شب قدر ؛ امامت و ولایت کی شب ہے
ہفتہ , 05/01/2021 - 15:08
شب قدر ؛ امامت و ولایت کی شب ہے
شب قدر کو شب امامت اور ولایت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ خود قرآن کہتا ہےکہ اس رات میں فرشتے ، ملائکہ اور ملائکہ سے اعظم ملک روح بھی نازل ہوتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنا ضروری ہے کہ نازل ہوتے ہیں ، نازل ہوئے نہیں۔

کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے : > تنزل فعل مضارع ہے یعنی نازل ہوتے ہیں نازل ہوئے نہیں کہا گیا ہے۔ تو یہ جاننا ضروری ہے کہ کس پر نازل ہوتے ہیں۔ آپ اور مجھ پر تو فرشتے نازل نہیں ہوتے ہیں۔ پیغمبر( اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تو آنحضرت پر نازل ہوتے تھے آنحضرت کے بعد کس پر نازل ہوتے ہیں؟۔
ظاہر سی بات ہے اس پر نازل ہوں گے جو پیغمبر(ص) کے بعد پیغمبر(ص) کا جانشین ہوگا ، جو معصوم ہوگا ، جو صاحب ولایت ہو گا۔جی ہاں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام پر نازل ہوتے تھے اور حضرت علی علیہ السلام کے بعد حضرت حسن مجتبی اور آپ کے بعد حضرت حسین اور آپ کے بعدحضرت علی زین العابدین اور آپ کے بعد حضرت محمد باقر اور آپ کے بعد حضرت جعفر صادق اور آپ کے بعد حضرت موسی کاظم اور آپ کے بعد حضرت علی الرضا اور آپ بعد حضرت محمد جواد اور آپ کے بعد علی النقی اور آپ کے بعد حسن عسکری علیہم السلام اور آپ کے بعد قطب عالم امکان مھدی آخر الزمان (ارواحنافداہ) کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں > اور انسانوں کے سال بھر کے مقدرات بیان کرتے ہیں۔
اس لئے ہمیں چاہئے کہ اس رات کو پا لیں ایک رات میں عمر بھر کی عبادت کا ثمرہ پا سکیں گے۔ کیونکہ اللہ نے شب قدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے ۔
اللہ نے انسان کو اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا اختیار خود انسان کے ہاتھ دیا ہے وہ سعادت کی زندگی حاصل کرنا چاہے گا اسے مل جائے گی وہ شقاوت کی زندگی چاہے گا اسے حاصل ہو جائے گی۔ > (یونس:23) لوگو! اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ تمہاری سرکشی صرف تمہیں نقصان پہچائے گی۔ جو کوئی سعادت کا طلبگار ہے وہ شب قدر میں صدق دل کے ساتھ اللہ کی بار گاہ میں توبہ کرے، برائیوں اور برے اعمال سے بیزاری کا عہد کرے گا۔
اللہ سے اپنے خطاؤں کے بارے میں دعا اور راز و نیاز کےذریعہ معافی مانگے گا یقینا اس کی تقدیر بدل جائے گی اور امام زماں (ارواحنا فداہ) اس تقدیر کی تائید کریں گے۔
شب قدر کے بارے میں اللہ نے تریاسی سالوں سے افضل ہونے کے ساتھ ساتھ اس رات کو سلامتی اور خیر برکت کی رات قرار دیا ہے۔ > اس رات میں صبح ہونے تک سلامتی ہی سلامتی ہے اس لئے اس رات میں انسان اپنے لئے دنیا اور آخرت کے لئے خیر و برکت طلب کرسکتا ہے۔
اگر دل کو شب قدر کی عظمت اور بزرگی کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جس شب کے بارے میں اللہ ملائکہ سے کہہ رہا ہے کہ جاو اور فریاد کرو کہ کیا کوئی حاجب مند، مشکلات میں مبتلا ، گناہوں میں گرفتار بندہ ہے جسے اس شب کے طفیل بخش دیا جائے ؟ اگر اس نقطے کی طرف توجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ یہ رات ایک عمر بھر کی مخلصانہ عمل سے افضل ہے۔
شب قدر میں شب بیداری کی بہت سفارش کی گئ ہے۔مگر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ شب بیداری میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو اگر گناہ کی گنجایش ہے تو پھر سونا ہی بہتر ہے۔ شب قدر میں نماز اور قرائت قرآن کا خاص اہتمام ہونا چاہئے۔ شب قدر میں حسب توان نماز اور تلاوت قرآن کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ اس رات میں سو رکعت پڑھنے کی خاص سفارش کی گئ ہے۔ قرآن کے ساتھ انس و محبت اور تلاوت بھی بہت ضروری ہے۔ پیغمبر اکرم (ص)اور ائمہ معصومینؑ قرآن کی تلاوت کرنے کی بہت زیادہ تاکید کیا کرتےرہے ہیں کہ قرآن کی تلاوت کیا کریں اور اس کے سائے میں اپنے آپ کو محفوظ کریں۔
تمام قارئین سے درخواست ہے کہ اگر انیس کی رات کو پانے میں کوتاہی ہوئی ہو یا اکیس کی رات میں کوتاہی ہوئی ہو توتیس کی رات کو پانے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ تییس 23 کی رات انیس اور اکیس سے افضل ہے۔ ان تین شب قدروں میں اسی رات کو زیادہ احتمال دیا جاتا ہے۔ اس رات میں ہر انسان کی ھدایت اور امام کے ظہور کے لئے دعا کریں۔
اللھُمَّ عَجِّل لِوَلِیِّکَ الفَرَجَ
تحریر: آغا سید عبدالحسین بڈگامی

 

اہم الفاظ :