ص ۱۰۵)
مورخین نے مامون رشید کو خلفائے عباسی میں بطور ایک طاقتور ترین، باہوش، دانشمند اور میانہ رو فرد کے طور پر پیش کیا ہے۔ امین کے قتل کے بعد مامون نے حالات کے تقاضوں کے تحت آخری متبادل صورت پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس کو رو بہ عمل لانے کے لئے مامون نے یہ فیصلہ کیا کہ امام رضا (ع) کو خلافت کی پیشکش کی جائے۔ یہ ایک سیاسی چال تھی، جو شخص جاہ و اقتدار کے لئے اپنے بھائی کو قتل کردے یکایک اتنا انصاف پسند کیسے ہو گیا کہ آلِمحمد (ص) کو خلافت کا حقدار سمجھنے لگا۔ مامون رشید کی نیت یہ تھی کہ امام (ع) کو اپنے رنگ میں رنگ لے اور دامن تقویٰ اور فضیلت کو داغدار کردے۔ اگر امام خلافت قبول کرلیں تو وہ اپنے لئے ولی عہد کی شرط پیش کرتا اور اس طرح اپنا استحقاق ثابت کرتا۔


امام رضاؑ کے سفر مدینہ تا مرو کی چند خصوصیات:
یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخ ائمہ کے دو سفر ہیں جن کے درمیان تقریباً ١٤ سال کا زمانی فاصلہ ہے یعنی ٤٠ھ میں مدینہ سے امام حسین (ع) کا کربلا کا سفر اور ٢٠٠ ھ میں امام رضا (ع) کا مرو کا سفر۔ ان کی چند خصوصیات ہیں۔
١۔ امام حسین (ع) نے کربلا جانے کا فیصلہ اپنی صوابدید پر کیا۔ (آزادانہ)
٢۔ امام رضا (ع) کا مدینہ سے مرو کا سفر مامون رشید کی درخواست پر ہوا۔
٣۔ امام حسین (ع) نے اپنے سفر کی راہ اور قیام کے مقامات خود طے کئے تھے۔
٤۔ امام رضا (ع) کے سفر کی راہ مامون کی ہدایات کے تحت منظم کی گئی تھی۔
٥۔ امام حسین (ع) اپنے ساتھ اپنے اہلبیت اور معتمداصحاب کو لے گئے تھے۔
٦۔ امام رضا (ع) نے خاندان کی کسی فرد کو ساتھ نہیں رکھا تھا۔
٧۔ امام حسین (ع) کے سفر کا ہدف حق و باطل میں خط فاصل کھینچنا تھا۔
٨۔ امام رضا (ع) کے سفر کا مقصد کربلا کے معرکہ کے ثمرات کی حفاظت اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ تھی۔
امام رضا (ع) کے مدینہ سے مرو کے سفر کی منصوبہ بندی میں سب سے زیادہ قابل توجہ ان شہروں کا محل وقوع اور ان کی تاریخ ، سیاسی اور جغرافیائی اہمیت تھی جہاں سے امام گزرنے والے تھے۔ جواد معینی اور محمد ترابی کے مطابق امام (ع) کے سفر کے رستہ کے تعینی میں اس امر کو پیش نظر رکھا گیا کہ کاروان ایسے شہروں سے دور رہے جہاں دوستداروں اہلبیت کا غلبہ ہو۔ اس زمانہ میں مدینہ سے مرد تک دو مروج راستے تھے۔ ایک براہ بصرہ، اھواز، دشت لوط، فارس، نیشا پور سے گزرتا ہوا مرو پہونچا تھا جبکہ دوسرا کوفہ، بغداد، قم اور خراسان کی راہ تھا جس میں کوفہ، بغداد اور قم سیاسی لحاظ سے حساس سمجھے جاتے تھے۔ کوفہ شیعیان علی کا اجتماعی مرکز شمار ہوتا تھا اور بنی امیہ اور بنی عباس کے خلاف تحریک کا مضبوط مرکز رہا تھا، بغداد مامون کے سیاسی مخالفین اور متعصب عباسیوں کا مرکز تھا جو امین اور مامون کے درمیان کشمکش میں مخالف مامون رویہ اختیار کر گئے تھے۔ شہر قم کا شمار ان چند شہروں میں تھا جہاں دلوں میں خاندان علی (ع) ابن ابی طالب کی محبت موجزن تھی، ان سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر مورخین کا اتفاق ہے کہ امام رضا (ع) کے سفر کے لئے بصرہ، بناج، اھواز، اراکی، دشتِ لوط ، نیشاپور، طوس اور سناباد کا راستہ منتخب کیا گیا حالانکہ اس راستے میں زیادہ صعوبتیں تھیں۔(آرٹیکل:حضرت امام علی رضاؑ کی شخصیت اور عہد امامت،سید صفدر حسین نجفی)


مامون عباسی کی ولایت عہدی کا مقصد:
حضرت امام علی رضا(ع) مامون کے شدید اصراراور بار بار خط بھیجنے پر بالآخر 201 ہجری قمر ی کو مروّ میں داخل ہوئے مامون نے شروع میں حضرتؑ کو خلافت کی پیشکش کی اورامام سے عرض کیا: میرا ارادہ یہ ہے  کہ میں خود کو خلافت سے معزول کر لوں اور اِسے آپؑ کے لئے قرار دے کر آپؑ کی بیعت کر لوں!
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:’’اگر یہ خلافت تیرا حق ہے اور خداوندعالم نے تیرے لئے قرار دی ہے تو جائز نہیں ہے کہ جو لباس خداوند متعال نے تجھے پہنایا ہے تو اُسے اتار کر کسی اور کے سپرد کر دے اور اگر یہ خلافت تیرا حق نہیں ہے تو بھی تیرے لئے جائز نہیں کہ جو چیز تیری نہیں وہ تو مجھے دے ۔‘‘
کافی عرصہ مامون اصرار کرتا رہا ، یہاں تک کہ امام رضا(ع) کے قبول کرنے سے مایوس ہو کر اُس نے یوں عرض کیا: اگر آپؑ خلافت قبول نہیں کرتے اور نہیں چاہتے کہ میں آپؑ کی بیعت کروں! تو آپؑ میرے ولی عہد بن جائیں،تاکہ میرے بعد خلافت آپؑ کے لئے ہو!
امام رضا(ع) نے فرمایا:’’خدا کی قسم! میرے والد بزرگوارؑ نے اپنے آباء واجداد سے اور انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین علی(ع) سے اور انہوں نے حضرت رسول خدا(ص) سے مجھے یہ خبر دی ہے کہ میں تجھ سے پہلے اس دنیا سے چلاجاؤں گا،درحالانکہ میں سم جفاء سے مظلومانہ قتل کیا جاؤں گا اور آسمان و زمین کے فرشتے مجھ پر گریہ کریں گے اور میں سرزمین غربت میں ہارون کے پہلو میں دفن کیا جاؤں گا۔‘‘
مامون یہ سن کر رو پڑا اور کہنے لگا: اے فرزند رسول خدا(ص)! کون آپؑ کو قتل کرے گا؟ یاکون آپؑ کو نقصان پہنچا سکتا ہے جبکہ میں زندہ ہوں!حضرت نے فرمایا: اگر میں چاہوں تو بتا سکتا ہوں کہ مجھے کون قتل کرے گا۔
مامون نے عرض کیا: یابن رسول اللہ(ص)! اس بات سے آپؑ کا مقصد یہ ہے کہ اس کام کو اپنے اوپر آسان کریں اور اپنی گردن کو آزاد رکھیں، تاکہ لوگ یہ کہیں کہ آپؑ دنیا میں زاہد ہیں!
