حضرت امام حسن مجتبیٰؑ کی مختصر سوانح حیات اور اخلاقی خصوصیات
منگل , 04/27/2021 - 11:52
حضرت امام حسن مجتبیٰؑ کی مختصر سوانح حیات اور اخلاقی خصوصیات

ولادت
آپؑ کی ولادت با سعادت  ۱۵/ رمضان ۳ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی ؛ ولادت سے قبل ام الفضل نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم(ص) کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آ پہنچا ہے ۔ خواب رسول کریم سے بیان کیا آپ نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ میری لخت جگر فاطمہ(س) کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیداہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔ مورخین کا کہنا ہے کہ رسول کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی۔ آپ کی ولادت نے رسول کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورئہ کوثرکی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔
کنیت و القاب
آپ کی کنیت صرف ابو محمدتھی اور آپ کے القاب بہت کثیرہیں: جن میں طیب،تقی، سبط اور سید زیادہ مشہور ہیں، محمدبن طلحہ شافعی کابیان ہے کہ آپ کا”سید“ لقب خود سرور کائنات کاعطا کردہ ہے (مطالب السؤل ص ۲۲۱) ۔
زیارت عاشورہ سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کالقب ناصح اور امین بھی تھا۔
امام حسن پیغمبر اسلام کی نظر میں
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن اسلام پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزندرسول(ص) کادرجہ دیا ہے اوراپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے خود سرورکائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں:
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا کہ میں حسنینؑ کودوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسنؑ کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول (ص)کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں داڈھی سے کھیلتے دیکھا(نورالابصارص ۱۱۹) ۔
ایک دن سرور کائنات امام حسنؑ کو کاندھے پر سوار کئے ہوئے کہیں لیے جارہے تھے ایک صحابی نے کہا کہ اے صاحبزادے تمہاری سواری کس قدر اچھی ہے یہ سن کرآنحضرت نے فرمایا یہ کہو کہ کس قدر اچھا سوار ہے (اسدالغابة جلد ۳ ص ۱۵ بحوالہ ترمذی)۔
امام بخاری اور امام مسلم لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خدا (ص) امام حسن ؑکوکندھے پربٹھائے ہوئے فرما رہے تھے خدایا میں اسے دوست رکھتا ہوں توبھی اس سے محبت کر ۔
حکیم ترمذی ،نسائی اور ابوداؤد نے لکھا ہے کہ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنینؑ آ گئے اورامام حسنؑ کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پرگرپڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت (ص)نے خطبہ ترک کردیا اور منبر سے اتر کر انہیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پرتشریف لے جاکرخطبہ شروع فرمایا (مطالب السؤل ص ۲۲۳) ۔
جنت کی سرداری
آل محمدکی سرداری مسلمات سے ہے علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ سرورکائنات نے ارشاد فرمایا ہے ”الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة وابوہماخیرمنہما“ حسن اورحسین جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے والدبزرگوار یعنی علی بن ابی طالب ان دونوں سے بہترہیں۔
جناب حذیفہ یمانی کابیان ہے کہ میں نے آنحضرت(ص) کو ایک دن بہت زیادہ مسرور پاکرعرض کی مولاآج افراط شادمانی کی کیا وجہ ہے ارشادفرمایا کہ مجھے آج جبرئیل نے یہ بشارت دی ہے کہ میرے دونوں فرزندحسن ؑوحسینؑ جوانان جنت کے سردارہیں اور ان کے والدعلی ابن ابی طالب ان سے بھی بہتر ہیں (کنزالعمال ج ۷ ص ۱۰۷ ،صواعق محرقہ ص ۱۱۷) اس حدیث سے اس کی بھی وضاحت ہو گئی کہ حضرت علی صرف سیدہی نہ تھے بلکہ فرزندان سیادت کے باپ تھے۔
امام حسنؑ اور ترجمانی وحی
علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ امام حسنؑ کا یہ وطیرہ تھا کہ آپ انتہائی کم سنی کے عالم میں اپنے نانا پرنازل ہونے والی وحی من وعن اپنی والدہ ماجدہ کو سنا دیا کرتے تھے ایک دن حضرت علیؑ نے فرمایا کہ اے بنت رسول (ص)میراجی چاہتا ہے کہ میں حسنؑ کو ترجمانی وحی کرتے ہوئے خود دیکھوں، اور سنوں، سیدہ (س)نے امام حسن ؑکے پہنچنے کاوقت بتادیا ۔ ایک دن امیرالمومنینؑ حسنؑ سے پہلے داخل خانہ ہوگئے اورگوشئہ خانہ میں چھپ کربیٹھ گئے۔ امام حسنؑ حسب معمول تشریف لائے اورماں کی آغوش میں بیٹھ کر وحی سنانا شروع کردی لیکن تھوڑی دیرکے بعد عرض کی ”یااماہ قدتلجلج لسانی وکل بیانی لعل سیدی یرانی“مادرگرامی آج زبان وحی ترجمان میں لکنت اوربیان مقصدمیں رکاوٹ ہورہی ہے مجھے ایسامعلوم ہوتاہے کہ جیسے میرے بزرگ محترم مجھے دیکھ رہے ہیں یہ سن کرحضرت امیرالمومنین ؑنے دوڑ کر امام حسنؑ کو آغوش میں اٹھا لیا اور بوسہ دینے لگے(بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۱۹۳) ۔) ۔
اخلاقى خصوصیات
امام حسن (ع) ہر جہت سے حسن تھے آپ کے وجود مقدس میں انسانیت کى اعلى ترین نشانیاں جلوہ گر تھیں_ آپ کی پرہیزگاری اور عبادت کے بارے میں  امام جعفر صادق ؑ ارشاد فرماتے ہیں : امام حسن(ع) اپنے زمانہ کے عابدترین اور زاہدترین شخص تھے_ جب موت اور قیامت کو یاد فرماتے تو روتے ہوئے بے قابو ہوجاتے تھے _
امام حسن(ع) ، اپنى زندگى میں 25 بار پیادہ اور کبھى پابرہنہ زیارت خانہ خدا کوتشریف لے گئے تا کہ خدا کى بارگاہ میں زیادہ سے زیادہ ادب و خشوع پیش کرسکیں اور زیادہ سے زیادہ اجر ملے۔
امام(ع) کى سخاوت اور عطا کے سلسلہ میں اتنا ہى بیان کافى ہے کہ آپ نے اپنى زندگى میں دوبار تمام اموال اور اپنى تمام پونجى خدا کے راستہ میں دیدى اور تین بار اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا_ آدھا راہ خدا میں دیدیا اور آدھا اپنے پاس رکھا۔
مروان بن حکم _ جو آپ کا سخت دشمن تھا_ آپ (ع) کى رحلت کے بعد اس نے آپ کى تشیع جنازہ میں شرکت کى امام حسین _نے پوچھا_ میرے بھائی کى حیات میں تم سے جو ہوسکتا تھا وہ تم نے کیا لیکن اب تم ان کى تشییع جنازہ میں شریک اور رورہے ہو؟ مروان نے جواب دیا\'\' میں نے جو کچھ کیا اس شخص کے ساتھ کیا جس کى بردبارى پہاڑ ( کوہ مدینہ کى طرف اشارہ) سے زیادہ تھی۔

 

ماخذ :