مامون عباسی کی ولایت عہدی
منگل , 04/27/2021 - 16:23

حضرت امام علی رضا(ع) مامون کے شدید اصراراور بار بار خط بھیجنے پر بالآخر 201 ہجری قمر ی کو مروّ میں داخل ہوئے مامون نے شروع میں حضرتؑ کو خلافت کی پیشکش کی اورامام سے عرض کیا: میرا ارادہ یہ ہے  کہ میں خود کو خلافت سے معزول کر لوں اور اِسے آپؑ کے لئے قرار دے کر آپؑ کی بیعت کر لوں!
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:’’اگر یہ خلافت تیرا حق ہے اور خداوندعالم نے تیرے لئے قرار دی ہے تو جائز نہیں ہے کہ جو لباس خداوند متعال نے تجھے پہنایا ہے تو اُسے اتار کر کسی اور کے سپرد کر دے اور اگر یہ خلافت تیرا حق نہیں ہے تو بھی تیرے لئے جائز نہیں کہ جو چیز تیری نہیں وہ تو مجھے دے ۔‘‘
کافی عرصہ مامون اصرار کرتا رہا ، یہاں تک کہ امام رضا(ع) کے قبول کرنے سے مایوس ہو کر اُس نے یوں عرض کیا: اگر آپؑ خلافت قبول نہیں کرتے اور نہیں چاہتے کہ میں آپؑ کی بیعت کروں! تو آپؑ میرے ولی عہد بن جائیں،تاکہ میرے بعد خلافت آپؑ کے لئے ہو!
امام رضا(ع) نے فرمایا:’’خدا کی قسم! میرے والد بزرگوارؑ نے اپنے آباء واجداد سے اور انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین علی(ع) سے اور انہوں نے حضرت رسول خدا(ص) سے مجھے یہ خبر دی ہے کہ میں تجھ سے پہلے اس دنیا سے چلاجاؤں گا،درحالانکہ میں سم جفاء سے مظلومانہ قتل کیا جاؤں گا اور آسمان و زمین کے فرشتے مجھ پر گریہ کریں گے اور میں سرزمین غربت میں ہارون کے پہلو میں دفن کیا جاؤں گا۔‘‘
مامون یہ سن کر رو پڑا اور کہنے لگا: اے فرزند رسول خدا(ص)! کون آپؑ کو قتل کرے گا؟ یاکون آپؑ کو نقصان پہنچا سکتا ہے جبکہ میں زندہ ہوں!حضرت نے فرمایا: اگر میں چاہوں تو بتا سکتا ہوں کہ مجھے کون قتل کرے گا۔
مامون نے عرض کیا: یابن رسول اللہ(ص)! اس بات سے آپؑ کا مقصد یہ ہے کہ اس کام کو اپنے اوپر آسان کریں اور اپنی گردن کو آزاد رکھیں، تاکہ لوگ یہ کہیں کہ آپؑ دنیا میں زاہد ہیں!
حضرت امام علی رضا علیہ السلا م نے فرمایا:’’ خدا کی قسم! جب سے خداوند عالم نے مجھے خلق فرمایا  ہے میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور ہرگز دنیا سے دنیا کی خاطر زہد اختیار نہیں کیا اور میں جانتا ہوں کہ تمہارااصل مقصد کیا ہے!‘‘
مامون نے پوچھا : میرا مقصد کیا ہے؟ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :’’ تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ کہیں علی بن موسی(ع) دنیا کی طرف سے بے رغبت
نہیں تھے بلکہ یہ دنیا تھی جس نے ان کی طرف کوئی رغبت نہیں کی،(اب) نہیں دیکھتے کہ انہوں نے ولایت  عہدی کو قبول کر لیا ہے تاکہ منصبِ خلافت تک پہنچ جائیں‘‘۔
اس وقت مامون غضبناک ہوا اور کہنے لگا:خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یا ولایت عہدی قبول کریں وگرنہ آپ کو مجبور کروں گا اور اگر آپ نے قبول نہ کیا تو آپ کو قتل کروا دوں گا۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :’’ خداوند عالم نے مجھے نہی فرمائی کہ میں خود کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں ڈالوں ، اگر اسی طرح ہے جو تو چاہتا ہے تو میں اس شرط کے ساتھ قبول کروں گا کہ کسی کو کوئی عہدہ نہیں دوں گا اور نہ ہی کسی  کوعہدے سے معزول کروں گا اور کسی بھی قانون اور طور طریقہ کو تبدیل نہیں کروں گا۔
مامون نے ان شرائط کے ساتھ قبول کر لیا اور امام علی رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عہد بنا لیا۔