شہادت کی کیفیت
منگل , 04/27/2021 - 16:18

حضرت امام رضا علیہ السلام نے شہادت سے ایک رات پہلے کسی کو’’ہرثمہ بن أعین‘‘ کے پاس بھیجا اور اسے اپنے پاس بلایا ، اس کے آنے پر اس سے فرمایا: ’’ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں غور سے سنو اور محفوظ کر لو! میری خداوند عالم کی طرف بازگشت کا وقت آن پہنچا ہےاور یہ وہ وقت ہے کہ میں اپنے ناناؐ اور آباء طاہرینؑ کے ساتھ ملحق ہو جاؤں،یہ ظالم و سرکش (مامون) پختہ ارادہ کر چکا ہے کہ مجھے انگور اور آنار کے ذریعہ مسموم کرے، اس نے انگوروں کو سوئی دھاگے کے ذریعہ زہرآلود کیا ہے اور آنا رکے دانے اس غلام کے توسط سے نکلوائے ہیں جس کے ہاتھ زہر آلود تھے،وہ کل مجھے بلائے گا تاکہ میں اس سے کھاؤں اور جو حکم اور فیصلہ ہوچکا ہے وہ انجام پذیر ہو گا۔ ۔ ۔‘‘
پھر آپؑ نے فرمایا:’’ اے اباصلت! کل میں اس فاجر( و فاسق) کے پاس بلایا جاؤں گا، اگر میں سربرہنہ باہر آیا تو مجھ سے بات کر لینا ، میں تمہاری بات کا جواب بھی دوں لیکن اگر میں سر ڈھانپے باہر آیا تو مجھ سے کوئی بات مت کرنا۔‘‘
اباصلت کہتے ہیں: دوسرے دن امام رضاؑ نے اپنا لباس زیب تن کیا اور محراب عبادت میں کسی کے انتظار میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ مامون کا غلام آیا اور حضرتؑ کو ساتھ چلنے کے لئے کہا،امامؑ روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ گیا،مامون کے سامنے انگور اور دوسرےپھلوں کی ایک ٹوکری رکھی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں بھی انگوروں کا ایک کوشہ تھا، جس میں سے کچھ انگور کھائے ہوئے تھے، جیسے ہی اس نے امام رضا(ع) کو آتے دیکھا اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور حضرتؑ کو گلے لگایا، ان کی پیشانی کا بوسہ لیا اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھا دیا۔ پھر اس نے انگوروں کا وہ خوشہ حضرتؑ کو پیش کرتے ہوئے عرض کیا: اے فرزند رسول خداؐ میں نے اس سے عمدہ انگور نہیں دیکھے!
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :’’ کیا معلوم کہ بہشت کے انگور اس سے اچھے ہوں!‘‘ مامون نے عرض کیا: ان میں سے کچھ تناول فرمائیں ، امام علیہ السلام نے فرمایا:’’ مجھے ان سے معاف رکھو!‘‘ مامون نے کہا : انہیں تناول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، آپؑ کیوں نہیں کھاتے ! کیا آپؑ مجھ پر تہمت لگا رہے ہیں اور مجھ پر شک کرتے ہیں ؟امام رضاعلیہ السلام نے انگوروں کا خوشہ لیا اور اس میں سے تین دانے تناول فرمائے اور باقی زمین پر گرادیئے اور اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔
مامون نے پوچھا: کہا جارہے ہو؟ آپؑ نے جواب دیا:’’ جہاں تم نے مجھے بھیجا ہے‘‘ اس وقت آپ کی کیفیت یہ تھی کہ سرمبارک کو ڈھانپا ہوا تھا اور اسی حالت میں باہر تشریف لائے کوئی بات نہ کی ، حضرتؑ گھر تشریف لائے اور اپنے بستر پر لیٹ گئے اور حکم دیا کہ گھر کا دروازہ بند کر دیا جائے۔
ابا صلت کہتے ہیں: میں نے دروازہ بند کر دیا اور صحن خانہ میں غمزدہ کھڑا تھا کہ اچانک میں نے ایک خوبصورت اور سیاہ بالوں والے نوجوان کو دیکھا، جو سب سے زیادہ امام رضا(ع) سے مشابہ تھا، میں اس کے نزدیک گیا اور پوچھا: تم بند دروازے سے کس طرح اندر آگئے ؟اس نے جواب دیا:’’ جو مجھے اس وقت مدینہ سے یہاں لایا ہے، اسی نے مجھے بند دروازے سے گھر میں داخل کیا ہے!‘‘۔
میں نے عرض کیا: آپؑ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا:’’ اے اباصلت! میں تم پر اللہ کی حجت ہوں، میں محمد بن علی(ع)(امام محمد تقیؑ) ہوں‘‘پھر وہ اپنے والد بزرگوار کے پاس چلے گئے۔
جیسے ہی امام رضا علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو دیکھا، آپؑ اپنی جگہ سے اٹھ گئے ، ان کو اپنے سینے سے لگایا اور ان کی پیشانی اور رخساروں کے متعدد بوسے لئے ، اس کے بعد آپؑ نے ان کے ساتھ امامت سے متعلق (اسرار امامت کی) ایسی مرموز گفتگو کی ، جس کو میں نہیں سمجھ سکا۔ ۔ ۔ اس کے بعد آپؑ کی روح مطہر ملکوت اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔
مشہور روایات کے مطابق آپؑ کی تاریخ شہادت آخر ماہ صفر 203 ہجری قمری میں ہوئی اور اس وقت آپؑ کی عمر مبارک پچپن سال تھی۔