حضرت امام علی رضا علیہ السلا م نے فرمایا:’’ خدا کی قسم! جب سے خداوند عالم نے مجھے خلق فرمایا  ہے میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور ہرگز دنیا سے دنیا کی خاطر زہد اختیار نہیں کیا اور میں جانتا ہوں کہ تمہارااصل مقصد کیا ہے!‘‘
مامون نے پوچھا : میرا مقصد کیا ہے؟ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :’’ تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ کہیں علی بن موسی(ع) دنیا کی طرف سے بے رغبت
نہیں تھے بلکہ یہ دنیا تھی جس نے ان کی طرف کوئی رغبت نہیں کی،(اب) نہیں دیکھتے کہ انہوں نے ولایت  عہدی کو قبول کر لیا ہے تاکہ منصبِ خلافت تک پہنچ جائیں‘‘۔
اس وقت مامون غضبناک ہوا اور کہنے لگا:خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یا ولایت عہدی قبول کریں وگرنہ آپ کو مجبور کروں گا اور اگر آپ نے قبول نہ کیا تو آپ کو قتل کروا دوں گا۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :’’ خداوند عالم نے مجھے نہی فرمائی کہ میں خود کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں ڈالوں ، اگر اسی طرح ہے جو تو چاہتا ہے تو میں اس شرط کے ساتھ قبول کروں گا کہ کسی کو کوئی عہدہ نہیں دوں گا اور نہ ہی کسی  کوعہدے سے معزول کروں گا اور کسی بھی قانون اور طور طریقہ کو تبدیل نہیں کروں گا۔
مامون نے ان شرائط کے ساتھ قبول کر لیا اور امام علی رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عہد بنا لیا۔(حکایت آفتاب،مترجم سید عقیل حیدر زیدی)
ذیشان حیدر جوادی (١٢) نے نقوش عصمت میں ولی عہدی کے موضوع کا مامون اور امام رضا (ع) کے نکتہ نظر سے تجزیہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں مامون کے نزدیک ولی عہدی کی پیشکش کا مقصد امام کو زیر نظر رکھنا، ان کا عوام سے رابطہ منقطع یا دشوار بنانا ، ان کی نظام حکومت میں شمولیت کے ذریعہ اپنی خلافت کی عظمت میں اضافہ کرنا اور اس کے لئے ایک شرعی تائید حاصل کرنا تھا، اور سب سے اہم علویوں کی انقلابی تحریکوں کو دبانا تھا۔
اس کے بر خلاف امام علی رضا (ع) نے ولی عہدی کو اس وقت کے سیاسی اور معاشرتی رجحانات کے پیش نظر احکام اور تبلیغات اسلامی کی ترویج و اشاعت کا موثر ذریعہ قرار دیا اور'' مکرہ' مکراﷲ'' کے قرآنی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ مدینہ سے مرو کے سفر کے دوران اور عہد ولی عہدی میں حکومتی پروٹوکول کی موجودگی میں معجزات اور کرامات کا اظہار، مناظروں میں شرکت، نماز عید، بارش کی دعاؤں ، زینب گذابیہ اور دیگر واقعات امام (ع) کی اس حکمت عملی کا حصہ تھے۔
اس لحاظ سے ہم اس نتیجہ پر پہونچے کہ گو ولی عہدی قبول کرنا تاریخ ائمہ کے دھارے میں ایک منفرد واقعہ ہے جو ناواقفین میں شکوک پیدا کرسکتا ہے لیکن درحقیقت یہ امام (ع) کی سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک مشکل مرحلہ کو کس طرح ایک اعلیٰ وارفع مقصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ دوران ولی عہدی کے واقعات امام کے مناظروں اور علمی فیوض سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ امام رضا (ع) نے اپنے فیصلے سے یہ بات ثابت کردیا کہ خداوند عالم کی صحیح خلافت اور نمائندگی کے حقدار صرف ائمہ ہیں اور زمین پر خدا کی حجت اور اس کے نمائندہ ہیں اور یہ عہدہ نا قابل انتقال ہے۔