حضرت امام خمینی(ح) اور رہبر انقلاب اسلامی کے سیاسی افکار سے آشنائی کے لئے اجلاس کا انعقاد

جمعرات , 07/28/2022 - 10:50
حضرت امام خمینی(ح) اور رہبر  انقلاب  اسلامی کے سیاسی افکار سے آشنائی کے لئے  اجلاس کا انعقاد
آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے شعبہ انساب و مفاخر کے سربراہ نے عرفان اسلامی کو حضرت امام خمینیؒ کے فکری نظام کا مرکز قرار دیا ہے ۔

سفیران رضوی کے چھٹے کورس کی تعلیمی ورکشاپس کے تحت حضرت امام خمینیؒ اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے سیاسی افکار سے آشنائی اور واقفیت حاصل کرنے کے مقصد سے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے شیخ طوسی ہال میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا ،یہ اجلاس عراق کی  اہلسنت والجماعت کے اہل سنت آئمہ جمعہ و جماعت اور  ثقافتی شخصیات      کی شرکت اور آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کے شعبہ بین الاقوامی کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں  معروف محقق  غلامرضا جلالی نے خراسان میں تصوف و عرفان اور تشیع کے درمیان رابطہ پر گفتگو کی ۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام خمینی(رح) نے نجف اور تہران کے مکتب کو ملاکر اسلامی انقلاب کی بنیاد رکھی،لیکن اس انقلاب کی اصل عرفان و تصوف تھا اور عرفانی افکارکو بھی اس سے بہت زیادہ مدد ملی ہے ۔ 
معروف محقق غلام رضا جلالی  نے شیعوں کے تاریخی  حالات اور  تحریک کا ذکرتے ہوئے   کہا کہ ایران پر غیرملکیوں کی طویل حکمرانی کے بعد دس ہجری میں صفویوں نے ایران میں شیعہ مذہب کی بنیاد پر ایک مستقل شیعہ اور ایرانی ریاست کی بنیاد رکھی، صفوی خاندان کے اقتدار میں آنے کے بعد شیعہ  حریکیں جو صوفیوں    کے ذریعہ چلائی جاتی تھیں ان میں بہت زیادہ تبدیلیاں آئیں۔ 
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صفوی خاندان اپنے آپ کو ارشد اعظم سمجھتے تھے کہا کہ اسلام کے بعد ایرانی تاریخ میں صفویوں کا دور حکومت ایک اہم تاریخی موڑ ہے ، اغیار  کی طویل عرصہ کی حکمرانی کے بعد ایران دوبارہ سے مشرق میں ایک اسلامی طاقتور اور خودمختار ریاست میں تبدیل ہو گیا۔ 
انہوں نے   کہا کہ صفویوں کے دورحکومت کے بعد یعنی قاجاریوں کے دور حکومت میں صوفی مکتب ایران کے چند شہروں جیسے تہران، اصفہان،شیراز اور مشہد وغیرہ میں موجود تھے اور یہ صوفی مکاتب آپس میں رابطے  میں تھے اصفہان میں ایک اہم شخصیت  جو صوفی مکتب سے متاثر تھی وہ ملا حسین ہمدانی تھے 
انہوں نے بتایا کہ حضرت امام خمینی(رح) جن شخصیات سے عرفان اسلامی میں متاثر تھے ان میں سے ایک مرحوم محمد علی شاہ آبادی تھے ، ابن عربی کی فصوص الحکم پر حضرت امام خمینی(رح)کی شرح اور تعلیق؛ مرحوم شاہ آبادی سے متاثر ہو کر تحریر کی گئی۔