حضرت امام علی رضاؑ کی تاریخی ہجرت اور حدیث سلسلۃ الذھب
منگل , 04/27/2021 - 16:24

حضرت امام رضاؑ نے خلیفہ مامون عباسی کے بہت سے خطوط اور اُس کے نمائندوں کے بار بار حضرتؑ کے پاس رجوع اور اصرار پر مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا؛ اگرچہ آپؑ اس سفر سے کراہت رکھتے تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ اس مروّ کے سفر میں دار فانی کو وداع کہیں گے۔
اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے حضرت امام علی رضا علیہ السلام  اپنے نانا رسول خدا(ص) کو الوداع کہنے کے لئے چند بار قبر رسول اللہ(ص) کے نزدیک تشریف لائے اور آپؑ نے اس طرح کا رویہ اختیار کیا جس سے آپ کی اس سفر سے کراہت اورناپسندیدگی مکمل طور پر عیاں تھی؛ خدا حافظی کے وقت آپؑ نے بلند آواز سے گریہ فرمایا اور جب محوّل سیستانی نامی شخص نے آپؑ کو سفر پر روانگی کے حوالے سے مبارک باد دی تو حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:’’مجھے میرے حال پر چھوڑ دو! میں اپنے جدّ کے قریب سے جا رہا ہوں اور اسی عالم غربت میں دنیا سے چلا جاؤں گا‘‘۔
’’رجاء بن ابی ضحاک‘‘ جو کہ مامون عباسی کے دور حکومت میں وزیر خزانہ تھا ،مامون کی طرف سے مامور تھا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو مدینہ سے مروّ مامون کے پاس لے آئے اوراس سفر کے دوران حضرتؑ پر کڑی نظر رکھتے ہوئے بصرہ،اہوازاور فارس کے راستے سے سفر کرائے نہ کہ قم کے راستے سے(جس راستے میں شیعہ مومنین بڑی تعداد میں ساکن تھے)۔
اس سفر کے دوران جب امام علی رضا علیہ السلام شہرِ نیشاپور پہنچے تو اصحابِ حدیث کی کثیر تعداد ا ٓپ کے گرد جمع ہوگئی ،اُن میں محمد بن رافع،احمد بن حارث، یحیٰ بن یحیٰ اور اسحاق بن راہویہ جیسی شخصیات تھیں انہوں نے حضرتؑ کے ناقہ کی مہارپکڑلی اور عرض کیا: آپؑ کو اپنے پاکیزہ آباء واجداد کے حق کی قسم! ہمارے لیے اپنے والد گرامی کی کوئی حدیث بیان فرمائیں!
اُس وقت امام رضا علیہ السلام کی سواری رکی ،پردہ ایک طرف ہٹا اورمسلمانوں کی آنکھیں حضرتؑ کے جمالِ دلربا سے منور ہوئیں،پیغمبر اکرم(ص) کی مانند آپؑ کے سراقدس کے بال دونوں طرف شانوں پر پڑے ہوئے تھے،جن لوگوں نے آپ کے چہرہ اقدس کی زیارت کی ان پر ہیجانی کیفیت طاری ہوگئی،بعض گریہ و زاری کر رہے تھے اور بعض شدتِ شوق سے زمین پر گر گئے اور بعض آپؑ کی سواری کی مہار کو چوم رہے تھے؛یہی کیفیت طاری تھی کہ ظہر کا وقت ہوگیا ،بزرگ علماء اور قاضیوں نے بلند آواز میں کہا: اے لوگو!حضرت کی بات غور سے سنو،پھر حضرت امام علی رضا(ع) نے درحالانکہ چوبیس ہزار قلم لکھنے کے لئے تیار تھے،فرمایا: ’’میرے والد بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم(ع) نے جو خدا کے نیک اور شائستہ بندے تھے،مجھے خبر دی اور فرمایا: میرے والدگرامی حضرت جعفر بن محمد صادق(ع) نے مجھے خبردی اور انہوں نے فرمایا کہ مجھے میرے والد ابو جعفر محمد بن علی نے جو انبیاء کے علوم کو شکافتہ کرنے اور ظاہر کرنے والے ہیں انہوں نے فرمایا:مجھے خبر دی میرے والد بزرگوار حضرت علی بن الحسین(ع) نے جو عبادت گزاروں کے سید و سردار ہیں اور انہوں نے فرمایا : مجھے میرے والد گرامی حضرت امام حسین(ع) نے خبر دی جو جوانان جنت کے سردار ہیں اور انہوں نے فرمایا: مجھے خبر دی ہے میرے بابا حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اور انہوں نے فرمایا : میں نے پیغمبر خدا(ص) سے سنا کہ انہوں نے فرمایا: جبرائیل آمین نے مجھے خبردی کہ خداوند عالم فرماتا ہے:’’ لا الہ الا اللہ حصنی فمن قالھا مخلصا دخل حصنی و من دخل حصنی امن من عذابی‘‘ یعنی کلمہ لا الہ اللہ  میرا قلعہ ہے ،جس نے بھی خلوص دل کے ساتھ یہ کلمہ پڑھا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوگیا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوگیا وہ عذاب سے امان میں آگیا۔‘‘ (یہ کہنے کے بعد) حضرت کی سواری تھوڑی آگے چلی اور پھر رکی تو حضرتؑ نے بلند آواز سے فرمایا:’’اس کلمہ کی کچھ شرائط ہیں جن میں سے ایک شرط میں(علی بن موسیٰ الرضاؑ) ہوں۔